40

کروناوائرس اور موجودہ دنیا

بتایا جاتا ہے کہ چین کے کسی علاقے میں ہوا میں اڑتی ایک چمگادڑ نے اپنی لید میں کورونا وائرس چھوڑا یہ وائرس جنگل کی زمین پر گرا جہاں پینگولئین نام کے جانور کو اس فضا سے یہ وائرس ملا پھر یہ وائرس دوسرے جانوروں میں پھیلا یہ متاثرہ جانور انسان کے ہاتھ لگا اور یہ بیماری انسانوں میں پھیلنا شروع ہوء اور دنیا میں وبا کی صورت اختیار کرنے لگی .کورونا وائرس سے چین سمیت مختلف ممالک میں ہونے والی سیکنڑوں ہلاکتوں کے بعد دنیا بھر میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں .یہ وائرس پاکستان کے

علاوہ اس کے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان میں بھی پھیل چکا ہے .کورونا وائرس گذشتہ برس چین کے شہر ووہان میں پھیلا ابتدا میں اسے عام نمونیا قرار دیا گیا بعد میں اس کو سن 2002 اور 2003 میں سامنے آنے والے وائرس “سارس” کا نام دیا گیا جس کا نام” کوووڈ 2019 ” رکھا گیا.

زولوجیکل سوسائٹی آف لندن کے پروفیسر اینڈریو کنگھم کے مطابق سائنسدان کسی جاسوس کی طرح ان واقعات کی کڑی جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جنگل میں کء طرح کے جانوروں میں یہ وائرس ہو سکتا ہے خاص طور پر چمگادڑیں جن میں کء طرح کے کرونا وائرس پائے جاتے ہیں .جب سائنسدانوں نے ایک مریض کے جسم سے لئے جانے والے وائرس کا جائزہ لیا تو سیدھا اشارہ چمگادڑوں کی طرف گیا . دراصل چمگادڑیں لمبی پرواز کرتی ہیں اور ہر براعظم میں موجود ہوتی ہیں .

یہ خود تو بیمار نہیں ہوتئں لیکن دور تک بڑے پیمانے پر وائرس پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں.
یونیورسٹی کالج آف لندن کی پروفیسر کیٹ جونز کے مطابق ایسی شہادتیں موجود ہیں کہ چمگادڑیں طویل اور تھکا دینے والی اڑان کی عادی ہو چکی ہیں اور ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان کو خود بخود ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ اس وجہ سے اپنے جسم میں موجود کء طرح کے وائرس کا بوجھ برداشت کر لیتی ہیں

لیکن ابھی تک یہ ایک خیال ہے.یونیورسٹی آف نوٹنگھم کے پروفیسر جونانتھن بال کا کہنا ہے کہ چمگادڑوں کے طرزِ زندگی کو دیکھا جائے تو اس میں کوء شک نہیں کہ ان میں وائرس پنپتے ہیں.
بلاشبہ اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس وبا کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے جس کے سنگین نتائج رونما ہو رہے ہیں یہ وائرس اتنی خوفناک صورتحال قائم کئے ہوئے ہے کہ ہر تھوڑی دیر بعد اس سے متعلق ملنے والی نء اطلاع سے ملنے والے پچھلے سب اندازے غیر موثر ہوتے محسوس ہوتے ہیں.

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس اس وقت 160 سے زائد ممالک میں اپنے پنجے گاڑ چکا ہے (مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے) جس میں مجموعی طور پر دو لاکھ آٹھ ہزار دو سو اکیس (208,221) کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں ہیں اس میں سے کل اموات کی تعداد آٹھ ہزار دو سو بہتر (8272) سے زائد بتلاء جارہی ہے.اس وقت دنیا کا ہر ملک بشمول ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اس وقت کورونا کی زد میں بری طرح سے متاثر ہوا ہے .

آئے روز کرونا کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں اسی لحاظ سے شرح اموات بھی تسلسل کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے. یورپین ممالک اس وقت کرونا وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور اس کا دائرہ جنوبی ایشیا تک پھیل چکا ہے ان میں چین کے ساتھ ساتھ اٹلی,ایران,امریکہ,برطانیہ,فرانس,جرمنی,افغانستان,پاکستان اور عرب ممالک اس وقت اس سے متاثر ہوچکے ہیں.

روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہونے والے نئے کیسز اور شرح اموات کی تعداد حسب ذیل ہے :
چین میں اس وقت کورونا سے متاثر افراد کی کل تعداد 80,894 ہے جن میں اموات کی تعداد 3237ہے. چائنہ کے بعد سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی ہے جس میں کورونا کے کل 31,506 کیسز رپورٹ ہوئے اور اموات کی تعداد 2,503 ہے اٹلی کے بعد ایران کورونا سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے جس میں کل کیسز کی تعداد 17361 اور اموات کی تعداد 1135 ہے. امریکہ میں اس وقت 7568 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے

117 ہلاکتیں ہوچکی ہیں . برطانیہ میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 1950 جبکہ ہلاکتوں کی تعدا 71 ہے.
جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی شماریاتی اداروں نے پاکستان کو سب سے کم متاثرہ ممالک کی فہرست میں رکھا ہے جس میں ابھی تک 250 سے زائد کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں اور تادم تحریر اطلاعات کے مطابق صرف ایک موت واقع ہونے کی اطلاع ہے.

بین الاقوامی ادارے “یونیسف” کے مطابق کورونا وائرس کا سائز 400-500 تک ہے .یہی وجہ ہے کہ یہ کسی ماسک سے نہیں گزر سکتا اس کی یہ خاصیت بھی ہے کہ یہ ہوا میں نہیں پھیل سکتا بلکہ کسی چیز کو اپنا مسکن بناتا ہے اس کی زندگی کا دورانیہ 12 گھنٹے ہے .کورونا وائرس صابن اور پانی سے دھل سکتا ہے .کپڑے دھونے یا دھوپ میں رکھنے کے 2 گھنٹے بعد یہ وائرس ختم ہو جاتا ہے ہاتھوں پر زندہ رہنے کا وقتی دورانیہ 10 منٹ ہے .
کورونا وائرس کی علامات میں مریض کو ابتدا میں نزلہ ,کھانسی ,

اور گلے کی سوزش کا سامنا ہوتا ہے .مرض بڑھ جائے تو بخار,سینے میں درد,سانس لینے میں تکلیف,اور نمونیا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں.دل کا تیزی سے دھڑکنا بھی وائرس کی علامتوں میں سے ایک ہے.وائرس پھیپھڑوں پر اثر انداز ہونے کے بعد آکسیجن کو خون میں ملانے کا عمل روک دیتا ہے وائرس کا مریض شدید نمونیا ,گردے فیل اور شدید بخار سے موت کا شکار ہو جاتا ہے . ناول کورونا وائرس ایک خاموش وائرس ہے یہ اپنی علامات ظاہر کئے بغیر متاثرہ شخص سے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے متاثرہ افراد میں سے 98 فیصد لوگ صحت یاب ہو جاتے ہیں. ماہرین صحت کے مطابق انفیکشن سے لے

کر علامات ظاہر ہونے تک 14 روز لگ سکتے ہیں لہذا ایسے مریضوں میں وائرس کی تصدیق کے لئے انھیں الگ تھلگ رکھا جاتا ہے.صحت مند افراد جب کورونا وائرس کے مریض سے ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو یہ وائرس ہاتھ اور سانس کے زریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس انتہاء سرعت کے ساتھ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے لہذا اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے کو بھی انتہاء سخت حفاظتی اقدامات کرنے پڑتے ہیں.

اس وقت پوری دنیا کورونا کے پھیلا سے تذبذب کا شکار نظر آتی ہے . دنیائے معیشت گراوٹ کا باعث بن چکی ہے .دنیا بھر کی سٹاک ایکسچینجز مندی کا شکار ہیں . اقتصادی اور مالیاتی ادارے شدید دبا کا شکار نظر آتے ہیں . اس وقت دنیا کی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہو چکا ہے اور مزید بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے دنیا میں کماء کے مختلف شعبوں کو کو اس وقت بھاری نقصان اٹھانا پڑا . اس وبا نے دنیا بھر میں خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کردی ہے . انسانی جانوں کا ضیاع اور کء ملکوں کی معیشت پر برے اثرات “کورونا” کے ہی مرہون منت ہیں. جس کے اثرات آپکے سامنے ہیں یاد رہے

کہ اسٹاک ایکسچینجز میں مندی کا رجحان ملک میں کاروبار میں مندی کو ظاہر کرتا ہے .عالمی مالیاتی ادارے “انٹرنیشنل مالیاتی فنڈ” کی سابق سربراہ کرسٹینا لیگارڈ کے مطابق بیماریاں سرحدوں اور پاسپورٹس کو نہیں جانتی اور نہ ہی ان کا لحاظ کرتی ہیں.مختلف ممالک میں لاک ڈان اور شہریوں کو محصور کئے جانے کے بعد دنیائے معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑرہا ہے . ایک جانب دنیا کو جہاں مختلف شعبوں میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے وہیں دوسری جانب پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک بھی مختلف شعبوں میں نقصان کا خمیازہ بھگت رہا ہے .عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھی معاشی طور پر بھاری نقصان اٹھائے گا ایشیاء ترقیاتی بنک نے حالیہ اپنی رپورٹ میں

پاکستان کو کم متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو پانچ ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچ سکتا ہے. پاکستان میں ممکنہ متاثرہ شعبوں میں زراعت,عوامی خدمت کے شعبے,ریستوران,تجارت,سیاحت,ہلکی اور بھاری صنعت,اور ٹرانسپورٹ شامل ہیں.پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق یہ وبا پاکستان کی دوسرے ممالک سے ہونے والی تجارت کو بہت متاثر کر رہی ہے.پاکستان کی زیادہ تر تجارت بیرونی ممالک جیسے ایران,افغانستان اور یورپی ممالک سے ہوتی ہے . اب ان ممالک نے تجارت پر پابندی لگادی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کمزوری کے دہانے پر ہے.جہاں دنیا بھر میں منافع بخش شعبہ سیاحت متاثر ہوا ہے

وہیں دنیا بھر میں سیاحت کے لئے موزوں ترین ملک پاکستان بھی اس شعبے میں نقصان برداشت کر رہا ہے.پاکستان میں ٹریول ایجنسی اور ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی بڑی بری طرح متاثر ہوا ہے .ماہر اقتصادیات کے خیال میں یہ صورتحال پاکستان کے لئے انتہاء خطرے کا باعث بن سکیی ہے.
چونکہ پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر حصہ پڑوسی دوست ملک چین سے وابستہ ہے .چین میں کورونا کے سنگین اثرات کے بعد پاکستان بھی معاشی طور پر متاثر ہوا ہے.اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی ) نے پاکستان کو ان بیس متاثرہ ممالک میں شامل کیا ہے جو چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے اقتصادی سست روی سے متاثر ہوئے ہیں.ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں متاثرہ ویلیو چین مصنوعات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات شامل ہیں جن میں چین کے لئے برآمدات

میں دو فیصد (4 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز) کی کمی آء ہے. یو این سی ٹی اے ڈی کے اندازے کے مطابق جو شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں صحت سے متعلق آلات,مشینری اور مواصلات وغیرہ کے شعبے سرفہرست ہیں.سب سے زیادہ متاثرہ معیشت میں یورپی یونین سرفہرست ہے اور اسے 15 ارب 60 ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا .امریکا 5 ارب 80 کروڑ ڈالرز , جاپان 5 ارب 20 کروڑ ڈالرز, جنوبی کوریا 3 ارب 80 کروڑ ڈالرز ,تائیوان 2 ارب 60 کروڑ ڈالرز ویتنام 2 ارب 30 کروڑ ڈالرز شامل ہیں.

چونکہ چین دنیا بھر میں اپنا مال فروخت کرتا ہے اسی مناسبت سے چین کے سپلائرز دنیا بھر کی بہت سی کمپنیز کے لئے اہم ہیں.اس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ چینی معیشت کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے.اور مختلف عالمی ماہرین اس بارے مختلف رائے رکھتے ہیں.
کیا کورونا سے بچا ممکن ہے ؟

ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھ دھونا ,ماسک کا استعمال ,کھانستے اور چھینکتے وقت ٹشو پیپر یا رومال کا استعمال یا عدم دستیابی کی صورت میں کہنی سے ناک کو ڈھانپ لینا اس وائرس سے انسان کو محفوظ بنا تا ہے . کورونا وائرس کے مشتبہ مریض سے بغیر حفاظتی اقدامات یعنی دستانے یا ماسک پہنے بغیر ملنے سے بھی گریز کی ہدایت دی گء ہے. ماہرین کے مطابق گوشت

یا انڈوں کو اچھی طرح پکانا بھی حفاظتی تدابیر میں شامل ہے . نزلہ اور زکام کی صورت میں پر ہجوم مقامات پر جانے سے اجتناب اور ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کرنا بھی اس مرض سے بچا کے لئے فائدہ مند ہے .
کیا کورونا وائرس قابل علاج ہے؟

کورونا وائرس کے خاتمے کے لئے عالمی سطح پر ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے.کیونکہ یہ نیا وائرس ہے اس لئے فی الحال اس کا علاج روایتی طریقوں سے کیا جا رہا ہے .اس طریقہ علاج میں ادویات کے زریعہ مریض کے مدافعتی نظام کو فعال رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے.تا کہ مضبوط مدافعتی نظام وائرس کا مقابلہ کر سکے اور مریض صحت یاب ہوجائے.
پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے مراکز:
حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان بھر میں مختلف شہروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے مراکز قاء کر دئیے گئے ہیں . کورونا کی تشخیص کے بڑے مراکز حسب ذیل ہیں:
کراچی: آغا خان یونیورسٹی ہسپتال , سول ہسپتال,اوجھا انسٹیٹیوٹ اور انڈس ہسپتال
اسلام آباد: نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ
لاہور: پنجاب ایڈز لیب اور شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال.
راولپنڈی: آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف پیتھالوجی
کوئٹہ : فاطمہ جناح ہسپتال
ملتان: نشتر میڈیکل یونیورسٹی
پشاور: پبلک ہیلتھ لیبارٹری اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی
گلگت: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال
مظفرآباد: عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز
تفتان: موبائل ڈائیگنوسٹک یون
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں