پرانے گدوں میں فصلیں اگانے کا کامیاب تجربہ 108

پرانے گدوں میں فصلیں اگانے کا کامیاب تجربہ

اردن: پرانے میٹرس اور فوم صحرا کو چمن بناسکتے ہیں اور دنیا بھر میں پھیلے پناہ گزینوں کے لیے خوراک کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

متروک میٹرس کے اندر ضروری اجزا سے بھرا پانی شامل کرکے اس میں بیج بوکر سبزیاں اور پودے اگائے جاسکتے ہیں خواہ وہ کسی بھی ماحول میں موجود ہوں۔ یہ عمل ’’ہائیڈروپونکس‘‘ کہلاتا ہے جس میں مٹی نہیں ہوتی اور پودے کو غذائیت بھرے پانی میں ہی پروان چڑھایا جاتا ہے۔

یہ دلچسپ کام یونیورسٹی آف شیفلڈ کے ماہرین نے کیا ہے جسے اردن کے زتاری کیمپ میں پناہ گزینوں کو خوراک کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہاں شیفلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ٹونی ریان نے مرچیں، ٹماٹر، پودینہ اور بینگن اگایا ہے۔

فوم پودوں کی جڑوں کو تھامے رکھتا ہے، جس کے لیے پہلے فوم میں بیج بوئے جاتے ہیں اور ان پر خاص غذائیت والا پانی شامل کیا جاتا ہے۔ اس طرح زراعت کا یہ عمل پرانے فوم کو کارآمد بنانے کا عمدہ طریقہ ہے بصورتِ دیگر وہ کچرے کے ڈھیر میں پڑے رہتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح پوری دنیا میں تقریباً ہرمقام پر خودمختار باغات اور چھوٹے پودے اگائے جاسکتے ہیں اور تجربات میں کوڑے میں پھینکے گئے میٹرس اور فوم استعمال کیے گئے ہیں۔ پروفیسر ٹونی ریان نے مہاجروں کو فوم پر پودے اگانے کی تربیت بھی فراہم کی ہے کیونکہ ان میں اکثریت کسانوں کی ہے اور وہ بہت جلد اس کام کے ماہر ہوگئے۔

پروفیسر ٹونی ریان نے اس عمل کو ’صحرائی باغ‘ کا نام دیا ہے اور اردن میں کامیابی کے بعد اسے دنیا بھر میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اب تک ایک ہزار سے زائد پناہ گزینوں کو فوم پر کاشتکاری سکھائی گئی ہے اور مزید تین ہزار افراد کو تربیت دی جائے گی۔

تربیت لینے والوں میں شامی ماہرِ زراعت ڈاکٹر معید المسلمانی بھی شامل ہیں جو اس پروگرام کے مقامی انچارج ہیں جو غریب خاندانوں کو ریگستان میں تازہ سبزیاں اگانے کی تربیت فراہم کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس طریقہ کار میں 70 سے 80 فیصد تک کم پانی استعمال ہوتا ہے اور زرعی دواؤں کی ضرورت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔  شامی چائے میں تازہ پودینہ ڈال کر پیتے ہیں اور اب انہیں اس ریگستان میں بھی پودینہ میسر آگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں