بستی کرائین سے قرنطینہ تک 43

بستی کرائین سے قرنطینہ تک

ملتان روڈ پر مریالی موڑ سے ذرا سا آ گے بائیں طرف مغل فلور ملز اور علیزئی دال ملز کے درمیان ایک پرانی آبادی کا نام بستی کرائین تھا ۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب یہاں کسی مستقل آبادی کا نام ونشان نہیں تھا ۔میرے والد مرحوم اینٹوں کے بھٹے کے کاروبار سے وابستہ تھے ۔اینٹوں کے بھٹے عموما آبادیوں سے دور بنائے جاتے جہاں مٹی اور پانی میسر ہو یہاں اسی جگہ پر جہاں کی میں نشاندہی کی ہے ۔

ایک نیا بھٹہ خشت تعمیر کیا گیا مجھے والد صاحب یہاں لے کر آئے وہ مجھے بچپن میں میلہ اسپان و مویشان پر لے جاتے تو پہلے اپنے کام روزگار کی جگہ کا چکر لگا لیتے تھے ۔میرے پاس تیسری یا چوتھی جماعت کی کتابیں تھیں جو ہم نے نئی کلاس کے لیے آتے ہوئے بڑے شوق سے خریدی تھیں اس طرح سے یہ سن 1963-64کے قریب ہو گا اور یہ نصف صدی سے زائد کی بات لگتی ہے ۔ملتا ن روڈ پر سڑک کی دائیں طرف پولیس کی فائرنگ رینج تھی جو چاند ماڑی کے نام سے مشہور تھی ۔یہاں پولیس کے جوان تھری نان تھری رائفلوں سے نشانہ بازی کی مشق کرتے تھے ۔یہ کاروائی کئی بار میں نے

خود اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی اس وقت اس چاند ماڑی کی اونچی ڈھیری ملتان روڈ سے نظر آتی تھی اب گنجان آبادی کی وجہ سے نظر نہیں آتی ۔اراضی فروخت ہو کر رہائشی آبادی میں تبدیل ہو گئی ہے ۔مگر سرکاری جگہ ہونے کی وجہ سے اس چاند ماڑی کے ڈھیر کے آ ثار اب بھی وہاں موجود ہیں ۔

اب اس روڈ کی بائیں طرف آتے ہیں علیزئی دال ملز کے ساتھ جو بھٹہ خشت قائم کیا گیا اس وقت یہ ایک پر فضا کھلی اور سر سبز جگہ تھی بھٹہ پر کام کرنیوالے شاگرد مجھے ادھر ادھر گھماتے رہے تھے ۔میرے پوچھنے پر وہاں کے قریبی لوگوں نے بتایا کہ اس جگہ جا نام بستی کرائین ہے ۔بعد میں یہیں قریب کے کھیتوں میں را ت کو جنگلی درندوں کو بھی دیکھے جانے کا سنتے تھے ۔یعنی ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے چار کلو میٹر جنوب کیطرف یہ ایک جنگل بیاباں کا دور دراز کا علاقہ خیال کیا جاتا تھا ۔اتفاق ایسا ہوا کہ یہاں بہت آبادی ہو گئی تو ہمیں بھی قسمت اس بات کے بیس بچییس برس

بعد اس قریبی آبادی میں لے آئی ۔یہ بستی کرائین ہمارے ساتھ تھی اور میں اس پر سوچتا رہا کہ کرائین کیا ہے اور اس علاقے کا نام کرائین کیسے پڑا۔بعد میں کہیں لفظ قرنطینہ پڑھا تو والد صاحب کی اس زمانے کی باتیں یاد آ گئیں ۔شاید اس وقت میری عمر نو یا دس سال ہو گی انہوں نے بتایا جو کچھ کہ وہاں کے پرانے لوگوں سے سنا تھا کہ ہندوئوں کے زمانے میں ڈیرہ شہر میں کوئی ایسی وباء پھیل گئی تھی کہ روزانہ لوگ مرنے لگے تھے انگریزوں کی حکومت تھی لہذا اس بیماری یا وباء کے متاثرین کو یہاں

علاج معالجے کی خاطر عارضی ہسپتال قائم کر کے رکھا گیا تھا ۔اس بات کا ثبوت یہ ملا کہ بھٹہ خشت کی کھدائی15/20فٹ گہری کی جاتی ہے ۔یہ انگریزی کے حرفOاور کی مانند ہوتا ہے ۔کھدائی کے دوران یہاں سے پرانی کچی عمارتوں کے آثار اور شیشے کی پرانی بوتلیں ملی تھیں جو غالبا مریضوں کی دوائی کی ہوں گی ۔

یہ پہلا بھٹہ یہاں صادق خان ٹھیکیدار نے بنایا تھا بعد میں محمد بخش ایسر ٹھیکیدار نے خرید لیا تھا ۔اس بھٹے کے آثار اب سے بیس پچیس برس پہلے تک موجود تھے مگر ابھی شہر کی آبادی سے راجپوت برادری نے اپنی رہائش گاہیں تعمیر کر کے اسے گلبرگ ٹائون کا نیا نام دے رکھا ہے ۔صادق خان ٹھیکیدار محکہ قصاباں سے یہیں قریب مکان تعمیر کر کے آباد ہو گئے تھے محمد بخش خان اور صادق خان دونوں اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ان کی جواں اولادیں اب بھی یہیں آباد ہیں ۔وبائوں کی تاریخ کے مطابق1820,1720اور

1920میں ہیضہ اور ٹائیفائیڈ اور فلو کے نام آتے ہیں۔اب یہ نہیں معلوم کہ ملتان روڈ پر بستی کرائین والا عارضی ہسپتال 1820ء کی وباء کے دوران قائم کیا گیا یا 1920کی طاعون کی وباء کے دوران طاعون کی وباء کا حال معروف ادیب و بیوروکریٹ قدرت شہاب نے اپنی مقبول آپ بیتی شہاب نامہ میں اپنے بچپن کے دنوں کے حال کے دوران کیا ہے ۔تو یہ 1920ء والا دور ہو سکتا ہے ابھی سال 2020کے ابتداء میں چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی وباء پھوٹ پڑی اور ایک انتہائی مضبوط معاشی ملک اور جدید ترقی

یافتہ آبادی کو شدت کیساتھ متاثر کر دیا ۔پرانے زمانے کی آفتوں میں میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی ۔ذرائع آمدورفت اس قدر تیز رفتار نہیں تھے لیکن اس کرونا وائرس نے تو ساری ترقی اور سائنس کو ایک دو مہینے میں حیران و پریشان کر کے رکھ دیا اس وقت پوری دنیا ایک اضطراب اور سخت بے چینی میں مبتلا ہے ۔

چین کے بعد کرونا وائرس کا دوسرا شکار ہمارا پڑوسی ملک ایران بنا۔جس کیساتھ ہمارے مذہبی و تہذیبی رشتے ہیں ایران کے شہر قم اور مشہد مقدس کی زیارات کے لیے ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں یہی زائرین براستہ تفتان سرحد اپنے ساتھ یہ مہلک وائرس بھی لے آئے جس کا حتمی علاج تو ابھی تک ایجاد نہیں ہوا مگر ہمارے ملک میں اس ٹیسٹ اور میڈیکل حفاظتی لباس بھی موجود نہیں پوری دنیا کیطرح اس

ملک کو بھی وباء کے پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں ۔جس کی احتیاطیں بہت لازمی ہیں اب ایران سے آ نیوالے زائرین کے کرونا ٹیسٹ کا کوئی سنٹر نہیں کہ جہاں کئی دن انہیں رکھ کر غلط یا ٹھیک صحت مند و تندرست کی تسلی کی جا سکے ۔
ایسی چھوت چھات وباء کا عام مسافروں میں پتہ لگانے کے لیے جو جگہ ،جو عمارت،جو شفاخانہ یا عارضی ہسپتال قائم کیاجاتا ہے اسے قرنطینہ کہا جاتا ہے ۔یہ عارضی ہسپتال شہروں سے دور بنائے جاتے تھے یا ملک میں غیر

ممالک سے آنے جانے والوں کو بیماری کی تشخیص کے لیے بندرگاہوں داخلی راستوں یا آجکل ہوائی اڈوں پر قائم کیے جاتے تھے تاکہ زیادہ مہلک بیماری کے متاثرین کو عام پبلک کے ساتھ میل جول کرنے سے روکا جا سکے ۔اگر واقعی کوئی بیمار ہے تو اس کا علاج کیا جا سکے ۔پہلے غیر ترقی یافتہ ادوار میں بحری سفر کرنیوالوں کو چالیس روز تک under observationرکھا جاتا تھا اور موجودہ دور میں اس کے لیے پندرہ دن مقرر ہیں مذکورہ اشخاص پندرہ دنوں تک ایک مخصوص جگہ محدود عمارت میں رکھے جاتے ہیں ڈکشنری میں Quarantinaکے معنی ایک مدت کے لیے ایک جگہ محدود رہنا،وبائی امراض کے لیے جبری پابندی کے ہیں یہ لفظ دراصل فرنچ کے دو الفاظ قروین

اور ٹائین سے نکلا ہے جن کا مطلب چالیس دن اسے فارسی میں قرنطینہ کہا گیا اور کوروئین سے بستی کرائین تک مشہور ہوا ۔بہرحال عالمی وباء کے پیش نظر یہ اقدامات بہت ضروری ہوتے ہیں بے شک یہ ایک نازک صورت حال ہوتی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت سے تعاون بھی کرنا چاہیے اور میڈیا کی یلغار سے بھی بچنا چاہیے لہذا کورنٹینا بھی ایسی کوئی بلا نہیں کہ نگل جائے گی سب سے پہلے چین میں یہ مرض پھیلنے سے وہاں پر زیر تعلیم ہمارے پاکستانی طالب علم بچے بھی متاثر ہوئے جنہیں وہاں روک کر علاج کیا گیا بہت سے ٹھیک ہو کر کلیئر بھی ہو ئے اور گھروں کو بھی واپس آگئے

۔ایسی صورت حال میں قومی یک جہتی ،انسانی ہمدردی اور زیادہ ہمت کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگ بھی جہاں سے متاثر ہوئے ہیں وہ قابل رحم ہیں۔ہمارے ملک کے باشندے اور ہمارے بھائی ہیں ان سے نفرت کرنے کی بجائے ان سے ہمدری کی جانی چاہیے یہ تو عالمی وباء ہے اس کا کوئی مخصوص وطن یا جغرافیہ نہیں

ہوتا اللہ تعالی بے مثال و بے مثل خالق ہے ہمیں اپنا اعتماد اور حواس قائم رکھنے چاہئیں مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت تو اللہ پر ایمان ہوتا ہے یہ بڑی آزمائش کا وقت ہے ہر پل اور ہر ان کی افواہوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالی کی قوت کا ملہ پر یقین مضبوط کرنا چاہیے انشاء اللہ یہ وقت بھی گزر جائے گا اللہ آپ کا نگہبان ہو احتیاط اور پرہیز علاج سے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں