افغانستان: ایک اور طالبان کمانڈر شہریار محسود دھماکے میں ہلاک 44

افغانستان: ایک اور طالبان کمانڈر شہریار محسود دھماکے میں ہلاک

تحریک طالبان پاکستان کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ شہریار محسود اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں چند دنوں میں پاکستانی طالبان کے یہ تیسرے رہنما ہیں جنھیں ہلاک کیا گیا ہے۔ افغان حکام نے ابھی تک اس بارے میں تصدیق نہیں کی۔

افغانستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہریار محسود صوبہ کنڑ کے مرورہ ڈسٹرکٹ کے علاقے دڑاڑنگ میں سڑک کنارے ایک دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب شہر یار محسود وہاں سے پیدل گزر رہے تھے۔

صوبہ کنڑ میں گورنر کے ترجمان عبدالغنی مسمم نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اس بارے میں انھیں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے سجنا گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ضرور پیش آیا ہے اور اس میں شہر یار محسود مارے گئے ہیں۔

طالبان کے سینیئر کمانڈر امریکی فضائی حملے میں ہلاک

شہریار محسود کون تھے؟
خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے پولی ٹیکنیکل کالج سے الیکٹریکل کا ڈپلومہ حاصل کرنے والے شہریار محسود کب طالبان کا حصہ بن گئے اس کی تفصیل ان کے قریبی ساتھی بھی نہیں جانتے۔

مقامی صحافی فاروق محسود کے مطابق شہریار محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے گاؤں زنگڑ سے تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں الیکٹریکل کا ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل کالج میں داخلہ لیا تھا۔

ان دنوں میں قبائلی علاقوں میں طالبان حاوی تھے اور ان کے پاس بہت وسائل تھے جس وجہ سے اکثر نوجوان ان کی طرف راغب ہوتے تھے۔ طالبان کے پیغامات سے متاثر ہو کر شہریار محسود بھی ان کا حصہ بن گئے تھے اور تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہو گئے تھے۔

حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی سربراہی کے لیے اختلاف کھل کر سامنے آگئے تھے۔ ایک جانب خالد سجنا اور دوسری جانب شہریار محسود تھے۔ شہریار محسود نے خالد سجنا کو ٹی ٹی پی کا سربراہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد دونوں گروہوں میں جھڑپیں بھی ہوئی تھیں جس میں متعدد طالبان ہلاک ہو گئے تھے۔

خالد سجنا کی ہلاکت کے بعد بھی دونوں جانب سے اختلافات ختم کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں اور ایسی اطلاعات بھی آئیں کہ یہ اختلافات ختم ہو چکے ہیں۔ خالد سجنا گروپ کی قیادت اس وقت مولوی نور ولی کر رہے ہیں جبکہ شہر یار محسود اپنے دھڑے کے سربراہ تھے۔

قبائلی علاقوں میں آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے کے بعد متعدد طالبان روپوش ہو گئے تھے اور اکثر کے بارے میں یہی اطلاع تھی کہ وہ افغانستان کے پہاڑی علاقوں جیسے کنڑ اور ننگرہار کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں۔ شہر یار محسود بھی تین سال سے افغانستان کے ہی انھی علاقوں میں مقیم تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹSCREENGRAB
افغانستان میں ہلاکتیں
گذشتہ کچھ دنوں میں افغانستان میں یہ تیسرے پاکستانی طالبان رہنما ہیں جنھیں ہلاک کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کابل میں دو افراد کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی تھیں لیکن ان کی شناخت کے بارے میں کچھ وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ تاہم بعد میں ان دونوں افراد کی شناخت خالد حقانی اور قاری سیف یونس کے نام سے کی گئی تھی۔

شیخ خالد حقانی اور قاری سیف یونس پشاوری کی ہلاکت کی تصدیق تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی ترجمان محمد عمر خراسانی نے کی تھی اور کہا تھا کہ شیخ خالد حقانی اپنے ساتھی کے ہمراہ 31 جنوری سے چند روز پہلے ایک جھڑپ میں ہلاک ہو گئے تھے۔

افغان حکام کیا کہتے ہیں؟
افغان حکام اس کی تردید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شیخ خالد حقانی اور ان کے ساتھی افغانستان میں نہیں مارے گئے۔ شہر یار محسود کی ہلاکت کے حوالے سے بھی اب تک افغان حکام نے کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

افغانستان میں 31 جنوری سے پہلے ہلاک کیے گئے ان دو افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی اور ذرائع کے مطابق یہ دونوں افراد شائد کسی مشن پر وہاں موجود تھے اوراپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔

افغانستان میں مقیم مقامی صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق افغان حکام تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں شیخ خالد اور سیف یونس پشاوری کی ہلاکت کے حوالے سے شائع خبروں کو درست نہیں سمجھتے۔

اس بارے میں افغان حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹEPA
پاکستان میں تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟
افغانستان میں پاکستانی طالبان کے حوالے سے رائے منقسم ہے تاہم ایک رائے یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ شہریار محسود کے اختلافات چونکہ طالبان کے مخالف گروہ سے تھے تو ہو سکتا ہے کہ وہ انھی کا نشانہ بنے ہوں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شہریار محسود نامعلوم افراد کے حملے کا نشانہ بنے ہوں تاہم اس بارے میں تفتیش کے بعد ہی تمام صورتحال سامنے آ سکے گی۔

افغان اور قبائلی امور کے ماہر بریگیڈییر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان میں چونکہ مضبوط فورس امریکہ کی ہے اور امریکہ کی پالیسی ان کے خلاف تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

محمود شاہ کہتے ہیں ’اس وقت افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہاں موجود طالبان کے روابط جن اداروں یا جن قوتوں سے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہاں ان کے مابین کوئی اختلافات آئے ہوں اور شاید اسی کی بنیاد پر وہاں یہ واقعات پیش آ رہے ہوں۔`

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مختلف قوتیں برسرِ پیکار ہیں اور یہ تاثر کہ اس میں پاکستانی اداروں کی مداخلت ہو سکتی ہے درست نہیں ہے۔ ’جہاں تک شہریار محسود کے قتل کی بات ہے تو اس میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مخالف دھڑے کا نشانہ بنے ہوں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں