نیند پوری نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی کم ہوجاتا ہے! 67

نیند پوری نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی کم ہوجاتا ہے!

وینکوور: اگر انسان کی نیند پوری نہ ہو تو وہ کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے لیکن کینیڈا میں کی گئی ایک تازہ ریسرچ سے مزید یہ بھی پتا چلا ہے کہ اگر نیند پوری نہ ہو تو انسان میں خوشی محسوس کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوجاتی ہے جس کے باعث وہ شدید اکتاہٹ اور کم تر کارکردگی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، وینکوور کی نینسی سِن کی نگرانی میں کی گئی اور اس میں 33 سے 48 سال کے 2000 افراد کا مطالعہ کیا گیا۔

آٹھ دن تک جاری رہنے والے مطالعے میں شریک تمام افراد سے روزانہ ایک سوالنامہ بھروایا گیا جس میں ان سے گزشتہ رات نیند کے دورانیے، کیفیت اور اس کے بعد دن میں مختلف جذبات، احساسات اور اعصابی تناؤ وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔

مطالعے کے بعد شرکاء کی فراہم کردہ تمام معلومات کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ تمام رضاکار جنہوں نے پوری نیند لی تھی، ان میں اگلے روز نہ صرف زیادہ اعصابی تناؤ کا سامنا کرنے کی صلاحیت موجود تھی بلکہ وہ بھرپور انداز میں خوشی محسوس کرنے کے قابل بھی تھے۔

نیند کی اہمیت سے متعلق ایکسپریس نیوز پر شائع شدہ یہ خبریں اور مضامین بھی ضرور پڑھیے:

اچھی اور گہری نیند کیسے؟
نیند کی کمی بھی غصیلے مزاج کی وجہ قرار
رات کو دیر تک جاگنے سے زندگی کے دن کم ہوجاتے ہیں، تحقیق
نیند قوت مدافعت کیسے مضبوط کرتی ہے؟
نیند پوری نہ ہونے سے دماغ خود کو ’کھانا‘ شروع کردیتا ہے

ان کے برعکس وہ افراد جنہیں صحت مند معمول سے کم نیند ملی یا جو سکون کی نیند نہیں سو سکے، انہوں نے اگلے تمام دن زیادہ اعصابی تناؤ محسوس کیا جبکہ خوشی کا باعث بننے والے واقعات پر بھی انہیں بہت کم خوشی محسوس ہوئی؛ یا پھر بالکل بھی خوشی نہیں ہوئی۔

ریسرچ جرنل ’’ہیلتھ سائیکالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند خراب ہونے یا ضرورت کے مطابق پوری نہ ہونے کے اثرات اگر ایک طرف ہماری جسمانی صحت کو متاثر کرتے ہیں تو دوسری جانب ہماری ذہنی و جذباتی کیفیت کو بھی تباہ کرسکتے ہیں۔

اسی بناء پر ماہرین کا مشورہ ہے کہ رات کو دیر تک جاگنے سے گریز کیا جائے اور نیند بھی صحیح وقت پر، پوری لی جائے۔ بصورتِ دیگر آپ کی صحت شدید طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں