منافع خور، کچھ تو خدا کا خوف کریں! 60

منافع خور، کچھ تو خدا کا خوف کریں!

منصور احمد سعد پاکستان نژاد برطانوی شہری ہیں، مانچسٹر میں رہتے ہیں۔ اتوار کی دوپہر ان سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ کہنے لگے، کورونا وائرس نے گوروں کے دیس کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے، حکومت کی طرف سے مکمل طور پر لاک ڈاﺅن کا اعلان تو نہیں کیا گیا پھر بھی سڑکیں اور بازار ویران ہیں، اکا دکا لوگ ہی باہر نظر آتے ہیں، سپر اسٹورز پر اشیاء کی قلت ہے جس کا فائدہ پاکستانی اسٹوروں کے مالکان بھرپور اٹھا رہے ہیں اور آٹا، دالیں، چینی، گوشت، انڈے اور دودھ سمیت کھانے پینے کی دوسری اشیاء 100 سے 200 فیصد تک مہنگی بیچ رہے ہیں۔

پولیس منافع خوروں کے خلاف ایکشن میں ہے، شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مہنگی اشیاء بیچے تو ہمیں بتایا جائے، ہم ان کے خلاف بھر پور ایکشن لیں گے۔ پاکستانی دکانداروں کو ان گرفتاریوں کا بھی کوئی خوف نہیں اور وہ من پسند ریٹس پر اپنی اشیاء بیچ رہے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انسانیت نہیں بلکہ پیسہ ہی ان کا سب کچھ ہے۔

پاکستان کی موجودہ صورت حال کا بغور جائزہ لیا تو منصور احمد سعد کی باتوں میں مجھے خاصی سچائی دکھائی دی۔ یہاں بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے۔ کورونا وائرس کی وبا شدت اختیار کرنے کے بعد بڑے بڑے تاجر ذخیرہ اندوزی میں لگے ہوئے ہیں جبکہ چھوٹے دکانداروں نے اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ ہینڈ سینی ٹائزر ہی کو لے لیجیے، پہلی بات تو یہ مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں، اگر کہیں سے مل بھی جاتا ہے تو اس کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ خدا کی پناہ! اب تو بڑی تعداد میں گھروں میں تیار ہونے والے ایسے سینی ٹائزر مارکیٹ میں آگئے ہیں جن میں خطرناک کیمیکلز کا استعمال کرکے انسانی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ ماسک بھی ڈھونڈے نہیں مل رہے، اگر دستیاب بھی ہیں تو ان کی قیمتیں بھی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔ کچھ اسی طرح کی صورت حال دوسری ادویہ کی قیمتوں کی بھی ہے۔

کھانے پینے کی اشیاء کی بات کی جائے تو بظاہر لگتا ہے کہ اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ دکاندار دونوں ہاتھوں سے شہریوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ اگر کوئی ان منافع خوروں کے خلاف احتجاج کرتا ہے تو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، صاف صاف کہا جاتا ہے کہ اگر اشیاء لینی ہیں تو لو، ورنہ ادھر سے چلتے بنو۔

شہباز شریف کے دور میں پنجاب حکومت نے لاہور میں سستے ماڈل بازار متعارف کروائے تھے۔ ان بازاروں کی بڑی خوبی یہ تھی کہ یہاں سے سبزیاں، پھل اور گوشت سستے داموں مل جاتا تھا۔ اچھی بات یہ رہی کہ عثمان بزدار حکومت نے بھی ان بازاروں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ شہری ان بازاروں میں آتے ہیں اور عام مارکیٹ سے سستی اشیاء خریدتے نظر آتے ہیں۔ تاہم جب سے پاکستان میں کورونا وائرس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، ان ماڈل بازاروں میں بھی لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، ان بازاروں میں اشیاء کی قیمتیں حکومت کی طرف سے مقرر کی جاتی ہیں۔ اس کا حل دکانداروں نے یہ نکالا ہے کہ کچھ دکانداروں نے یہاں پر کم تولنا شروع کر دیا ہے۔

گھر کی سبزی خریدنے کےلیے میں بھی ایک ماڈل بازار گیا تو ایک اسٹال پر شہریوں کا رش لگا ہوا تھا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ دکاندار نے خریدار کو وزن کم دیا تھا، انتظامیہ کو شکایت کرنے کے بعد یہ دکاندار اب اپنی غلطی کا اعتراف بھی کر رہا ہے۔ یہ تو صورت حال حکومتی سستے ماڈل بازاروں کی ہے، عام مارکیٹ کا تو مت پوچھیے، شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔

جہاں سپر اور بڑے اسٹوروں پر شہریوں کا بے پناہ رش ہے، وہیں عام اسٹورز پر بھی شہریوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ صوبے میں لاک ڈاﺅن کے خوف سے شہری کئی کئی ماہ کا سودا سلف اسٹاک کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اس کا فائدہ دکاندار حضرات خوب اٹھا رہے ہیں اور اپنی اشیاء من پسند قیمتوں پر بیچ رہے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء اگر دوسرے دن لینے جاﺅ تو اس کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہوتی ہے۔

ہم بخوبی جانتے ہیں کہ موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی اور جو آیا، اسے اس دنیا سے خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو اس لیے تباہ و برباد کر دیا گیا کہ وہ کم تولتی تھی، ذخیرہ اندوزی کرتی تھی، اس دھوکہ دہی پر اللہ تعالی نے پوری بستی کو نیست و نابود کردیا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں سادگی اختیار کرنے اور مشکل وقت میں دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن یہ کتنے افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ ہم اپنے نبیﷺ کےلیے جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن ان کی بات ماننے کےلیے تیار نہیں۔ ہم کیسی قوم ہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں