کورونا وائرس ٹیسٹ کیلیے نمونے گھروں سے حاصل کرنے کی اجازت 98

کورونا وائرس ٹیسٹ کیلیے نمونے گھروں سے حاصل کرنے کی اجازت

کراچی: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی) نے سندھ میں کورونا ٹیسٹ کی سہولیات فراہمی کیلیے ایڈوانس لیب اور اس کے پارٹنر ہاشمانی لیب کو معائنے کے بعد کورونا وائرس ٹیسٹ کیلیے نمونے گھروں سے حاصل کرنے کی اجازت دیدی۔

کمیشن نے سندھ میں کورونا وائرس ٹیسٹ کی سہولیات بڑھانے کیلیے ایڈوانس لیب اور ہاشمانی لیب کا معائنہ کیا اور ان چند سفارشات پر عمل درآمد کے بعد گھروں سے سیمپل حاصل کرنے کی اجازت دے دی، جبکہ ضیا الدین یونیورسٹی اسپتال اور کراچی چلڈرن اسپتال کی انتظامیہ کو بھی ٹیسٹ کرنے کی اجازت دیدی۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی انسپکشن ٹیم نے کمشنر  اور ڈپٹی کمشنرز میرپور خاص سے آئسو لیشن وارڈ اور قرنطینہ سینٹرز قائم کرنے کیلیے ملاقات کیں، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے آئسو لیشن وارڈ اور قرنطینہ سینٹر قائم کرنے کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

میٹنگ کے بعد مشترکہ ٹیم نے محمد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج بوائز ہاسٹل کے 3 ہال، 40بیڈ اور 12وینٹی لیٹرز پر مشتمل سہولت کا جائزہ لیا۔جبکہ نیو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میرپور خاص میں چار ہال، 40 بیڈ اور پانچ وینٹی لیٹرز کی سہولت کا جائزہ لیا، اس کے بعد کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور میڈیکل سپرٹینڈنٹ میرپور خاص اسپتال سے بھی میٹنگ کی۔

کورونا وائرس ایمرجنسی کمیٹی آف بورڈ آف کمشنرز نے پی سی آر، آئسو لیشن، قرنطینہ اور ٹریٹمنٹ سینٹرز قائم کرنے کیلیے اپنی سفارشات محکمہ صحت سندھ کو ارسال کردیں، چیف سیکریٹری کی جانب سے لیبارٹریز اور تشخیصی مراکز کے حوالے سے بنائی گئی ٹیکٹیکل کمیٹی جس میں سی ای او ایس ایچ سی سی ڈاکٹر منہاج قدوائی، ڈاکٹر ایاز مصطفی، آغا اسپتال اور انڈس اسپتال کے ماہرین نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلیے الگورتھم تیار کرلیا، انسداد اتائیت ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم نے 144لیبارٹریز اور تشخیصی سینٹرز کا معائنہ کیا۔

ٹیم نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مزید 4 کلینکس کو سیل کردیا، سندھ بھر میں اب تک 3498اتائیوں کے کلینکس کو سیل کیا جاچکا ہے، 1254دیگر مراکز کو تنبینہ نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں، انسداد شکایات ڈائریکٹوریٹ کو اسپتالوں سے متعلق مریضوں کی 132شکایات وصول ہوچکی ہیں جس میں سے 87کو کامیابی کے ساتھ حل کیا جاچکا ہے جبکہ 39دیگر مختلف مراحل میں ہیں اور 7کو قانونی طریقے سے حل کیاجارہا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف لائسنسنگ اینڈ ایکریڈیشن کو اب تک 10,739طبی مراکز نے رجسٹریشن کیلیے درخواستیں جمع کروائیں جن میں سے 9509رجسٹرڈ کیا جاچکا ہے، ڈائریکٹوریٹ نے وینٹی لیٹرز اور آئسو لیشن وارڈز کا ڈیٹا مرتب کرلیا اور متعلقہ اداروں کو رپورٹ بھیج دی۔

صوبائی وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو کی ہدایت کی روشنی میں لیبارٹریز کو کوروٹا وائرس کے مریضوں کا ڈیٹا شیئر نگ کے حوالے سے لیٹرز جاری کردیے ہیں، ڈائریکٹوریٹ آف کلینکل گورننس نے کورونا کے مرض سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کیلیے پالیسی مرتب کرلی اور متعلقہ ادارے کو ارسال کردی ہیں، آئسو لیشن کے قیام سے متعلق پالیسی ترتیب دیدی گئی ہے اس حوالے سے سادہ فارم مرتب کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں