پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو رہا کر دیا گیا 296

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو رہا کر دیا گیا

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان کی سیشن کورٹ نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کی درخواست ضمانت منظور کرکے ان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کر دیے۔ 

منظور پشتین کو گذشتہ ماہ 26 جنوری کی رات پشاور کے علاقے شاہین ٹاؤن سے گرفتار کرکے ڈیرہ اسمٰعیل خان (ڈی آئی خان) منتقل کردیا گیا تھا۔

30 دن بعد ڈی آئی خان سینٹرل جیل میں گزارنے والے منظور پشتین کی رہائی کے موقع پر پی ٹی ایم کے حامیوں اور سپورٹرز کی بڑی تعداد ہار اور پھولوں کے ساتھ موجود تھی۔

رہائی کے ساتھ ہی منظور پشتین کا نام ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا اور لوگ اس حوالے سے تبصرے کر رہے ہیں۔

منظور پشتین پر الزام کیا ہے؟

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کو 26 جنوری کی رات پشاور کے علاقے شاہین ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پشاور کے تہکال پولیس سٹیشن کے محرر شیراز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ منظور پشتین پر ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں مقدمہ درج تھا اور اس سلسلے میں وہ پولیس کو مطلوب تھے۔

منظور پشتین کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق: ’ڈی آئی خان میں 18جنوری کو ایک تقریب کے دوران منظور پشتین نے اپنے خطاب میں آئین پاکستان کے خلاف تقریر کی تھی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق منظور پشتین نے کہا تھا کہ ’وہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے کیونکہ یہ آئین مکمل غلط ہے اور انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ یہ آئین بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ ساری زندگی پنجاب اکثریت میں اور پشتون اقلیت میں رہیں۔‘

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی ایم کے سربراہ نے ’ریاست پاکستان کے خلاف توہین آمیز اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی ہے۔‘

بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ منظور پشتین کے خلاف تین مقدمات درج ہیں، جس کے بعد مجسٹریٹ پشاور نے ان کا کیس ڈی آئی خان عدالت کو بھیج دیا تھا۔

اسی دوران ان پر تین سے چھ کیس سامنے آگئے اور 28 فروری کو پی ٹی ایم کے سربراہ کو سینٹرل جیل ڈیرہ اسمٰعیل خان منتقل کر دیا گیا۔

پچھلے ہفتے منظور پشتین کی تمام چھ ایف آئی آرز میں ضمانتیں منظور ہوئیں تو ان پر مزید وارنٹ سامنے آ گئے اور یوں ایک اندازے کے مطابق اس ایک ماہ میں پشتین کے خلاف چھ سے نو ایف آئی آر درج ہیں، جب کہ ان کے خلاف کیسوں کی کل تعداد 46 سے بڑھ کر 50 ہوگئی ہے۔

منظور پشتین کے وکیل اسد عزیز محسود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ’17 فروری کو رہائی میں رکاوٹ بننے والے تین کیسوں میں سے ایک کیس کے ٹرائل کے دوران معزز جج نے منظور پشتین کے اس کیس کو خارج کرتے ہوئے عدالت میں کہا تھا کہ اب ملزم کو مزید کسی کیس میں ملزم نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اب ان کے خلاف مقدمہ شروع ہو چکا ہے۔‘

منظور پشتین کی چھ ایف آئی آرز میں ضمانتیں مکمل ہو گئی تھیں اور بالآخر تین ہفتے سینٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان میں گزارنے کے بعد گذشتہ سوموار کو 22 ویں روز عدالت سے رہائی کا پروانہ ملنے ہی والا تھا کہ ملزم کے خلاف مزید دو ایف آئی آرز سامنے آ گئیں۔

تاہم آج انہیں ڈی آئی خان سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں