اللہ تعالی سے ڈرو کرونا وائرس سے مت ڈرو 44

اللہ تعالی سے ڈرو کرونا وائرس سے مت ڈرو

بیماری میں پرہیز، علاج کرنا ضروری ہے
میرے پیارے مسلمان بھائیو، بہنو، بیٹیو، اللہ تعالی کا جتنا بھی شکر ادا کریں، کم ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں مسلمان گھرانہ میں پیدا فرمایا اور اپنے پیارے حبیب محمد ۖ کی امت میں پیدا فرمایا ہے، ہم نے دین کے لئے کوئی قربانی نہیں دی، بلکہ مجھ درویش کا یقین ایمان ہے کہ ہمارے گھروں تک جو دین کا روشن چراغ پہنچا ہے، اس میں تیل نہیں جلا، بلکہ اس چراغ میں رسول اللہ ۖ اور صحابہ کرام کا مبارک خون جلا ہے یعنی قربانیاں انہوں نے دی ہیں، ہمیں بغیر کسی قربانی کے دین حاصل ہوا میرے بھائیوں، کرونا وائرس یا کسی

دوسری بیماری سے مت ڈرو، ڈرنا ہے، تو اللہ تعالی سے ڈرو، اور اپنے اعمال سے ڈرو جس کا ایک روز ہم نے حساب دینا ہے، کسی بھی بیماری میں پرہیز اور علاج تو ضروری ہے، مگر موت بیماریوں سے نہیں آتی جو بھی انسان پیدا ہوا، اسی نے ایک روز مرنا ہے جب بھی زندگی کے دن پورے ہوتے ہیں، ملک الموت اسی دن، اسی وقت، اسی مقام پر پہنچ جاتا ہے، کورونا وائر س کی طرح کئی عذاب آئے ہیں، اورآتے رہیں گے۔

آؤ ہم سب مل کر اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور سچی پکی توبہ کریں، اللہ تعالی کو راضی کرنا ہے، جس وقت اللہ پاک کی رضا حاصل ہو گی، یہ عذاب بھی ٹل جائے گا، یہ سب ہماری کرتوتوں کا نتیجہ ہے، اللہ سے ڈرو، موت اور قبر کی تیاری کرو، باجماعت نمازیں پڑھوظلم سے پرہیز کرو، حرام مت کھاؤ، پڑوسیوں کو حقوق کا خیال کرو، اور اپنے بوڑھے والدین کی قدر، عزت کرو، اگر کسی کاحق غصب کیا ہے اس کا حق ان سے واپس کرو، غیبت کرنا بالکل ترک کرو، اللہ پاک کرم کرے گا، اللہ ہی ہمارا مالک، خالق، رازق ہے، اللہ ہی رحمن، کریم، اور رحیم ہے، یہ دنیا کیا ہے اس میں انسان کی کیا حیثیت ہے، پڑھو اور درویش کی صحت، ایمان کے لئے اپنی دعاؤں میں یاد رکھو،اللہ پاک

میرے تمام قرائین کو صحت اور ایمان کی دولت نصیب فرمائے۔ دنیا میں انسان منزل آخرت کا مسافر ہے اور وقت کا دھارا اسے لمحہ بہ لمحہ منزل سے قریب تر کر رہا ہے، لیکن دیرانہ دنیا کی دلفریب رنگینیوں سے مسحور ہو کر آدمی اپنی عاقبت سے غافل اور بے فکر ہو جاتا ہے، اسے یہ دھیان نہیں رہتا کہ جس طرح وہ یکہ وتنہا یہاں آیا تھا، اسی طرح ایک دن تن تنہا اسے یہاں سے جانا ہے، ہزاروں من مٹی کے نیچے آغوش لحد کی وحشت وتنہائی سے اسے واسطہ ہو گا، جہاں نہ بیوی بچے ہوں گے

نہ عزیز واقارب نہ کوئی غم خوار، نہ مال اسباب۔ حضرت انبیاء وکرام ۖ اور انکے سچے متبعین (حضرات اولیاء کرام اور علماء کرام) انسانوں کو ان کی اسی خود فراموشی سے آگاہ کرتے ہیں۔ اور انہیں خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں، ان کی صحبت کیمیاء اثر سے دل کی آنکھیں نکلتی ہیں۔ دنیا سے دل سرد، اکتا جاتا ہے، آخرت کی تیاری کا شوق پیدا ہوتا ہے نفس وقلب کے رذائل صاف ہوتے ہیں۔ اور آدمی کو قبر وحشر کی تیاری اور اپنی عاقبت سنوارنے کی فکر دامن گیر ہوتی ہے، یہی لوگ عاقل اور دانش مند کہلانے کے متحقق ہیں، جن کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر لاحق ہوتی ہے، اور جو لوگ فکر فردا سے غافل ہو کر دنیا کی لذتوں اور مال وجہاہ کی دلچسپیوں میں مست ہوتے ہیں۔ ان کو احمق ودیوانہ کہنا زیبا ہے،

ہاں انہیں بدنصیب کہا جائے۔ اگر آج نہیں تو کل وہ اپنی دیوانگی کا ماتم کریں گے۔ اور اپنی حماقت پر خون کے آنسو بہائیں گے۔ حضور پاک ۖ ک ارشاد گرامی ہے ترجمہ: دانا وہ ہے جو اپنے نفس کو لگام دے، اور اللہ تعالی پر آرزوئیں دھرے، کہ اللہ تعالی بڑے غفور رحیم ہیں۔ بخش ہی دیں گے اور ہمیں نہیں بخشیں گے تو اور کس کو بخشیں گے ایک اور حدیث میں ہے، ترجمہ: دنیا گھر ہے، اس شخص کا جس کا کوئی گھر نہیں اور مالی ہے اس شخص کا جس کا کوئی مال نہیں، اور اس کی خاطر جمع کرتا ہے، وہ شخص جس کو عقل نہیں۔
نہ آیا وہ جو کہ باقی رہا
نہ ساغر رہا اور نہ ساقی رہا
نہ پوچھو میری انتہا موت ہے
وہ مجرم ہوں جس کی سزا موت ہے

سیٹھ جی کو فکر تھی، ایک ایک کو دس کیجئے
آیا ملک الموت بولا جان واپس دیجئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں