جگ لٹیرے 124

جگ لٹیرے

ویسے تو اردو میں لٹیرے وہ لوگ کہلاتے ہیں جو سادہ لوح عوام کو لوٹ لیتے ہیں اور پتہ بھی چلنے نہیں دیتے مگر میں آج ان لٹیروں کا ذکر بالکل نہیں کر رہا اگر آپ ان لٹیروں کو جاننا چاہتے ہیں

تو شام سات بجے سے رات گیارہ بجے تک ہمارے ملک کے ٹی وی چینل کھول کے بیٹھ جائیں آپ کو ملک کے کونے کونے سے تعلق رکھنے والے لٹیروں کا پتہ چل جائے گا۔

آپ حیران ہونگے کہ اردو میں لوٹنے کا لفظ صرف منفی کاموں کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ مثبت اور رومینٹک کاروائیوں میں استعمال ہوتا ہے۔

میرا آج کا کام منفی قسم کی مخلوق کے لیے نہیں ہے کہ وہ کیا کیا چیز لوٹ لیتے ہیں بلکہ میں تو آج ان جگ لٹیروں کی بات کرونگا جن سے لٹ کر عوام الٹا مرزا غالب کی طرح دعا دیتے ہیں۔ غالب نے کہا تھا نہ لٹتا دن کو تو یوں کیوں رات کو بے خبر سوتا۔۔رہا

کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو ۔۔۔۔ میں نے اوپر جو جگ لٹیرے عنوان رکھا ہے سرائیکی کی شاعری اور گیتوں کی ایک صنف ۔۔بگڑو ۔۔ سے لیا ہے۔ بگڑو ویسے تو اس زبان میں پھولوں کے ہار کو کہتے ہیں لیکن ایسی شاعری جس کا ایک بند تو بے معنی ہو

اور دوسرا بہت اعلی درجہ کا مطلب رکھتا ہو بگڑو کہلاتا ہے۔ جگ لٹیرے کچھ اس طرح استعمال ہوا ہے تیڈے کھو تے آئی ہاں ساوے کریلے ۔۔ تساں لٹیا سانوں اساں جگ لٹیرے۔۔۔مطلب یہ ہے کہ لڑکی کہ رہی ہے

کہ میں تمھارے کنویں کی زمینوں پر سبز تازہ کریلے لینے آئی تھی مگر اے محبوب تمھاری وجاہت اور خوبصورتی کے ہاتھوں دل دے بیٹھی اور لٹ گئی حالانکہ میرا اپنا حسن اتنا زیادہ ہے کہ پورے جگ یعنی دنیا کو میں حسن کی چمک سے لوٹ سکتی ہوں۔

خیر میں نے آج اپنے دوست اور بین الاقوامی شاعر رحمت اللہ عامر کی بات کرنی ہے جو اسی ہفتے خصوصی طور پر کراچی ایک بڑے مشاعرے میں بلاے گیے اور وہ مشاعرہ لوٹ کر واپس ڈیرہ لوٹ آے۔رحمت اللہ عامر صاحب زیادہ طور مزاحیہ شاعری کرتے ہیں

جو سماجی برائیوں پر ایک نشتر کا کام کرتی ہے۔ ان کے کراچی کے مشاعرے میں پڑھے گیے اشعار آپ کو پیش کرتا ہوں ۔ جوانی میں حسینہ مانگتا ہے ۔۔۔میسر ہو تو پینا مانگتا ہے۔۔۔اترتا ہے نشہ جب آدمی کا۔۔بڑھاپے میں مدینہ مانگتا ہے۔۔۔

پھر کہا تھی جوانی تو پاپ سنگر تھے۔اب بمشکل قدم اٹھاتے ہیں۔لے کے باجا کباڑخانے سے۔۔صوفیانہ کلام گاتے ہیں۔ اگلا قطعہ ہیرضائی میں بھی جن کے چہرے نور سے چمکتے ہیں۔۔ہمارے ملک میں وہ صاحب ایمان ہوتے ہیں۔

ہماری بات سن کر اہل دانش نے یہ فرمایا۔۔ کہاں کا نور چہرے کا موبائیل آن ہوتے ہیں۔۔رحمت اللہ عامر نے کراچی کی خواتین سے معذرت کرتے ہوے یہ اشعار کہے وہ میک اپ کرنے سے اتنی فائین لگتی ہے ۔۔۔

کہ ففٹی ایٹ58 ہو کر بھی ٹوینٹی نائین 29لگتی ہے۔۔۔بھلی لگتی تو ہوگی تاڑنے والوں کو اے عامر ۔۔مگر بیوی تو شوھر کو عموما ڈائین لگتی ہے۔ چونکہ کراچی کا یہ مشاعرہ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ہوا تھا

تو سب سے پہلے انہوں نے کشمیر کے حوالے سے یہ اشعار پڑھے روز اول سے دم تحریر تک ۔۔سب کے سب محدود ہیں تقریر تک ۔۔۔ ظلم کے ہیں سلسلے محو سفر ۔۔ کربلا سے وادی کشمیر تک۔۔یہ جو کشمیر ڈے منایا ہے۔۔

سچ بتاو کہ کتنا کھایا ہے۔۔ ایک مدت سے صرف باتیں ہیں ۔۔ایک مدت سے کون آیا ہے ۔۔اس طرف کشمیر میں بچے لہو سے تر بتر ۔۔ اور ہم گفتار کے غازی آدھے اِدھر آدھے ادھر
۔بھنگ پی کر سو رہے ہیں

وارثان قبلہ تین۔۔ نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر۔ تو جناب ہم رحمت اللہ عامر صاحب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کراچی میں ڈیرہ اسماعیل خان کا نام روشن کیا ۔شاباش۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں