خود کار ڈرافٹ 39

یہ بیل منڈھے چڑھے گی؟

دریائے سندھ کے کنارے ڈیرہ اسماعیل خان وٹانک سے لے کر صوبہ سندھ کی سرحد کے ساتھ رحیم یار خان تک تیئیس اضلاع ہیں جو اکثریتی سرائیکی آبادی پر مشتمل ہیں۔ صوبہ سرائیکی یا سرائیکستان کی تحریک کے علمبرداروں کا مطالبہ ہے کہ صوبہ پنجاب میں موجود مذکورہ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے دو اضلاع ڈیرہ وٹانک کو ملا کر صوبہ سرائیکی یا سرائیکستان بنایا جائے۔ پی پی پی کے دو رمیں ان اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ اور صوبہ سرائیکستان تحریک سے وابستہ قائدین

پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی تھی مگر کسی قسم کی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سرے سے دلچسپی ہی نہیں لی، پاکستان تحریک انصاف نے 2018 ء کے الیکشن میں جنوبی پنجاب یعنی سرائیکی پٹی میں انتخابی کامیابیوں کی خاطر صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا وعدہ کیا اور وہاں متوقع کامیاب سرائیکی طبقات سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا لیا، اب بامر مجبوری صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کی کوششیں شروع کر دی ہیں، مگر اسے آئین میں ترمیم کے لئے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت چاہئے جو پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی مدد ومعاونت سے ہی ممکن ہے، پی ٹی آئی کو اقتصادی سمیت دیگر مشکلات کا سامنا ہے جن سے

توجہ ہٹانے کے لئے کوئی ایسا مسئلہ درکار ہے جو عوامی توجہ کسی اور طرف مرکوز کرا دے، کورونا وائرس نے یہ کام کر دیا ہے اور صوبہ جنوبی پنجاب قائم کرنے کی بحث وتمحیص بھی معاون ثابت ہو گی۔ صوبہ جنوبی پنجاب ایسی چڑیاکا نام ہے جس کا سر اور دم کاٹ کر دھڑ چھوڑا جا رہا ہے، اگر سرائیکی محاورہ استعمال کیا جائے تو ”صوبی جنوبی پنجاب ہل ہے نہ ککڑ”، (چیل ہے نہ مرغی)، جیسے صوبہ سرحد بے نام سا نام تھا اسی طرح صوبہ جنوبی پنجاب بھی ڈھنگ کا نام نہیں صوبے کا حجم چھوڑئیے کم از کم نام تو دے دیجئے، صوبہ سرائیکی یا سرائیکستان کہنے سے زبان دکھتی ہے، قیامت آجائے

گی یا پاکستان ٹوٹ جائے گا؟ سرائیکی آئین وقانون کے مطابق پاکستان میں رہتے ہوئے اپنی شناخت اور پہچان مانگ رہے ہیں تو غلط نہیں کر رہے۔ ڈیرہ وٹانک بارے فیصلہ کرنا ذرہ مشکل مرحلہ ہو سکتا ہے کیونکہ صوبے کو آمادہ کرنا پڑے گا۔ بہاولپور کو سابق ریاست کے طور پر الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے، تعجب خیز بات یہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم بھی کہتی ہیں کہ لسانیت کی بنیاد پر صوبہ نہیں ہونا چاہئے، بابا حیدر زمان مرحوم نے صوبہ ہزارہ کی تحریک چلائی اور وہ بھی صوبہ سرائیکی کے مخالف تھے۔ اگر لسانیت، نسلیت، قومیت، علاقائیت بری چیزیں ہیں تو پھر سب برائیوں کو ختم کر کے وطن عزیز کو حقیقت میں پاک سرزمین بنا دیجئے امتیاز وتفریق درست نہیں،

مشرقی پاکستان تفریق کی وجہ سے بنگلہ دیش بن گیا۔ بلوچستان کی صورتحال مخدوش ہے، جنوبی وزیرستان میں حالات تا حال ٹھیک نہیں ہو سکے۔ مایوسیاں اور محرومیاں ختم یا کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی وخوشحالی کے مواقع برابر نہیں بلکہ بھرے برتنوں کو بھر کر محروم طبقات کو مزید مایوس کیا جا رہا ہے، اساں قیدی تخت پشورتے اساں قیدی تخت لاہور دے ایسے نعرے ہیں جو سرائیکیوں کی مایوسیوں اور محرومیوں کا پتہ دیتے ہیں۔ کسی پر کرم اور کسی پر ستم کی پالیسی نے وہ گل کھلائے ہیں جو کانٹے بن کر قوم وملک کے سینے میں چبھ رہے ہیں،

گلوں کو خار بننے سے روکنے کی خاطر عدل وانصاف درکار ہے حقوق کی ادائیگیاں ناگزیر ہیں، شناخت اور پہنچان کے بحرانوںکا خاتمہ ضروری ہے وسائل کی منصفانہ تقسیم لازم ہے، ترقی وخوشحالی کی سفر درماندہ وپسماندہ طبقات وعلاقوں کی شمولیت لازمی امر ہے، کشمیر وفلسطین کی آزدی کے لئے بیشک جہاد کیجئے تاہم اپنے کشمیریوں اور

فلسطینیوں کونظر انداز وفراموش نہ کیجئے۔ داخلی صورتحال بہتر، اندرونی حالات مستحکم، معاشی مضبوطی اورترقی وخوشحالی ہو گی تو سرحدیں بھی محفوظ رہیں گی ارو کشمیر وفلسطین کی جنگیں لڑنا اور جیتنا بھی آسان ہو گا۔ محرومیاں سرائیکیوں کی ہوں، بلوچوں کی ہوں، وزیرستانیوں کی ہوں، ہزارہ والوںکی ہوں، پشتونوں کی ہوں یا سندھیوں کی ہوں دور کی جانی چاہئیں، گوکہ صوبہ جنوبی نجاب کی بیل منڈ چڑھتی نظر نہیں آرہی لیکن یہ حقیقت قابل غور وخوض ہے کہ صوبہ سرائیکی یا سرائیکستان کا نام دینے سے سرائیکیوں کو اطمینان ہو جائے گا اور پاکستان اپنی جگہ قائم ودائم رہے گا۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں