احساس غریباں 103

احساس غریباں

آخرِ کار وزیر اعظم کو غریبوں، ناداروں، بے سہاروں، بے آسروں، لاوارثوں، بھوکوں،مفلسوں، کمزوروں اور بیچاروں کا احساس ہو گیا اور انہیں معلوم ہو گیا یا سمجھ آگئی کہ مہنگائی بہت ہو چکی ہے

جس کی وجہ سے آخری نوالہ جو پی پی پی ون لیگ اور ان کے اتحادیوں سے بچ گیا تھا وہ بھی پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں غریبوں کے منہ سے چھن چکا ہے اس لئے وہ نوالہ تو انہیں واپس کر دیا جائے۔

2008 سے 2013 کے دوران عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا اور مہنگائی بے تحاشا بڑھ گئی تھی مگر حکومت لسبڈی دے کر عام آدمی کو ریلیف دے رہی تھی۔

2013 سے 2018 کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سابق سطح پر آگئیں تو اشیاء خورد ونوش بھی سستی ہو گئی تھیں، مگر پی ٹی آئی کے ڈیڑھ برسوں میں بین لااقوامی مارکیٹ میں تیل کے نرخ کم ہوئے

تو عمران خان اپنا یہ تاریخی جملہ ”حکمران اپنی عیاشیوں کے لئے ٹیکس لگاتے ہیں اس لئے مہنگائی ہوتی ہے” بھول گئے۔ رپے کی قدر بے دریغ گھٹا دی، تیل بجلی اور گیس کے نرخ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق زیادہ سے زیادہ بڑھائے جا رہے ہیں۔

جس کی وجہ سے بیداواری لاگت بڑھ گئی، رسل ورسائل کے اخراجات میں اضاف ہو جائے گا، اس پر مستزاد یہ کہ پہلے سے عائد کردہ ٹیکسز کی شرح بڑھا دی گئی اور نئے محصولات لگا دیئے گئے حتی کہ اشیاء خورد نوش پر بھی ٹیکسز کا نفاذ کر دیا گیا۔

بجلی، گیس اور آٹا مہنگا کر کے تندور والے سے یہ امید رکھنا کہ وہ روٹی کی قیمت نہیں بڑھائے گا احمقانہ سوچ ہے اور اگر جبری طور پر اسے قیمت میں اضافے سے روکا جائے گا تو ناانصافی وزیادتی ہو گی۔ وہ نقصان اٹھانے کی بجائے اپنا کاروبار بند کر دے گا۔

بجلی وگیس اور تیل کے نرخوں میں آئے روز اضافہ کر کے غلہ سستا کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا، قومی مقامات اور اوقات میں یوٹیلٹی اسٹورز سمیت دیگر ذرائع سے اکثریتی غربت زدہ شہریوں کو قطعا فائدہ نہیں پہنچایا جا سکتا۔

بالواسطہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ غریب ونادار اور مفلس وکمزور لوگوں پر برابر پڑ رہا ہے جبکہ سرکاری سہولیات سے امراء بھی برابر فیضیاب ہوتے ہیں حالانکہ حدیث شریف کا مفہم ہے کہ زکوة امیروں سے لی جائے گی اور غریبوں میں تقسیم کی جائے گی۔

اگر عقل سے کام لیا جائے تو اکثریتی غریب عوام دور دراز دیہی اور پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں وہ بیچارے تو یوٹیلٹی اسٹورز کیا عارضی پوائنٹس تک بھی رسائی نہیں رکھتے اور جو تھوڑے سے غریب رسائی رکھت یہیں وہ تازہ مزدوری کر کے روزانہ کے حساب سے دس دس، بیس بیس روپے کی چیزیں خرید کر دو وقت کی روٹی اور ناشتے کااہتمام کرتے ہیں۔

ان کے پاس کو کھانسی، نزلہ، زکام اور بخار کا علاج کرانے کے پیسے نہیں ہوتے وہ یوٹیلٹی اسٹورز سے روزمرہ اشیاء خریدنے کے لئے اکٹھے پیسے کہاں سے لا سکتے ہیں؟ ساتھ لوگوں کو صحت کارڈز دے کر سرکاری اسپتالوں میں دی جانے والی طبی سہولتوں کا معاوضہ مقرر کر کے جو تیر مرا گیا ہے

وہ شرمناک والمناک ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز سے سستا راشن خریدنے کے لئے جاری کردہ کارڈز سے بھی افلاس زدہ لوگ مستفید نہیں ہو سکتے۔ بجلی وگیس کی لوڈ شیڈنگ عروج پر اور بلوں کا بوجھ بڑھانا موجودہ حکومت کا عظیم کارنامہ ہے۔

عوام کو بلاامتیاز لوٹ کر بھی آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہیں ہو رہیں، جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ بجلی، گیس اور تیل کے نرخوں میں مسلسل اضافے سمیت ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جاتا رہے گا اور آئندہ بجٹ بھی عوامی نہیں آئی یم ایف زدہ ہو گا۔

افسوس سابق حکمران قرضے لے کر ریلیف دیتے رہے اور آپ موجودہ حکمران وہی عمل کر کے عوام کا ہی خون چوس رہے ہیں۔ مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے کے مصداق خلقِ خدا بھوک سے مر رہی ہے اور حکمران ”گھبرانا نہیں” کا جھانسہ دے

کر یہ خوشخبری بھی سنا رہے ہیں کہ ”سکون توقیر میں ہے” غریبوں کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی اور متوسط طبقہ غریب ہو گیا، اگر غریبوں کی نعشوں پر نیا نظام قائم کرنا ہے تو دشمن کیخلاف استعمال نہ ہونے والا ایٹم بم غریبوں پر گرا دو تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، آپ نے تو ریاست مدینہ کا نام بھی ڈبو دیا ہے،

جانی امرار، سئرکلفٹن اور اسحاق ڈار کی رہائشگاہ کو پناہ گاہ ضرور بنا دیجئے، مگر رسول اللہ ۖاور خلفاء راشدین کی مثل بنی گام اور اپنے جاگیردار وسرمایہ اور کارخانہ دار وزیروں ومشیروں کی رہائشگاہیں سکیڑ کر وہاں بھی بے

گھروں کے لئے گنجائش پیدا کرا لیجئے۔ احساس غریباں جاگ گیا ہے تو کچھ ایسی منصوبہ بندی کیجئے اور ایسی حکمت عملی تشکیل دیجئے کہ نعروں، وعدوں، دعوؤں اور اعلانات کا فائدہ صرف اور صرف مستحق، ضرورت مند، حقدار اور حاجت مند شہریوں کو ہی پہنچے، ورنہ آپ کے نام نہاد جمہوری دور میں بھی کرپشن کم نہیں ہو رہی۔ سابقین کے مانند آپ کے دعوے بھی نقش برآب ہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں