تلاجا کے سحر انگیز کھنڈرات 180

تلاجا کے سحر انگیز کھنڈرات

اللہ تعالی نے ہر شے کو فطرت کے ساتھ پیداکیا ہے جیسے پانی کی فطرت ہے کہ بلندی سے پستی کی جانب بہتا ہے اگ کے شعلے ہمیشہ اوپر کی جانب ا بھرتے ہیں کچھ ایسی ہی فطرت انسان کی بھی ہے

چاند پر جانے کے شوق نے کون کون سے مراحل طے کروائے ہیں ہم چاند پر تو نہ جاسکے نہ شوق ہی رکھتے ہیں شمالی علاقہ جات سے واپسی پر نیشنل ٹورزم پاکستان کے عہدیداران جناب ڈاکٹر میاں ذیشان شھزاد رضوان اسلم چوہدری غلام رسول طاہر سے ملنے اسلام آباد پڑا کیا رات کو خوب گپ شپ رہی

اور اس میں ہی پنجاب کی ایسی وادی گھومنے کا پروگرام بنا جو قدیم زمانے سے منسوب بھی ہے اورسکندر اعظم اور مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر سے بھی تانے بانے ملتے ہیں ارد گرد کے لحاظ سے یوں بھی منفرد ہے

کہ یہاں برف باری بھی ہو جاتی ہے ارادہ مصمم بن گیا چادر تانی اور منزل کے خیالو ں میں سونے کا پتا ہی نہیں چلا وادی کی پراسراریت دیکھنے کے شوق نے صبح سویرے اٹھا دیا منہ ھاتھ دھویا پر تکلف ناشتے سے فارغ ہوئے

جسکا اہتمام ہمارے دوست میاں ذیشان شھزاد کی طرف سے تھا سفر کی تیاری کی اور جیسے پرندے صبح سویرے اپنے گھونسلوں کو چھوڑ کر محو پرواز ہوتے ہیں ہم معظم فیاض کی گاڑی پر اپنا سامان لاد کر دوستوں سے رخصت ہوئے

ڈاکٹر صاحب کی میزبانی کاشکریہ ادا کیا اس کی ضرورت تو نہ تھی کیونکہ بے تکلف دوستی اور سیاحت کا اپنا ہی مزہ ہے سفر کا آغاز دعاں سے ہوا رفتہ رفتہ اسلام آباد کو خدا حافظ کہا اور موٹر وے پر رواں دواں تھے

موسم کی اٹھکیلیاں جاری تھیں معظم فیاض کی ڈرائیونگ میں لطف اندوز ہوتے ہوئے تقریبا130 کلومیٹر کا سفر طے کرکے کلرکہار سے موٹر وے چھوڑنے ہوئے وادی سون کارخ کیا جو خوشاب کی ایک تحصیل ہیہم خوشاب روڈ پر مختلف مناظر دیکھتے ہوئی سفر جنوں پر گامزن تھے

کہ کلر کہار سے تقریبا22کلومیٹرپر پیر کچھی والا کی رہنمائی والا بورڈ آیا گویا منزل قریب تھی گاڑی رہنمائی والی سمت مڑی جو قدرے چھوٹا راستہ تھا مگر گاڑی اور موٹر سائیکل کا راستہ ہیگاڑی دربار کچھی شریف پر چھوڑی اور سفر ذوق اور منفرد طرح کی ہائیکنگ شروع ہوئی

چلنے سے پہلے زاد راہ ساتھ لے لیا یعنی کھانے پینے کی اشیا جس کی رہنمائی مل چکی تھی راستہ پتھریلا تھا بہتر تھا مگر گھنی جھاڑیوں میں چھپ رہا تھا جھاڑیوں کے گھنے ہونے کے باعث راہ میں چلتے ہوئے دقت ہورہی تھی جنگلی حیات سے بھی ڈر لگ رہا تھا

جانے کس وقت سور یا کوئی اور جانور سے واسطہ پڑ جائے ہائیکنگ جاری تھی بلندی کی جانب سفر جاری تھا کہیں کہیںPTDCکے رہنمائی کے بورڈ بھی جھاڑیوں کی اوٹ سے جھانکتے نظر آرہے تھے

جی ہم قدیم شہر گمنام تلاجا کی جانب گامزن تھے جو بڑی سی ہموار چٹان پر واقع ہے اس علاقہ کو نمک کے پہاڑی سلسلے اور پوٹھوہار نے دور تک کمان کی صورت حصار میں لے رکھا تھا تلاجا کے بارے میں کہا جاتا ہے

کہ یہ علاقہ تقریبا 5000سال پرانی داستان کا امین ہے یہ علاقہ دفاعی اعتبار سے بڑا محفوظ گردانا جاتا تھا بالکل پہاڑکی چوٹی پر واقع دور سے ہی دیکھائی دیتا ہے ہم منزل کے قریب تھے سانس پھول رہا تھا جنون عروج پر تھا

کہ سامنے نیچے کی جانب میدانی نظارے دیکھتے ہوئے سبزہ اپنی ہریالی پر نازاں دیکھائی دے رہا تھا یہ علاقہ دفاعی دیواروں حجروں جن کی تعمیر میں چٹانوں کے بڑے اور بھاری بھرکم پتھروں سے ہوئی تھی پر مشتمل ہے اس بستی میں جانے کا ایک ہی غارنما راستہ تھا

جو گول اور چوڑے چکنے پتھروں پر مشتمل تھاراہ میں قبر نما نشانات ملے جن سے اس جگہ بسنے والوں کی جسامت قد کاٹھ کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہیسامنے غار نما واحد راستہ تھا جس سے حفاظتی بندوبست کا اندازا لگایا جاسکتا ہے

غار میں گھستے ہوئے ڈر لگ رہا تھا مگر غار میں گھسنے کے بعد احساس ہوا کہ کھنڈرات اچھی خاصی بستی کا پتہ دے رہے تھیشہر ویراں کادورہ شروع ہوا بلندی پر یہ کھنڈرات اپنے اندر کی کہانی کے غماز تھے

جس کو ہمارے ناقص ذہن سمجھنے سے عاری تھے مگر یہ احساس دل کو تقویت بخش رہا تھا کہ یہاں تک پہنچنے والے دل دہلانے والے مقام اور ایڈونچر کے مداح سیاحوں کی مختصر فہرست میں ہمارا نام بھی شامل ہوگیاکھڈرات سے محسوس ہوتا تھا

کہ جن پتھروں سے ان حجروں کی تعمیر کی گئی تھی وہ معمولی نہ تھے ایک پتھر کی سل تقریبا 10 یا12 فٹ لمبی ڈیڑھ سے دو فٹ چوڑی تھی نجانے اس وقت 0 طے ییییییییکے تعمیر کرنے والوں نے کس طرح استعمال کی ہوگی

اور اس بلندی پرعقل حیران ہوتی جارہی تھی بڑے بڑے پتھر شاید پہاڑ کی چٹانوں کو تراش کر استعمال کرتے تھے شاید یہی وجہ تھی جو ایک ہموار میدان بھی نظروں میں منعکس ہو کر رہ گیا ہمیں ایک مربع شکل میں پانی کے بغیر تالاب سابھی دیکھنے کو ملا

جو یقینا محاصرے کے مقابلے کے ایام میں پانی کے ذخیرے کا کام دیتا ہوگا جوں جوں وقت گزر رہا تھا عقل محو تماشہ تھی ہمیں جوحجرہ نما کھنڈرات دیکھنے کو ملے وہ ایسے لگتا ہے کہ فیملی کے لئے ایک ایک کمرے پر مشتمل ہیں

اسی بھول بھلیوں میں کچھ فوسل بھی دیکھنے کو ملے چھوٹی بڑی ہڈیاں جانوروں کی لگتی تھیں کمال کی بات کچھ پرانے برتنوں کی باقیات بھی ہماری دلچسپی میں اضافے کا باعث بنیں ان سے ملتے جلتے نقش نگار والے برتنوں کی باقیات ٹیکسلا کے میوزیم میں دیکھے جاسکتے ہیں

یہ کیا ایک پتھر جو کسی شے کا ڈھکن معلوم ہوتا تھا بیچ میں بالکل گول سوراخ تھا بالکل ایسا ہی پتھر میں نے بت کڑا سوات میں دیکھا تھا جو پانی پر ڈھکنے کے لئے استعمال ہوتا تھا کمال یہ ہے کہ یہ پہیے کی ایجاد سے واقف تھے

تبھی تو گول سوراخ تھا یہاں بھی تالاب جنگ کے ایام میں پانی ذخیرہ کرنے کے کام آتا تھا جو ہم نے یہاں تالاب دیکھا مگر سمجھ نہیں آتا کہ پانی آتا کہاں سے تھا اس چوٹی پر لگتا ہے بارش کا پانی ذخیرہ کرتے ہونگے

یہاں حجرات وغیرہ لگ بھگ 200 کے قریب یا کچھ زیادہ ہونگے ہمیں ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہم بھی اس قدیمی تہذیب سے متصل ہیں کافی گھومنے کے بعد بھوک کا احساس بڑھا معظم بھائی سے پٹاری کھولنے کو کہا فروٹ اور برگر وغیرہ کھائے

کچھ چنے اور ڈرائی فروٹ سے واپسی کے لئے جیبیں بھریں واپسی کی راہ لیتے ہوئیاس دیو مالائی داستانوں کے تخیلی مالاگلے مین ڈالے اترنا شروع کیا کہ معظم صاحب نے اس ڈھلوانی میدان کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ

یہ جگہ اپنے سحر کی بدولت یوں معلوم ہوتی ہے جیسے یہاں مردوں کی باقیات ہیں بڑی اہم توجہ دلوائی معظم بھائی نے ایسا ہی تھا طرح طرح کے پرندے ہمیں اپنی اڑان کے ذریعے پروں سے پیدا ہونے والی آواز سے جیسے الوداع کہہ رہے ہوں

ہم سب نے بلند آواز میں اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو بازگشت نے اس سناٹے کے ماحول میں ارتعاش پیدا کر کے جیسے جلترنگ بجا دیا ہو تاریخ کے دریچے میں جھانکنے کے بعد ہماری یادوں کے اوراق میں اک پر شکوہ باب کا اضافہ ہونے جارہا تھا

سفر ابھی جاری ہے یہ تو وادی سون کا اک لمس ہے ہم نے نوشہرہ کا رخ کیا جو تحصیل وادی سون کی سب تحصیل کا درجہ رکھتا ہے ہائیکنگ کی وجہ سے تھکاوٹ چہروں سے تو عیاں تھی مگر تاریخ کے اوراق پلٹنے پر پھولے نہیں سمارہا تھا

ہو سکتا ہے تلاجہ کے کھنڈرات میں تاریخ اپنے بہت سے راز سمیٹے ہوئے ہو مگر ہم ان رازوں سے جمی گہری دھول ہٹانے سے محروم ہی رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں