یونیورسٹی کوشدید مالی دباﺅکے باوجود پہلی بار خسارے کے بغیر یونیورسٹی کا سرپلس بجٹ پیش کیاہے ،پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد 60

یونیورسٹی کوشدید مالی دباﺅکے باوجود پہلی بار خسارے کے بغیر یونیورسٹی کا سرپلس بجٹ پیش کیاہے ،پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد

ڈیرہ اسماعیل خان ( غنچہ نیوز)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی ڈیرہ پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ یونیورسٹی کوشدید مالی دباﺅ اور مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود پہلی بار ہم نے خسارے کے بغیر یونیورسٹی کا سرپلس بجٹ پیش کیاہے جوکہ تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے ،جبکہ اگلا بجٹ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا،

یونیورسٹی میں غیر قانونی اور غیر ضرروی بھرتیوں کا بہت زیادہ بوجھ ہے جس سے جھٹکار ا حاصل کرنے کے لئے ہمیں انتہائی سخت فیصلے کرنے ہوں گے ،ملک کی ترقی میں ریسر چ کا انتہائی کلیدی کردار ہوتاہے لہذایونیورسٹی کے بجٹ میں پہلی بار ریسرچ کے لئے ایک فیصد مختص کیاگیا ہے۔

غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے ،بجلی کے اخراجات میں کمی لانے کے لئے سولر سسٹم قائم کیاجارہاہے جس بجلی کے بل کی مد میں کروڑوں روپے کی بچت ہوگی ۔ یہ بات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ا فتخار احمد نے اپنے دفتر میں ایک خصوصی ملاقات میں کہی،

انہوںنے کہا کہ امریکہ سے فزکس میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد کافی عرصہ وہیں پڑھایا لیکن اپنے ملک اور قوم کی خدمت کی خلش ہمیشہ دل میں موجودرہی ہے،اسے جذبے کے تحت یہاں سے دگنی تنخواہ اور مراعات سب کچھ چھوڑ کر وہ 2007 میں وآپس پاکستان آگئے ،

اسلامیہ کالج پشاور سے درس وتدریس کا آغاز کیا اور بعدازاں مالاکنڈ یونیورسٹی ،ہزارہ یونیورسٹی اور پھر ایبٹ آباد یونیورسٹی میں وائس چانسلر خدمات سرانجام دیں ، ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ ریسرچ کا کام انہی کا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر حبیب ہیں ،

انہوں نے کہا کہ ہم نے گومل یونیورسٹی میں ریسرچ پر خصوصی توجہ دے ہیں ،پہلی مرتبہ بجٹ کا ایک فیصد حصہ ریسرچ کے لئے مختص کیاگیا ہے جبکہ آئندہ بھی اس میں مذیداضافہ کیا جائے گا ، انہوںنے کہا کہ یونیورسٹی اور کالجز میں کوئی بھی تعلیمی پروگرام شروع کرنے سے پہلے عہد حاضر اور مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے

اور وقت کے ساتھ ساتھ فیلیٹی ڈینز اور سنیئر اساتذہ کرام کی مدد سے ان میں مذید بہتری لانے کا عمل جاری رہنا چاہئے کیونکہ تعلیمی شعبے میں جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات لانا وقت کی اہم ضرورت ہے ،

گومل یونیورسٹی ڈیرہ محدود مالی وسائل کے باوجود طلبا و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے اور بہت جلد یونیورسٹی کا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال کریں گے ،یونیورسٹی میں نئے کورسز بھی متعارف کرائے جائیں گے

تا کہ زیادہ سے زیادہ طلبا و طالبات یونیورسٹی سے مستفید ہو سکیں یونیورسٹی کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے کوئی مالی امداد موصول نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے یونیورسٹی کا ترقیاتی پروگرام تعطل کا شکار ہے –

انہوں نے کہا کہ جامعات کو زیادہ فنڈز اور حکومتی سر پرستی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے دونوں کی عدم دستیابی سے طلبا و طالبات کو بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے اور تمام اخراجات فیسوں سے ہونے والی آمدنی سے ہی پورے کئے جا رہے ہیں۔

انہو ںنے کہا کہ وائس چانسلر کا چارج سنبھالنے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری اور ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اپنے محدود وسائل سے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں