کیا کورونا وائرس کا علاج 70 سال پرانی دوا سے ممکن ہے! 50

کیا کورونا وائرس کا علاج 70 سال پرانی دوا سے ممکن ہے!

پیرس: دنیا میں کورونا وائرس کے بادل منڈ لا رہے ہیں اور اب پاکستان میں بھی یہ وبا تشویش ناک بن چکی ہے۔ اگرچہ اب تک کورونا وائرس کی ویکسین اور اس کے علاج کی باقاعدہ کوئی تدبیر سامنے نہیں آسکی لیکن 1940ء کے عشرے میں ملیریا کے علاج کے لیے وضع کی گئی ایک دوا ’کلورو کوائن‘ نے بعض مریضوں کو فائدہ ضرور پہنچایا ہے۔

چین ، جنوبی کوریا اور بیلجیئم میں کووڈ 19 کے مرض کے علاج کی تدبیر میں کلوروکوائن کو شامل کیا گیا ہے اور عالمی ماہرین اس پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ اگرچہ اس پر اب تک کوئی تحقیق مقالہ سامنے نہیں آسکا لیکن امریکی ڈاکٹر اس جانب متوجہ ہورہے ہیں اور معروف ٹیکنالوجی فرم کے مالک ایلن مسک اپنی ٹویٹ میں بھی کلوروکوائن کی افادیت کا ذکر کرچکے ہیں۔

دنیا بھر میں درجن سے زائد بڑی ادویہ ساز کمپنیاں کورونا وائرس کی ویکسین کی دوڑ میں شامل ہیں تاہم کلوروکوائن نامی سادہ، کم خرچ اور آسانی سے دستیاب دوا اس کے علاج کی ایک صورت ضرور فراہم کرتی ہے تاہم ماہرین کے پاس اب تک کسی طبی آزمائش (ٹرائلز) کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ طبی آزمائش کے ذریعے ہی کسی دوا کو سائنسی طور پر پرکھا جاتا ہے۔

انٹرنیشنل جرنل آف اینٹی مائیکروبیئل ایجنٹس میں 15 فروری کو فرانسیسی ماہرین کی جانب سے شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس ضمن میں ٹھوس شواہد مل جاتے ہیں تو کووڈ 19 کا مؤثر اور کم خرچ علاج سامنے آسکتا ہے۔

اس رپورٹ کو لکھنے والے تمام سائنس داں انفیکشن اور بیماریوں کے ممتاز ماہرہیں۔ واضح رہے کہ انہوں نے چند درجن مریضوں کو اسی دوا کی ایک اور قسم ہائیڈروکسی کلوروکوائن آزمانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

ابتدائی درجے میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور مریضوں کے ہسپتال میں رہنے کا دورانیہ کم دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب بعض امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کلوروکوائن کے بعض مضر اثرات بھی ہیں جن میں آنکھوں کا شدید متاثر ہونا، سردرد، غنودگی اور پیٹ کے امراض شامل ہیں۔ اس لیے کسی بھی حالت میں یہ دوا معالج سے پوچھے بغیر استعمال نہ کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں