اپوزیشن کی اے پی سی شروع، آصف زرداری اور نوازشریف کا وڈیو لنک پر خطاب 75

اپوزیشن کی اے پی سی شروع، آصف زرداری اور نوازشریف کا وڈیو لنک پر خطاب

اسلام آباد: (اعتدال نیوز) حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں نے صف بندی کر لی، اسلام آباد میں اپوزیشن کی اے پی سی کا آغاز ہو گیا، شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف زرداری وڈیو لنک کے ذریعے آل پارٹیز کانفرنس میں‌شریک ہوئے اور اے پی سی کا انعقاد تمام شرکا کی مشترکہ کاوش قرار دیا. نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہوچکی، قرضوں‌ کے ریکارڈ‌ ٹوٹ‌ گئے ہیں، نالائق حکومت نے ہر معاملے پر یوٹرن لیا ہے.

سابق صدر آصف زرداری نے اے پی سی سے خطاب کے دوران قائد ن لیگ نواز شریف کا دعوت قبول کرنے پر شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو نکال کر جمہوریت بحال کریں گے، عمران خان کی سوچ ایک میجر کی سوچ ہے۔ یہ کوئی جمہوریت نہیں اس طرح ملک نہیں چلتے، ہم حکومت گرانے نہیں بلکہ بچانے آئے ہیں۔

شریک چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ بے نظیر نے نوازشریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے، ہم نےکوشش کی کسی طرح جمہوریت بچے لیکن لگتا نہیں کہ ان کاجمہوری اداروں کوبحال کرنےکا ارادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا مریم بی بی نے کیا تکلیفیں برداشت کیں، بی بی کوسلام کرتا ہوں، ہم آپکے ساتھ ہیں۔ آج مریم بی بی بھی یہاں موجود ہیں، انہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔ میڈیا پر پابندیاں جتنی اس حکومت میں دیکھیں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھیں۔ آج میڈیا پر پابندی حکومت کی کمزوری ہے، بھاگے ہوئے آمر کا انٹرویو دکھایا جا سکتا ہے، میرا نہیں، یہ ان کیلئے ناپاک ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنے وڈیو خطاب میں کہا کہ دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا ہے، عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ پاکستان کو درپیش تمام مسائل کی بنیادی وجہ صرف ایک ہے کہ جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوری نظام میں عوام کی روح ہوتی ہے۔ انتخابات ہائی جیک کرکے اقتدار چند افراد کو منتقل کر دینا بڑی بدیانتی اور آئین شکنی ہے، انتخابی نتائج تبدیل نہ کیے جاتے تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کبھی عمل میں نہیں آسکتی تھی۔

نوازشریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سوچ سےمتفق ہوں، ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کراس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہو گا۔ ایک مرتبہ سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا تھا یہاں ریاست میں ریاست قائم ہے، یہاں یا تو مارشل لاء ہوتا ہے یا منتخب حکومت سے کہیں زیادہ طاقتورایک متوازی حکومت قائم ہو جاتی ہے، عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو کس طرح اسکے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں۔ کسی بھی منتخب وزیراعظم کو اوسطاً دوسال سے زائد شاید ہی موقع ملاہو۔ جولوگ بھی دھاندلی کےذمہ دار ہیں انہیں حساب دینا ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہی ہے، جو نیب سے بچ جائے وہ ایف آئی اے کے ہتھےچڑھ جاتا ہے، ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو آل پارٹیز کانفرنس کے میزبان ہیں، ن لیگ کا وفد شہبازشریف کی قیادت میں موجود ہے۔ فضل الرحمان، نیشنل پارٹی، اے این پی، بی این پی مینگل کے وفود بھی شریک ہیں۔ جماعت اسلامی نے اپوزیشن جماعتوں کی بیٹھک میں آنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

قبل ازیں پیپلزپارٹی نے اے پی سی کیلئے اپنی تجاویز تیار کر لیں، کانفرنس میں وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی تجاویز بھی شامل ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت کی طرزکا نیا معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔ اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے بھی باقاعدہ تحریری معاہدہ ہو گا۔ اپوزیشن کی کوئی جماعت تحریری معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹ سکے گی۔

پیپلز پارٹی رہنماوں میں یوسف رضا گیلانی، قمرزمان کائرہ، شیری رحمان سمیت دیگررہنما کانفرنس میں شریک ہیں جبکہ ن لیگی وفد میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور دیگر رہنما شامل ہیں۔ جے یو آئی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان، مولانا عبدالغفور حیدری اور اکرم خان درانی اے پی سی میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کی اے پی سی میں‌ میثاق جمہوریت کی طرح نیا معاہدہ ہونے کا امکان

کثیر الجماعتی کانفرنس میں محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی، آفتاب شیرپاؤ، میر اسراراللہ زہری، مولانا اویس نورانی، پروفیسر ساجد میر اور نیشنل پارٹی کے نمائندگان بھی شریک ہورہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں