ٹوٹی ہڈیاں ’اگانے والی‘ پروٹینی پٹی 105

ٹوٹی ہڈیاں ’اگانے والی‘ پروٹینی پٹی

لندن: ہڈی کے بال یا سادہ فریکچر اپنے وقت پر ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن پیچیدہ فریکچرکے بعد ہڈی کی بحالی میں مہینے لگ جاتے ہیں۔ اب کنگز کالج لندن کے سائنسدانوں نے پروٹین اور اسٹیم سیل پر مشتمل ایک پٹی بنائی ہے جو نہ صرف ہڈی کی افزائش کرتی ہہ بلکہ مریض کو تیزی سے تندرست کرتی ہے۔

اس انقلابی طریقے سے ہڈیوں کے علاج کا ایک نیا دور شروع ہوسکے گا۔ نیچر مٹیریلز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ایک بایومٹیریل پر اسٹیم سیل اور ہڈی کے خلیات کا لیپ کیا گیا اور جب اسے ٹوٹی پھوٹٰی ہڈی پر لگایا گیا تو اس سے ہڈیاں تیزی سے ٹھیک ہونے لگیں۔

اس طرح شدید حادثوں کے بعد ہڈی کے ٹھیک نہ ہونے والے زخم بھرے جاسکیں گے بلکہ انفیکشن کا خطرہ بھی ٹل جائے گا۔ اس میں ایک خاص قسم کے حیاتیاتی مادے (بایومٹیریل) کو پروٹین سے ڈھانپا گیا ۔ یہ پروٹین پورے جسم کی افزائش اور مرمت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ ہڈیوں کی قدرتی افزائش کو تیزترکردیتا ہے۔ اس موقع پر اسٹیم سیل (خلیاتِ ساق) بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یوں مرمتی عمل تیز ہوجاتا ہے۔ مریض کو دیر تک ہسپتال میں نہیں رکنا پڑے گا جبکہ بالخصوص بوڑھے لوگوں کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

فی الحال ہڈیوں کی مرمت کے لئے مصنوعی پیوند یا عطیہ کندگان کی بافتیں (ٹشوز) لگائی جاتی ہے۔ اس عمل میں ٹوٹ پھوٹ کو ٹھیک کرنے کے لئے کسی دوسرے کی ہڈی کے خلیات لگانے پڑتے ہیں۔ یہ عمل کبھی کامیاب ہوتا ہے تو کبھی خاطر خواہ نتائج نہیں ملتے۔

اگرچہ خلیات سے ٹوٹی ہڈی کی بحالی کا تصور بہت پرانا ہے لیکن کئی صورتوں میں یا تو خلیات مرجاتے ہیں یا پھر طویل صحتیابی میں کوئی کردار ادا نہیں کرپاتے ۔ لیکن ہڈی نما پٹی لگانے سے پروٹٰین اور اضافی اسٹیم سیل پوری ہڈی میں سرایت کرجاتے ہیں اور یہ عمل تیز تر ہونے لگتا ہے۔

کنگز کالج میں ڈاکٹر شکری حبیب اور ان کے ساتھیوں نے یہ پٹی تیار کی ہے جو بطورِ خاص فریکچر پر عمل کرتے ہوئے صحتمند حصوں پر اثر نہیں ڈالتی۔ تجربہ گاہ میں آزمائش کے دوران اس ٹیکنالوجی نے صرف ایک ہفتے میں اسٹیم سیل کو ہڈی نما ٹشو میں بدل دیا۔ پھر اسے فریکچر والی جگہ پر لگایا گیا۔ فی الحال اسے بعض جانوروں پر آزمایا گیا ہے اور اگلے مرحلے میں انسانی آزمائش شروع ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں