خوش نصیب انسان وہ ہے جو زندگی میں حسد سے بچتا ہے 60

خوش نصیب انسان وہ ہے جو زندگی میں حسد سے بچتا ہے

خوش نصیب ہے جس کے خوش نصیی زندگی کے آخری لمحے تک رہے
خوش نصیب آدمی: یونان میں ایک شخص سولن نامی گزرا ہے یہ ایک مانا ہوا فلسفی اور شاعر تھا، ایک بار قبرص کے بادشاہ کری سن نے سولن کو اپنے ملک مدعو کیا، سولن نے بادشاہ کی دعوت قبول کر لی،ملاقات کے دن قبرص بادشاہ اپنے بیش قیمت لباس اور ہیرے جواہرات زیب تن کر کے تحت پر جلوہ افروز ہوا، اور پورے شاہانہ طمطراق سے سولن کاانتظار کرنے لگا، سولن آیا، اور اطمنان وبے نیازی سے بادشاہ کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے بادشاہ کے جاہ وچشم اور سطوت وشوکت پر کوئی توجہ نہ دی۔ جس بادشاہ بے چین ہو گیا، اس نے وزیر کوحکم دیا کہ سولن کو ہمارے خزانے دکھائے جائیں۔

وزیر نے سولن کے سامنے چاندی اور لعل وزمرد کا ڈھر لگوا دیا۔ یہ چمک دمک بھی سولن کو متاثر نہ کر سکی۔ وہ بے پرواہ بیٹھا رہا۔ آخر بادشاہ سے رہا نہ گیا۔ اس نے بلند آواز سے سولن کو مخاطب کیا، سولن تم یونان کے نامور فلسفی ہو، بتاؤ، تمہارے نزدیک دنیا کا سب سے خوش نصیب آدمی کون ہے، سولن نے پروقار لہجے میںکہا، بادشاہ! میرے ملک میں ٹیلس نامیایک آدمی بہت خوش تھا، وہ بہادر صاحب نصاب اوراچھے بچوںکا باپ تھا۔ اس نے اپنے وطن کی خاطر لڑتے لڑتے جان دے دی، اس کیبعد دوسرا سب سے خوش نصیب کون ہے، بادشاہ نے دریافت کیا، سولن نے کہا: دو بھائی سب سے زیادہ خوش نصیب ہیں۔ انہوں نے اپنی ماں کی خدمت کرتے کرتے اپنی جان دی، بادشاہ یہ سن کر آگ بگولا ہو گیا،

کیا تم ہمیں خوش نصیب نہیں سمجھتے، خوش نصیب وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ خوش نصیبی زندگی کے آخری لمحے تک رہے سولن نے وضاحت کی۔ جس کی زندگی ابھی ختم نہ ہوئی ہو، اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے، انسان کی زندگی ہمیشہ ایک حالت پر برقرار نہیں رہتی، یہ سن کر بادشاہ مشتعل ہو گیا،اس نے سولن کے ساتھ انتہائی نفرت وحقارت کا سلوک کیا، حالانکہ سولن کا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ خوش نصیب وہ آدمی ہے جس کی آخرت اچھی ہو کچھ عرصہ بعد شہنشاہ سائرس نے قبرص کو فتح کر لیا۔ اور بادشاہ قبرص کری سس کو گرفتار کرنے کے بعد زندہ جلانے کا حکم دیا بادشاہ قبرص کری سس کو جلانے کے لئے لکڑیوں کے ڈھیر پر بٹھا دیا گیا۔ تو اس وقت اس کے منہ سے اچانک ایک درد ناک چیخ نکلی، ہائے سولن، فاتح شہنشاہ نے ہاتھ اھا کر جلانے کی کارروائی اچانک رکوا دی،

اور کری سس کے قریب جا کر سوال کیا، ہائے سولن سے تمہاری کیا مراد ہے، کری سس نے پورا واقعہ سنا دیا۔ فاتح بادشاہ یہ واقعہ سن کر مغموم بھی ہوا، اس واقعہ سے اس نے عبرت بھی حاصل کی کہ انسان پر زندگی بھر ایک جیسا وقت نہیں رہتا، آخرت کو یاد رکھنا چاہئے اس نے کری سس کی جان بخش دی اور اس کے ساتھ عزت تکریم کے ساتھ پیش آیا۔ حمد: حضرت اصمعی بوڑھے ہو چکے تھے لیکن صحتوتوانائی ان کی قابل رشک تھی کسی نے پوچھا حضرت آپ کی عمر کیا ہے، اصمعی نے جواب دیا اس کاکوئی خاص راز نہیں۔ زندگی کی قاتل ایک ہی چیز ہوتی ہے، اور وہ ہے حسد، اور میں زندگی بھر حسد سے دور رہا،حضرت رابعہ بصری رحمة اللہ علیہ بصرہ میں معروف اللہ کی ولی گزری ہیں۔

ان کاجب وقت انتقال آیا۔ وہ شدید علیل ہوئیں توحضرت مالک بن دینار رحمة اللہ علیہ عیادت کو آئے اور دریافت کیا کہ اس دنیا میں تم کو کس چیز نے تکلیف دی۔ حضرت رابعہ نیجواب دیا کہ معصیت نے، پھر دریافت کیا کہ کس چیز کو مہارا دل چاہتا ہے، جواب دیا، مغفرت کو، پھر حضرت مالک نے سوال کیا، دنیا کی کس چیز کی خواہش ہے تو جواب دیا، تیس برس سے تازہ کھجور کو جی چاہتا ہے، جو اب تک نہیں کھائی، یہ سن کر حضرت مالک سوچنے لگے، اب تو چند گھڑی کی مہمان ہے، اتنی جلدی تازہ کھجوریں کہاں سے لائی جا سکتی ہیں،

یہ خیال آیا ہی تھا کہ پرندہ آیا، اور تازہ کھجور ان کے قریب ڈال دی، آپ نے کھجور پیش کیں، تو دریافت فرمایا یہ کہاں سآئی تو میں نے پورا واقعہ سنایا، یہ سن کر رابعہ بصری بولیں، نہیں معلوم کہ یہ پرندہ کھجور کس باغ سے لے آیا، ایسی حالت میں اس کھجور کا کھانا مناسب نہیں، اب تو میں اللہ کے پاس پہنچ کر تازہ کھجور کھاؤں گی، فرمایا، مجھے اکیلے مکان میں اللہ واحد کے ساتھ اکیلا کر دو، سب لوگ اداس ہو کر اٹھ کر چلے گئے، ایک آواز آئی کہ اے اطمنان والی تو اپنے پروردگار کے پاس جوار رحمت کی طرف چل، اس طرح کہ اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش، یہ آواز سن کر لوگوں نے مکان کا دروازہ کھولا تودیکھا کہ حضرت رابعہ بصری رحمة اللہ علیہا اپنے رب کو پیاری ہو چکی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں