وہ وقت کب آ ئے گا 57

وہ وقت کب آ ئے گا

میرے ایک دوست ہیں تین نسلوں سے کاروباری ہیں کراچی میں بزنس کرتے ہیں والد احمد آباد (گجرات) کے چھوٹے سے گاں میں دکان چلاتے تھے خاندان پاکستان بننے کے بعد کراچی آ گیا والد کاروبار کے سلسلے میں چٹاگانگ گئے مشرقی پاکستان میں فیکٹریاں لگانا شروع کیں اور یہ 17 فیکٹریوں کے مالک بن گئے۔ 1971 میں فسادات شروع ہو گئے یہ لوگ جان بچا کر بھاگے اور لاشیں پھلانگ کر واپس کراچی پہنچے نئے سرے سے کام شروع کیا اور ایک بار پھر قدموں پر کھڑے ہو گئے یہ اب ملک کے چند بڑے بزنس مینوں میں شمار ہوتے ہیں اور چار ارب روپے سالانہ ٹیکس دیتے ہیں۔

یہ چند دن قبل میرے پاس تشریف لائے گفتگو کے دوران بنگلہ دیش کا تذکرہ شروع ہوا تو مجھے پہلی مرتبہ پتہ چلا یہ سال میں تین چار مرتبہ بنگلہ دیش جاتے ہیں میں نے وجہ پوچھی یہ مسکرا کر بولے میرا ایک بھائی اور والدہ دونوں چٹاگانگ میں رہتے ہیں میں حیران ہو گیا یہ بولے ہم چٹاگانگ میں سب سے بڑے انڈسٹریل گروپ تھے بنگلہ دیش بننے کے بعد ہمارا سب کچھ مشرقی پاکستان میں رہ گیا تھا بنگلہ دیش بننے کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے میرے والد کو ڈھاکا بلوایا اور دوبارہ کام شروع کرنے کی درخواست کی ہمارے والد انکار نہ کر سکے چنانچہ ہم نے وہاں تھوڑا تھوڑا کام شروع کر دیا۔ آج بھی میری والدہ اور ایک بھائی چٹاگانگ میں ہیں میں ان سے ملنے جاتا رہتا ہوں میں نے ان سے پوچھا آپ کو 1970 اور آج کے چٹاگانگ میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے یہ ہنس کر بولے ہم اس زمانے میں شہر کی سڑکوں پر کرکٹ کھیلا کرتے تھے لیکن آج جب میں صبح ائیرپورٹ کے لیے نکلتا ہوں تو میلوں تک سر ہی سر ہوتے ہیںاور ڈرائیور دس منٹ کا سفر تین گھنٹوں میں طے کرتا ہے

میں نے پوچھا کیا یہ فرق آبادی کی وجہ سے ہے وہ ہنس کر بولے ہرگز نہیں چٹاگانگ میں دراصل ایکسپورٹ پروسیسنگ زون ہے اس میں 180 انٹرنیشنل فیکٹریاں ہیں یہ تمام لوگ کام کے لیے صبح وہاں جاتے ہیں چنانچہ سڑکوں پر انسانوں کا سیلاب دکھائی دیتا ہے اور اس سیلاب کا 90 فیصد عورتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کا اصل کمال خواتین ہیں ان لوگوں نے خواتین کو کارآمد بنا دیا چنانچہ ملک ترقی کر رہا ہے آپ وہاں کسی طرف نکل جائیں آپ کو وہاں عورتیں کام کرتی دکھائی دیں گی چنانچہ میں جب بھی چٹاگانگ جاتا ہوں مجھے یہ فرق حیران کر دیتا ہے۔

میرے دوست ٹھیک فرما رہے تھے بنگالیوں نے 1971 کے بعد خواتین کو ایکٹو لائف میں شامل کرنا شروع کر دیا تھا گرامین بینک اور براک جیسی آرگنائزیشنز نے مردوں کے بجائے عورتوں کو قرضے دینا شروع کر دیے اور یوں خواتین آہستہ آہستہ مردوں سے آگے نکلتی چلی گئیں یہاں تک کہ آج 82 فیصد جوان بنگالی خواتین کام کرتی ہیں آپ بنگلہ دیش کی کسی منڈی شاپنگ سینٹر آفس یا پھر فیکٹری میں چلے جائیں آپ کو وہاں ہر طرف خواتین نظر آئیں گی جب کہ پاکستان میں صرف ایک فیصد خواتین ورکنگ وومن ہیں یہ بنگلہ دیش کے اکنامک ماڈل کا پہلا حصہ ہے۔ آپ اب اس ماڈل کا دوسرا اور تیسرا حصہ بھی دیکھئے 1971 تک بنگلہ دیش کی معیشت امپورٹ بیسڈ تھی کھانے کا سامان تک باہر سے آتا تھا مشرقی پاکستان میں باتھ روم بھی مغربی پاکستان بنواتا تھا لیکن بنگلہ دیش نے آہستہ آہستہ اپنی معیشت کو امپورٹ سے ایکسپورٹ میں تبدیل کر دیا یہاں تک کہ 2018 میں بنگلہ دیش کی ایکسپورٹس 45 بلین ڈالرز تھیں یہ اس سال 47 بلین تک پہنچ چکی ہیں

اوریہ 2021 میں اپنی پچاسویں سالگرہ 50 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کے ساتھ منائینگے اور بنگلہ دیش نے یہ فیصلہ آج سے دس سال پہلے کیا۔ بنگالی حکومت نے 2011 میں اعلان کیا تھا ہم نے پچاسویں سالگرہ تک (2021) پچاس بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کا ٹارگٹ اچیو کرنا ہے اور یہ تقریبا اس ٹارگٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں اس کا جی ڈی پی بھی 348 بلین ڈالرز ہو چکا ہے اورگروتھ 7 اعشاریہ 9 فیصد ہے یہ اس لحاظ سے دنیا کی 39ویں معیشت بن چکا ہے اس کے مقابلے میں ہماری گروتھ منفی 0.4 ہو چکی ہے جی ڈی پی 280 بلین ڈالرزہے اور ہم 22 کروڑ لوگ صرف 20 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کرتے ہیں۔ آپ یہ حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے بنگلہ دیش میں کاٹن پیدا نہیں ہوتی لیکن یہ کپاس امپورٹ کر کے 20 بلین ڈالرز کا تیار کپڑا 19 بلین ڈالرز کا دھاگا سوا بلین ڈالرز کے جوتے (جاگرز) اور ایک بلین ڈالرز کی کاٹن ایکسیسریز ایکسپورٹ کرتا ہے

جب کہ کاغذ اور گرم کپڑے کی ایکسپورٹ 603 ملین ڈالرز مچھلی 532 ملین ڈالرز چمڑا 368 ملین ڈالرز ٹوپیاں 332 ملین ڈالرز کھالیں 140 ملین ڈالرز اور پلاسٹک کی مصنوعات کی ایکسپورٹ 113 ملین ڈالرز ہے یہ بڑی تیزی سے دنیا کے دس بڑے ایکسپورٹرز کی لسٹ کی طرف بھی بڑھ رہا ہے اور بنگلہ دیش کے فارن ایکس چینج ریزروز بھی39 بلین ڈالرزہیں جب کہ ہمارے ریزروز 19بلین ڈالرز ہیں۔ بنگلہ دیش کی کرنسی کا نام ٹکا ہے 1971 میں پاکستان کے ایک روپے کے چار ٹکا آتے تھے آج ایک ٹکا پاکستان کے اڑھائی روپے کے برابر ہے آج بھارتی اور بنگلہ دیشی کرنسی برابر ہو چکی ہے اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں بنگلہ دیش نے یہ ساری معیشت کمائی ہے اس میں کوئی کولیشن سپورٹ فنڈ وار آن ٹیرراور افغان جہاد کے پیسے شامل نہیں ہیں یہ ان کے ہاتھوں کی کمائی ہے جب کہ ہم امریکا عربوں اور چین کے سب سے بڑے جنگی سپورٹر ہونے کے باوجود کاسہ گدائی لے کر گلی گلی پھر رہے ہیں۔ یہ بنگالی کون ہیں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں

ہم جنکے ساتھ ہاتھ تک ملانے کے روادار نہیں ہوتے تھے یہ وہی لوگ نہیں ہیں جنھیں ہم چھوٹے قدوں تنگ چھاتیوں اور کالی رنگت کی وجہ سے فوج اور پولیس میں بھرتی نہیں کرتے تھے؟ ہم جنھیں ویٹرز اور خانساموں سے اوپر اسٹیٹس دینے کے لیے تیار نہیں تھے ہم جنھیں کنٹرول کرنے کے لیے مغربی پاکستان سے میجر جنرل اور چیف سیکریٹری بھجوا دیتے تھے اور وہ وائسرائے بن کر پورے مشرقی پاکستان کو کنٹرول کرتے تھے ہم جن کے بارے میں کہتے تھے بنگالیوں کو باتھ رومز اور ٹوائلٹس کی کوئی ضرورت نہیں یہ سرکنڈوں کے پیچھے بیٹھ کر سب کچھ کر لیتے ہیں اور ہم جن کے لیڈروں کو دھوتی والے بھی کہا کرتے تھے اور انھیں اٹھا کر جیلوں میں پھینک دیتے تھے۔ ہم 1971 تک ان کے بارے میں کہا کرتے تھے، یہ ہم سے الگ رہ کر ایک سال نہیں گزار سکیں گے اور یہ روتے ہوئے ہمارے پاس آئینگے لیکن آج 49 سال بعد بنگلہ دیشی کہاں ہیں اور ہم کہاں ہیں؟ ہم بہادر دانشور چالاک اور خوبصورت ہونے کے باوجود نیچے سے نیچے جا رہے ہیں

جب کہ بنگالی بدصورت بیوقوف نالائق اور بزدل (یہ ہماری اشرافیہ کہا کرتی تھی میری رائے بنگالیوں کے بارے میں بالکل مختلف ہے) ہونے کے باوجود ترقی پر ترقی کرتے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی آبادی 1971 میں ساڑھے چھ کروڑتھی اور ہم چھ کروڑتھے لیکن آج یہ ساڑھے سولہ کروڑ ہیں اور ہم 22 کروڑہیں یعنی بنگالیوں نے اپنی آبادی تک کنٹرول کر لی اور ہم اپنی آبادی پر بھی قابو نہ پا سکے ہم دھڑادھڑ پھیلتے چلے جا رہے ہیں ہماری شرح خواندگی73سال بعد 60فیصداور بنگلہ دیش کی49سال میں 74فیصد ہو گئی ہم آج بھی مارشل لا کے خوف کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جب کہ بنگلہ دیش میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں اور آپ المیے پر المیہ دیکھئے۔ کراچی کے وہ بزنس مین اور صنعتکار جو 1971 میں جان بچا کر مغربی پاکستان آئے تھے وہ اب بنگلہ دیش میں فیکٹریاں لگا رہے ہیں یہ لوگ آج کے پاکستان سے بھاگ کر سابق پاکستان میں پناہ لے رہے ہیں ان کی کرکٹ ٹیم بھی ہم سے بہتر ہو چکی ہے

یہ عدل وانصاف میں بھی ہم سے آگے ہیں ان کی ٹیکس کولیکشن بھی ہم سے بہتر ہے اور سیاحت بھی یہ جرائم میں بھی ہم سے بہت پیچھے ہیں وہاں ہمارے مقابلے میں مذہبی رواداری بھی کہیں زیادہ ہے اور بنگلہ دیش عالمی سطح پر بھی ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے او آئی سی ہمارے مقابلے میں ان کی بات زیادہ سنتی ہے اور یورپی یونین اور اقوام متحدہ بھی ان کو ہم سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ کیوں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا! آخر ہم میں کوئی نہ کوئی خامی تو ہو گی؟ ہماری اپروچ ہمارے ماڈل میں کوئی نہ کوئی خرابی تو ہو گی جس کی وجہ سے ہم پیچھے جا رہے ہیں اور کالے کلوٹے بنگالیوں میں کچھ نہ کچھ تو ہوگا جس کی وجہ سے یہ 49 سال میں ہم سے آگے نکل گئے ہیںکیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم کسی کونے میں بیٹھ کر ٹھنڈے دل ودماغ سے یہ سوچ سکیں ہم اپنا محاسبہ کر سکیں اگر وہ وقت اب بھی نہیں آیا تو پھر کب آئے گا؟ خدا کے لیے سوچیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں