گدھی کے دودھ سے بنا پنیر اتنا مہنگا کیوں 49

گدھی کے دودھ سے بنا پنیر اتنا مہنگا کیوں

’اس کا ذائقہ بہت ہی غیرمعمولی ہے جس کا تجربہ آپ کو کسی دوسرے کھانے کے ساتھ نہیں ہو گا۔‘

یہ الفاظ ہیں سربیا کی علاقائی پارلیمنٹ کے سابق ممبر سلوبوڈان سیمک کے جو گدھے کے دودھ سے تیار کردہ پنیر کے ذائقے کو بیان کر رہے ہیں۔

یہ خاص پنیر بہت ہی محدود مقدار میں میسر ہے۔ سپلائی اتنی محدود ہے کہ اس پر آپ کے 1,000 یوروز، 1,100 ڈالرز فی کلو لاگت آئے گی۔

گاہگ
سیمک کہتے ہیں ’ہم 50 گرام کی کے پیکٹ بناتے ہیں، یہ دس لوگوں کے لیے کافی ہے۔ میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی بھی اس پنیر کا آدھا کلو یا ایک کلو کھا سکتا ہے۔‘

سیمک کہتے ہیں کہ وہ ہر سال صرف 50 کلو گرام پنیر بناتے ہیں اور ڈیری مصنوعات سے متعلق قواعد و ضوابط کی وجہ سے انھیں اسے برآمد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image caption
50 گرام چيز کا پیکٹ دس لوگوں کے لیے کافی ہے
لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا بھر کے دولت مند لوگ ان کی انوکھی مصنوعات کو خریدنے کے لیے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر انھیں ملائیشیا کے ایک امیر آدمی کو 15 کلوگرام پنیر بیچنا یاد ہے۔

تو یہ انتی مہنگی کیوں ہے؟

خفیہ فارمولا

دنیا کے بہت سے ممالک میں گدھوں کو بڑے پیمانے پر نقل و حمل اور زراعت کے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بہت سی جگہوں پر گدھے کا دودھ استعمال کیا جاتا ہے تاہم اس دودھ سے پنیر بنانا مشکل ہے۔

گدھے گائیں کے مقابلے میں کم دودھ دیتے ہیں اور ایک لیٹر پنیر کے لیے 25 لیٹر دودھ کی ضرورت ہوتی ہے
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کیسین نامی عنصر شامل نہیں ہوتا ہے جو ایک پروٹین ہے اور دودھ کو پھُٹکی میں بدل دیتی ہے۔

چنانچہ سیمیک نے ایک سپیشلسٹ بھرتی کیا تاکہ اس کام کے لیے ٹیکنالوجیکل حل تلاش کیا جا سکے۔ یہ فارمولہ انتہائی خفیہ ہے۔

سیمک کا کہنا ہے کہ ’صرف وہ اسے جانتا ہے۔ یہاں تک کہ میں بھی اسے نہیں جانتا ہوں۔‘

گدھے گائیں کے مقابلے میں کم دودھ دیتے ہیں اور ایک لیٹر پنیر کے لیے 25 لیٹر دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔

عادت
لیکن یہ پیسہ ہے اور نہ ہی جدت کی راہ جس نے سیمک کو اس کاروبار کی جانب راغب کیا۔

اس میں کیسین نامی عنصر شامل نہیں ہوتا ہے
سیمک کا شوق سکاؤٹس جیسی تنظیم میں کام کرنا تھا اور پھر انھوں نے اسے کل وقتی پیشہ بنا لیا۔ انھوں نے سربیا کے دارالحکومت بلغراد سے 80 کلومیٹر دور واقع قدرتی ریزرو کی دیکھ بھال کی۔

ان کے پاس ہر طرح کے جانور تھے لیکن ان کی دیکھ بھال میں کوئی گدھا نہیں تھا۔ انھوں نے سوچا کہ ہم گدھے کیوں نہیں لیتے؟

چانچہ انھوں نے جلد ہی 20 گدھے خریدے۔

سیمک کا کہنا ہے ’سربیا میں ایک تعصب پایا جاتا ہے کہ گدھے بیوقوف جانور ہیں لیکن اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز جانور ہے۔

پروپگینڈا کرنے والا
کچھ عرصے کے بعد ان کے گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا چنانچہ سیمک نے پیسے کمانے کے لیے ان کا دودھ بیچنا شروع کر دیا۔

دنیا کے بہت سے ممالک میں گدھوں کو بڑے پیمانے پر نقل و حمل اور زراعت کے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
سیمک کے پاس دودھ فروخت کرنے کے لیے مارکیٹ بہت کم تھی اس لیے انھیں پنیر بنانے کا خیال ہے۔

اب ان کے پاس 250 سے زیادہ جانور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کام شروع کرنے سے پہلے پورے ملک میں کل آبادی صرف 500 تھی۔

ان کا مزید کہنا ہے ’ میں ہر روز گدھے کا تقریباً 100 گرام دودھ پیتا ہے۔ میری عمر 65 کے قریب ہے اور مجھے صحت کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔‘

سیمک کے بقول ان کی کامیابی نے دس دوسرے لوگوں کو گدھے کے فارم شروع کرنے کی ترغیب دی ہے اور وہ خود کو گدھے کا پروپیگنڈا کرنے والا مانتے ہیں۔

’میں ہر جگہ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ گدھے کا دودھ استعمال کریں۔ ‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں