درخت کے ساتھ ایک بزرگ کا مکالمہ 41

درخت کے ساتھ ایک بزرگ کا مکالمہ

ہمیں چاہئے کہ ہم نیکی کے اوپر استقامت کے ساتھ جمے رہیں، پہلے دور کے بزرگ حضرت سری سقطی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر جا رہا تھا، راستے میں تھک گیا، اور ایک سایہ دار درخت کے سائے میں آرام کرنے کے لئے لیٹ گیا جب میری آنکھ کھلی تو میں نے درخت سے آوز آتے سنی، یہ جو اللہ والے ہوتے ہیں ان کو بعض اوقات اللہ تعالی سمعی یا بصری کشف عطا فرما دیتے ہیں وہ عجیب سی آوازیں سنتے ہیں جو ہم نہیں سن پاتے،

تو فرماتے ہیں کہ وہ درخت مجھ سے گفتگو کر رہا تھا، اور کہہ رہا تھا، اے سری: تو میرے جیسا ہو جا، فرماتے ہیں کہ میں بڑا حیران ہوا، کہ یہ درخت مجھے کہہ رہا ہے کہ اے سری، تو میرے جیسے ہو جا، تو میں نے اس درخت سے مخاطب ہو کر کہا میں تیرے جیسا کیسے بن سکتا ہوں تو درخت نے جواب دیا جو لوگ میری طرف پتھر پھینکتے ہیں میں ان لوگوں کی طرف اپنے پھل لوٹاتا ہوں تو بھی میرے جیسا ہو جا، تجھے بھی لوگ پتھر ماریں گے اور تو بھی ان پتھروں کے جواب میں اپنا پھل لوٹا دینا،

ان کے ساتھ حسن خلق سے پیش آنا فرماتے ہیں کہ میں درخت کا جواب سن کر بڑا حیران ہوا کہ یہ درخت نے کیا عجیب بات کہی، لیکن فورا میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ اگر یہ درخت اتنے اچھے ہیں کہ پتھر مارنے والوں کو بھی اپنا پھل کھلاتے ہیں تو پھر ان درختوں کو اللہ تعالی نے آخر آگ کی غذا کیوں بنایا فرماتے ہیں کہ جب ذہن میں یہ خیال آیا تو میں نے درخت سے یہ سوال پوچھا اے درخت! پھر یہ بتا کہ اللہ تعالی نے تجھے آخر آگ کی غذا کیوں بنا دیا، حالانکہ تو اللہ تعالی کی مخلوق کو سایہ فراہم کرتا ہے،

سانس لینے کے لئے اکسیجن فراہم کرتا ہے، پتھر مارنے والوں کو پھل بھی کھلاتا ہے، تھر آخر میں آگ کی کیوں غذا بنتا ہے، درخت کہنے لگا لیکن میرے اندر ایک خامی بہت بری ہے، جدھر کی ہوا چلتی ہے، میں ادھر کو ڈول جاتا ہوں، سری، میرے اندر استقامت نہیں ہے، اور یہ بات میرے اللہ کو اتنی ناپسند ہے کہ میری تمام خوبیوں کے باوجود اللہ تعالی نے مجھے آگ کی غذا بنا دیا ہے، دوستو! میں جب یہ سوچتا ہوں کہ ہمارے ملک میں سیاسی استقامت کیوں نہیں ہے جس کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کر رہا ہے،

ہمارے ملک میں بھی ایسے سیاست دان ہیں، جن میں سیاسی استقامت نہیں ہے، جو پارٹی الیکشن جیتتی ہے توہمارے سیاسی لیڈر ادھر کا رخ کرتے ہیں، بااصول سیاسی لیڈر بھی موجو دہیں، لیکن اقتدار کی طرف بھاگنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے، پھلوں اور گناہوں کے وزن میں مماثل، جس طرح درخت کو اپنے پھل بھاری نظر نہیں آتے، اسی طرح انسانکو بھی اپنے گناہ وزنی معلوم نہیں ہوتے،

دوسرا بندہ چھوٹی سی غلطی کرے تو ہمیں بڑی نظر آتی ہے، اور خود جتنی بھی بڑی غلطی کر لیں اس کو معمولی سمجھتے ہیں خود رو درخت کی طرح مت بنئے کیوں خود رو درخت خود بخود اگ آتا ہے، اسی لئے اسے خود رو درخت کہتے ہیں، اسے پینے دینے والا بھی کوئے نہیں ہوتا اس کی شاخوں کی کاٹ تراش بھی کوئی نہیں کرتا، لہذا وہ دیکھنے میں بڑا بے ڈھنگا سا ہوتا ہے، اور یہ پھل بھی پورا نہیں دیتا، اور ایک درخت وہ ہوتا ہے جس کی دیکھ بھال کے لئے مالی ہوتا ہے،

وہ سا کی پروننگ کر کے اس کو بڑے خوبصورت طریقے سے اوتر بڑھاتا ہے وہ اس کو ضرورت کے مطابق پانی بھی دیتا ہے اس کی غذا کا بھی خیال رکھتا ہے، ایسا درخت پھل بھی یادہ دیتا ہے اور دیکھنے میں خوبصورت بھی لگتا ہے بالکل یہی مثال انسان کی بھی ہے، بعض انسان اپنے بڑوں کی تربیت میں ہوتے ہیں ان کی شخصیت دیکھنے میں بھی دیدہ زیب ہوتی ہے اور ان کے اعمال سے اللہ کے بندوں کو راحت ملتی ہے، اور کچھ بندے خود رو درخت کی مانند ہوتے ہیں ان کو سمجھانے والا نہیں ہوتا، وہ خود ہی بڑے ہو جاتے ہیں جیسے کانٹے دار درخت ہوتا ہے، ویسے ان بندوں کی شخصیت ہوتی ہے۔
٭٭٭………٭٭٭
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں