صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مسائل کے حوالے سے اپوزیشن اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ،مولانا لطف الرحمٰن 65

صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مسائل کے حوالے سے اپوزیشن اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ،مولانا لطف الرحمٰن

ڈیرہ اسماعیل خان ( غنچہ نیوز) خیبر پختونخوا اسمبلی میں جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈرو ضلعی امیر جمعیت علمائے اسلام ڈیرہ مولانا لطف الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کرونا وائرس کیخلاف اقدامات کے حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے،

جون میں ہونیوالے صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مسائل کے حوالے سے اپوزیشن اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی، وفاقی حکومت کی کابینہ کا ایک وزیر کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن کے باوجود حکومتی ایس او پیز کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان میں کھلے عام جلسے کرکے کیا پیغام دے رہا ہے،

اگر حکومتی وزیر کا یہ کردار ہے تو پھر عوام کیونکر حکومتی ایس اوپیز پر عمل کرینگے۔ پی ٹی آئی حکومت دھاندلی زدہ حکومت ہے جس کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شور کوٹ میں اپنی رہائشگاہ پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس موقع پر جے یو آئی کے ضلعی جنرل سیکرٹری چوہدری اشفاق ایڈوکیٹ اور سیکرٹری مالیات حاجی عبداللہ بھی موجود تھے۔ مولانا لطف الرحمن نے کہا کہ حکومت نے چینی پر سبسڈی دی جس کا مقصد عوام کو سستی چینی کی فراہمی ہوتا ہے

لیکن ان کی سبسڈی کے بعد 55روپے کلو والی چینی80سے85روپے فی کلو ہوگئی۔ حکومت چینی اور آٹا بحران کے ذمہ داروں کیخلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہی، جو اس بحران کے اصل کردار و ذمہ ہیں انہیں کچھ نہیں کہا جارہا اور جو ذمہ دار نہیں حکومت ان پر الزام لگا رہی ہے۔

اپوزیشن متحد ہے، قوم کی آواز کو اپوزیشن اسمبلی میں بھرپور انداز میں اٹھائے گی۔پشاور بی آرٹی کا منصوبہ جو صرف6ماہ کا تھا لیکن اڑھائی سال گزرنے اور لاگت کئی گنا بڑھ جانے کے باوجود مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی بیوٹیفکیشن کے سلسلے میں اربوں روپے کے فنڈز خرد برد کردیئے گئے ہیں، شیخ یوسف روڈ تین دفعہ تعمیر ہونے کے بعد انصافیوں کے کرپشن فری پاکستان میں زمین میں دھنس رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن کے دوران اپنی تمام سیاسی سرگرمیاں منسوخ کیں، ایس او پیز پر عمل کیا اور لاک ڈاﺅن کے دوران غریب نادار و مستحق افراد کو ان کے گھروں کی دہلیز پر راشن پہنچایا۔

زرعی یونیورسٹی کا منصوبہ ہم نے اپنے دور اقتدار میں شروع کیاتھا جس کی منظوری اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے دی تھی، اس کیلئے ہم نے 4ارب روپے کے خطیر فنڈز بھی رکھے تھے لیکن آج 4سال گزرنے کے باوجود زرعی یونیورسٹی کیلئے زمین خریدی گئی نہ ہی عمارت تعمیر کی گئی۔

ڈیرہ تعلیمی بورڈ ہم نے ایک دہائی قبل رکھی تھی لیکن آج تک اس ادارے کو بھی اپنی عمارت نہ مل سکی۔جمعیت نے جو چیزیں اپنے دور میں چھوڑی تھیں وہ وہیں کی وہیں رکی ہوئی ہیں، ان پر کوئی کام نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کا کلچر پاکستان سے مطابقت نہیں رکھتا، دہشتگردی کے حوالے سے ہمارا خطہ زیادہ متاثر ہوا،

گومل یونیورسٹی ہماری عظیم مادر علمی ہے لیکن یہاں ایسے حالات بنائے گئے کہ یہاں تعلیم کی بجائے گروپ بندی پروان چڑھی اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ادارے کو گرانٹس کی بیساکھیوں پر چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت مسائل حل کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں