ہم ہیں قوم رسول ص ہاشمی 108

ہم ہیں قوم رسول ص ہاشمی

اللہ تعالیٰ ہماری غلطیاں کوہتائیاں گناہ معاف فرمائے اس وقت پوری دنیا جس وبا میں مبتلا ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر کرم فرمائے ہم ان شدید پر فتن ماحول میں اس رحیم وکریم رب کائینات کے غضب و قہر میں مبتلا ہیں یہ عذاب کسی ایک فرقے قوم پر نہیں بلکہ بنی نوع انسان پر ہے یعنی خالق کائینات انسان کے مقصد حیات کو بھلانے کی سزا کی ہلکی سی چھلک دکھا کر ہمیں سدھرنے کا موقع دے رہا ہے مگر اک جانب یہ حضرت انسان حضرت نوح علیہ السلام کی پیروی کی بجائے حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند کی طرح حکم عدولی پر مضر ہے پہاڑ پر چڑھ کر اپنے کو محفوظ سمجھتا ہے ہم سرحد سندھ پنجاب بلوچستان کی اکائیوں نے مل کر آزادی کی جدوجہدکی اور مشترکہ جدو جہد کر کے ایک الگ وطن اور آزادی حاصل کی ایک ازادوطن حاصل کیا

اب ایک وطن کو ایک قوم کی ضرورت ہے مگر افسوس کہ وفاق اور صوبائی حکومت ایک صفحے پر ہونے کے باوجود طریقہ کار مختلف انداز میں اپنانے کا اظہار ہے ہم اج بھی مشکل کی اس گھڑی میں آپس میں سیاسی نمبر کی سکورنگ میں الجھے ہوئے ہیں وزیر اعظم 25 فیصد کی خاطر 75 فیصد بلکہ 100 فیصد کی قیمت پر ہمدردی کا اظہار فرما رہے ہیں انکی سیاسی جد وجہد میں لاک ڈاؤن کا اعلان جائز تھا بل جلانا ھنڈی کے ذریعے رقم منگوانا جائز تھا اب وبا میں لاک ڈاؤن ناجائز ہے اس وقت 25فیصد پر روزگار کا حصول مشکل کیوں نہ تھا اب اگر فنڈز کی سہولیات کا اعلان فرما یا ہے تو مقاصد کے حصول میں مکمل کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن بنایا جائے

جن مقاصد کے لئیے رقم مختص کی گئی ہے مقاصد کا حصول یقینی بنایا جائےصاحب ثروت اپنی جانب سے حفاظتی اقدامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں یہ جان ہے تو جہان ہے وائرس عقل قوم مذہب طبقہ کی پرواہ نہیں کرتا جیسے اس رب کی نعمتیں تمام بنی نوع انسان کے لیئے ہیں اس لیئے انسان کی خودسری کی وجہ سے عذاب بھی ہے اس وقت تمام اداروں کو کمال ذمہ داری سے فرائض انجام دینے کی ضرورت ہے یاد رہے کہ ہر ادارے میں کالی بھیڑیں موجود ہیں ان پر نظر رکھی جائے ادارے کو بدنام نہ کروائیں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کےملکی وقومی مفاد کے لئیے اقدامات کیئے جائیں فرائض نبھائے جائیں ہم ہمسائے کے حقوق یاد رکھیں تو کوئی بھوکا نہیں سوئے گا اگر غریب بچے گا تو کارخانوں میں کام کے قابل ہوگا

ورنہ امیر کا کارخانہ کیسے چلے گا سکندر اعظم جب دنیا سے گیا اس کی دولت اس کے کوئی کام نہ آئی تو کیوں نہ اللہ سے ہی تجارت کی جائے اس کے نام پر تن من دھن وار دیا جائے جس کا اجر آخرت میں 70 گناہ سے زائد ملے گا رواداری اپنا کر ہر ایک ضرورت مند کی مدد کی جائے اس وقت پاکستان اس وبا کی لپیٹ میں ایشیا میں ایران کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ہم اس بات میں الجھے ہوئے ہیں کہ ایران سے شعیہ زائرین کی وجہ سے ہے کہیں تبلیغی جماعت کے افراد کی وجہ بتائی جارہی ہے کہیں کچھ کہیں کچھ خدا کے لئیے ایسا کرنے کا وقت نہیں اپنے طریقے سے معافی مانگیں توبہ کریں اس جلد راضی ہونے والے کو اپنے اعمال سے راضی کریں ہم حکومت کی طرف نہ دیکھیں بلکہ خود اہم ذمہ دار شہری بن کے ذمہ داری کا ثبوت دیں احتیاطی تدابیر اختیار کر یں حکومت سے مدد لینے کی بجائے حکومت کی مدد کی جائے

جب بچ جائیں گے سیاست بھی کرلیں گے اس وقت قوم بننا ہے سیاسی جھنڈے اٹھانے یا گاڑنے کی بجائے قومی پرچم کے سائے تلے ایک ہو جائیں مدینے کی مواخات کی سنت ادا کریں یاد کریں کہ دجلہ کے کنارے اگر کتا بھی بھوکا مرے تو حاکم وقت خود۔کو جوابدہ سمجھے ہمیں ہر چیز کی قیمت جس حد تک کم کر کے سہولت دیے سکتے ہیں دیں ایک دوسرےصوبےکی حکومت سے اچھی بات اور اقدامات میں سبقت لینے کی کوشش کریں اقربا پروری ایسے دیکھنے میں آئے کہ ہر کوئی اپنا ہے اسلامی جنگ میں زخمیوں کی العتش کی آوازیں بلند ہوئیں تو پانی پلانے والے سے کسی نے پانی نہ پیا کہ پہلے دوسرے زخمی پیاسے کو پلادیا جائے

یوں ہر پیاسے نے اس لمحے بھی قربانی و ایثار کا دامن نہ چھوڑا ہم اس ہی قوم وملت کے امین ہیں ہمیں بجھا ہوا دیا نہی بلکے روشن چراغ بن کر بجھے ہوئے چراغ کو روشن کرنا ہے عذاب کے اس گھٹن والے ماحول میں اپنے آباؤ اجداد کے کردار کیےروشن چراغ کی لو سے منور کرنا ہے اقوام عالم میں باہمت اور مضبوط قوم بن کر ابھرنا ہے اور تاریخ کے ابواب میں ایک روشن باب کا اضافہ کرنا ہےتمام ادارے اپنی بہترین صلاحیتوں سے بھرپور کارکردگی پیش کریں جس شعبے کا جو ماہر ہے اس کے مشورے اور صلاحیتوں سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے یہ وقت تنقید کا یا ایک دوسرے پر انگلی اٹھانے کا نہیں بلکہ پورا ھاتھ تھامنے کا ہےہم اقوام عالم کو ثابت کریں کہ ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں کیونکہ ہم
@خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ھاشمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں