ماں کی لاش 10 سال تک فریزر میں رکھنے کا انکشاف 85

ماں کی لاش 10 سال تک فریزر میں رکھنے کا انکشاف

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھائی بہن کی جانب سے اپنی ماں کی لاش تقریباً دس سال تک گھر کے ڈیپ فریزر میں رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے متوفی خاتون کے بھائی محبوب کو حراست میں لے لیا ہے۔

واقعہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 11 میں کریسینٹ اپارٹمنٹس میں پیش آیا ہے۔

فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ انھیں کچرے سے برہنہ حالت میں 62 سے 65 سالہ عورت کی لاش ملی تھی جو 10 سے 12 سال پرانی ہے اور گل سڑ چکی ہے۔

ادارے کے مطابق لاش کی اطلاع پولیس کو دی گئی اور اب یہ لاش ایدھی سرد خانے میں موجود ہے۔

انڈیا: ’بیٹے نے تین سال تک ماں کی لاش فریزر میں رکھی‘

ایس ایس پی تنویر عالم اوڈھو کے مطابق ایک شخص کچرے میں انسانی ڈھانچہ پھینک رہا تھا، تو شہریوں کی شکایت پر پولیس نے اس کو تحویل میں لے لیا جس کی شناخت محبوب کے نام سے ہوئی ہے۔

ان کے مطابق ’محبوب نے بتایا ہے کہ یہ لاش اس کی بہن ذکیہ زیدی کی ہے جو دس گیارہ سال قبل انتقال کر گئی تھیں، لیکن ان کی بیٹی اور بیٹے نے لاش دفنانے کے بجائے گھر کے ڈیپ فریزر میں رکھ دی تھی۔‘

محبوب نے پولیس کو مزید بتایا کہ ان کا بھانجا اور بھانجی فلیٹ میں اکیلے رہتے تھے اور دونوں غیر شادی شادہ تھے۔ کچھ ماہ قبل ان کا بھی انتقال ہوگیا۔

پڑوسیوں نے شکایت کی کہ فلیٹ سے بو آرہی ہے جس کے بعد انھوں نے آکر دیکھا کہ لاش فریزر میں موجود تھی تو انھوں نے وہاں سے پھینک دی۔

اپارٹمنٹ کی رہائشی یونین کے صدر دانش کریم نے ذرائعِ ابلاغ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ذکیہ زیدی کو 2008 کے بعد سے نہیں دیکھا گیا وہ ٹیچر تھیں اور ان کے دو بچے تھے۔

دانش کے مطابق ان کے بیٹے قیصر ان کے ساتھ کرکیٹ کھیلا کرتے تھے، بعد میں جب ان سے والدہ کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو وہ بدتمیزی سے پیش آتے تھے اس لیے ان سے کوئی سوال نہیں کرتا تھا۔

یونین کے صدر عباس سکندر کا کہنا تھا کہ بہن بھائیوں کی سرگرمیاں مشکوک تھیں جب بھائی اورپر جاتا تو بہن نیچے انتظار کرتی تھی اور جب بہن جاتی تھی تو بھائی انتظار کرتا تھا وہ ایک سے ڈیڑہ گھنٹہ وہاں موجود رہتے تھے۔

پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ہے۔

ایس پی گلشن شاہنواز چاچڑ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے واضح ہوگا کہ عورت کی موت طبعی تھی یا انھیں ہلاک کیا گیا تھا۔

لیکن ان کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ کوئی نفسیاتی معاملہ ہوگا ’کیونکہ اگر قتل کرتے تو لاش رکھنے کا جواز نہیں تھا۔‘

ایس ایس پی تنویر عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ پڑوسیوں نے پولیس کو بتایا کہ بہن اور بھائی کا ذہنی توازن بھی درست نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں