وائرس ہمارے جین ’’چوری‘‘ کرکے مزید خطرناک بن سکتے ہیں، تحقیق 75

وائرس ہمارے جین ’’چوری‘‘ کرکے مزید خطرناک بن سکتے ہیں، تحقیق

نیویارک: ماہرین کی ایک عالمی تحقیقی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ انسانوں کو بیمار کرنے والے سیکڑوں وائرس، انسان ہی کا جینیاتی کوڈ چوری کرکے خود کو تبدیل کرسکتے ہیں اور اس طرح ارتقاء پذیر ہو کر مستقبل میں اور بھی زیادہ خطرناک اور ہلاکت خیز بن سکتے ہیں۔

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ وائرس جب کسی جاندار پر حملہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس کی جینیاتی مشینری پر قبضہ کرکے اس سے اپنی ہی مزید نقلیں تیار کروانے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں جاندار بیمار پڑجاتا ہے اور ہلاک بھی ہوسکتا ہے۔ انسانوں کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں جنہیں ہر وقت طرح طرح کے وائرسوں کا سامنا رہتا ہے۔

البتہ وائرس کے ماہرین (وائرولوجسٹس) میں سے کچھ کو شبہ تھا کہ ’’آر این اے وائرس‘‘ کی وسیع جماعت سے تعلق رکھنے والے بیشتر وائرس جب انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں تو وہ صرف اس کی جینیاتی مشینری کو ’’ہائی جیک‘‘ ہی نہیں کرتے بلکہ انسانی جینیاتی کوڈ کا کچھ حصہ چوری کرکے اسے اپنے جینوم (جین کے مجموعے) میں شامل کرلیتے ہیں۔

واضح رہے کہ ہیپاٹائٹس سی، پولیو اور انفلوئنزا سے لے کر سارس، مرس اور موجودہ ’’ناول کورونا وائرس‘‘ تک، زیادہ تر خطرناک اور ہلاکت خیز وائرسوں کا تعلق ’’آر این اے وائرس‘‘ ہی کے قبیلے سے ہے۔

ماہرین کو آر این اے وائرسوں پر اس لیے بھی شبہ تھا کیونکہ دیگر اعلی جانداروں کی طرح انسانوں میں بھی ڈی این اے (جین) سے پروٹین بننے کے نظام میں آر این اے کو ’’درمیانی کڑی‘‘ کا مقام حاصل ہوتا ہے، جس کے بغیر پروٹین سازی کا عمل ناممکن ہے۔

ان کا مفروضہ بھی یہی تھا کہ آر این اے وائرس اسی درمیانی کڑی سے متعلق ’’جینیاتی سگنلوں‘‘ کو چوری کرکے اپنے جینوم میں شامل کرکے خود کو تبدیل کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی اگلی نسل انسانوں کےلیے اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

لیکن کیا واقعی ایسا ہی تھا؟ یہ جاننے کےلیے امریکا، برطانیہ، پرتگال، اٹلی، فرانس اور چین کے سائنسدانوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے مختلف آر این اے وائرسوں کے طریقہ واردات اور ارتقائی مدارج کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیا۔

اس طویل تحقیق سے جہاں یہ تصدیق ہوئی کہ آر این اے وائرس واقعی میں انسانی جین چوری کرکے اپنے جینوم میں شامل کرتے ہیں، وہیں یہ انکشاف بھی ہوا کہ جب کسی آر این اے وائرس کے ساتھ انسان کا (چوری شدہ) جینیاتی کوڈ مل جاتے ہیں تو اس سے مختلف قسم کی پروٹین بنتی ہے جو یا تو انسان اور وائرس کی پروٹین کا مجموعہ ہوسکتی ہے یا پھر اس ملاپ سے کوئی بالکل ہی نئی پروٹین وجود میں آسکتی ہے۔

اگرچہ یہ دریافت بہت اہم ہے جس سے مستقبل میں وائرس سے ہونے والے امراض کی تشخیص اور ان کے علاج میں خاصی مدد ملنے کے روشن امکانات ہیں لیکن فی الحال یہ ایک لمبے سفر کا پہلا قدم ہے۔

اگلے مرحلے میں ماہرین اس جینیاتی چوری پر مزید تحقیق کرتے ہوئے اس عمل کی مزید تفصیلات معلوم کریں گے جس سے وائرسوں کے ارتقاء سے متعلق جاننے میں بھی خاصی مدد ملے گی۔ اس کے بعد ہی کہیں جاکر ان تمام معلومات کی بنیاد پر امراض کی تشخیص اور علاج کا مرحلہ آئے گا۔

نوٹ: مذکورہ تحقیق کی تفصیلات ایک طویل مقالے کی شکل میں آن لائن ریسرچ جرنل ’’سیل‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں