قومی اسمبلی میں علی آمین گنڈہ پور اور مولانا اسعد مح 144

قومی اسمبلی میں علی آمین گنڈہ پور اور مولانا اسعد محمود کے درمیان تلخ ونازیبا جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک سے منتخب اراکن قومی اسمبلی علی امین خان گنڈہ پور اور مولانا اسعدمحمود کے درمیان اس وقت شدید جھڑپ ہوئی جب اسعد محمود نے علی امین گنڈہ پور کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا،

جواب میں علی امین گنڈہ پور نے بھی اپنا روایتی انداز اختیارکیا، اجلاس میں دونوں اراکین اسمبلی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، مولانا اسعد محمودنے قومی اسمبلی میں علی امین گنڈہ پور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اسمبلی فورم پر کوئی غیر پارلیمانی زبان استعمال نہیں کرنا چاہتا لیکن مجھے آپ کی غیرت بھی مجھے معلوم ہے آپ کا جذبہ بھی مجھے معلوم ہے آپ کی طاقت بھی مجھے معلوم ہے،لمبے بالوں اور لمبی مونچھوں سے کوئی طاقت ور نہیں بنتا۔ ہم نے یہ پگڑیاں اس لئے نہیں پہنی کہ آپ جیسے کردار کے لوگ ہمیں دبا سکیں، ہم تمہارے آقاامریکہ سے نہیں دبے، اس دوران علی امین گنڈہ پور بھی اپنے پنچ پر کھڑے ہوگئے اور اسعد محمود کو جواب دیتے رہے ان کا مائک بند ہونے سے آواز نہیں آسکی،

تاہم اس دوران اسمبلی ہال میں شدید شور وغل شروع ہوگیا۔ڈپٹی سپیکر ممبران کو منع کرتے رہے، اسعد محمود نے کہا کہ ہم نے آپ کے ممبران کی تقاریر تحمل سے سنی ہیں یہ جانتے ہوئے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ مولانا اسعد محمود نے علی آمین گنڈہ پور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپکا کردارمعلوم ہے کہ کیا ہے؟ اسعد محمود نے کہا کہ بنی گالہ کی سڑکوں پر میں نہیں بھاگ رہا تھا۔بعد میں علی امین گنڈہ پور نے اسمبلی فورم پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے کردار پر بات کی گئی ہے میرا کردار یہ ہے کہ اس کے والد مولانا فضل الرحمن کو میں نے عوام کی طاقت کے بل بوتے پر ڈبل ووٹوں سے شکست دی ہے۔

میں اسمبلی میں ہوں اور مولانا ڈیرہ میں لسی پی رہا ہے۔ علی امین گنڈہ پور نے کہا کہ مولانا کے متعلق وکی لیکس میں کہا گیا کہ امریکن ایمبیسڈر سے مولانا نے کہا کہ مجھے موقع دیں میں مسلم لیگ سے زیادہ خدمت کرونگا اور ڈرون حملوں کی ان سے زیادہ اجازت دونگا۔علی امین گنڈہ پور نے کہا کہ جتنے کشمیریوں سے ملا ہوں وہ مولانا سے نفرت کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کا خط ریکارڈ پرہے کہ انھوں نے میری اورعمران خان کی خدمات کوسراہا ہے۔ عورت کی حکمرانی حرام قرار دیتے والے ڈیزل کے پرمٹ لیکر ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ مفتی محمود کاکچہ کمرے کا گھر تھا اور ان کی کروڑوں کی پراپرٹی ہے۔علی امین گنڈہ پور نے کہا جنہوں نے مولانا مفتی محمود کا اسمبلی سے نکالا آج یہ ان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں