مولانا کی گیدڑ سنگھی سے حکمران خوفزدہ کیوں 68

مولانا کی گیدڑ سنگھی سے حکمران خوفزدہ کیوں

آل پارٹی کانفرنس میں پیپلزپارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے ایک جملے میں مولانا فضل الرحمان کو یہ پیغام دیا ”مولانا صاحب آپ خوش قسمت ہیں آپ نہایت اطمینان سے حکومت مخالف جلسے ‘ جلوس ‘ ریلیاں اور دھرنے دیتے ہیں لیکن آپکا بال بھی بیکا نہیں ہوتا حکومت دیگر اپوزیشن قائدین کی طرح نیب یا دیگر مقدمات میں آپ کو پابند سلاسل بھی نہیں کرسکتی ۔” مولانا فضل الرحمان 2018 ء کے الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو یہود اور قادیانیوں کا ایجنڈا کہہ رہے ہیں ۔ الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی کو انہو ں نے دھاندلی قرار دیا اور الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے غیر قانونی کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا ۔ دیگر اپوزیشن کا نقطہ نظر بھی یہی تھا۔

نئے حکمرانوں کے حکومت سنبھالتے ہی مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کو ”نیب ” کے مقدمات میں جکڑ لیا گیا ۔ لیکن مولانا فضل الرحمان اس قسم کی براہ راست اور فوری انتقامی کاروائی کی زد میں نہ لائے گئے ۔ 2018ء کے الیکشن کے بعد مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی حکومت کو نمائندہ حکومت تسلیم کرنے سے گریزاں رہے ۔ مولانا کا موقف تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی اپنی نشستوں کا حلف نہ لیں یا حلف لے کر اپنی اپنی نشستوں سے مستعفی ہو جائیں ۔ اپوزیشن کو موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے دھڑن تختہ کیلئے میدان عمل میں آجانا چاہیئے لیکن دونوں بڑی پارلیمانی جماعتوں مسلم لیگ (ن ) اور پیپلزپارٹی نے نا معلوم وجوہات کی بناء پر مولانا کے ایجنڈے کی پر جوش تائید نہ کی۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے

کہ دونوں سیاسی جماعتوں کو انتقامی جکڑ بندیوں میں جکڑ دیا گیا تھا ۔ لیکن مولانا فضل الرحمان کے ایجنڈے اور مقاصد پر مایوسی اور بد دلی کے سائے نہ پڑنے پائے ۔ مولانا نے اپنی تنہا پرواز جاری رکھی ۔ اپنے حکومت مخالف ایجنڈے کی تکمیل کیلئے 2020ء کی شروعات میں مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ اور دھرنے کا پروگرام دے دیا اس وقت تلک حکومت مخالف جماعتوں کا کوئی متحدہ پلیٹ فارم وجودمیں نہیں آیا تھا ۔ لیکن اپوزیشن کی تمام جماعتوں میں بظاہر یکجہتی اور اتحاد کی جھلک نظرآ رہی تھی ۔ عملی طور پر آزادی مارچ اور اسلام آباد کا دھرنا جے یو آئی کی تنہا سیاسی پروازہی تھی ۔ آزادی مارچ ایک بڑ انسانی جم غفیر اور سیاسی شو ہونے کے باوجود اپنے نتائج کے اعتبار سے ناکام سیاسی واردات تھی ۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے دو سال مولانا فضل الرحمان نے بے قراری میں گزار دیئے ۔ لیکن مولانا فضل الرحمان کو اس بات کا ادراک تھا کہ معاشی بحران کی بدولت بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری سے نالاں عوام کا دبائو جلد اپوزیشن جماعتوں کو حکومت مخالف تحریک پر آمادہ کرنے کا سبب بنے گا ۔ آخر کار 20 ستمبر 2020 ء کو آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد بڑی اپوزیشن جماعتوں کی مجبوری بن گیا ۔ آل پارٹی کانفرنس نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو جنم دیا ۔ اور 26 نکاتی حکومت مخالف تحریکی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ۔ ایجنڈے کی رو سے 11 اکتوبر سے حکومت مخالف تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ اور جنوری 2021 ء میں ملک گیر لانگ مارچ کے ذریعے شہر اقتدار میں ایک دھرنا دیا جائیگا ۔

اور یہ دھرنا وزیراعظم کے مستعفی ہونے تلک جاری رہے گا۔ پی ڈی ایم کی تشکیل اور احتجاجی ایجنڈے کے اجراء کے بعد مولانا فضل الرحمان کو ”نیب ” کی جانب سے جواب طلبی کا ایک نوٹس جاری ہو ا۔ لیکن نوٹس کے اجراء کے بعد مولانا کا طرز عمل جرات مندانہ اور مورال بلند ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف ”نیب ” کی کاروائی کے جواب میں کہا ہے کہ ”ہم ڈرنے والے نہیں ‘ ہم ڈرانے والے ہیں ” اس بیان کے بعد انکے دبنگ بیانوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ جسمیں انکی سیاسی پیشقدمی کا تاثر صاف جھلکتا ہے ۔ ایک اور بیان میں انکا کہنا ہے کہ حکمرانوں کا حشر افغانستان میں اسلامی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہونے والے امریکی فوج کے حشر جیسا کریں گے ۔ ایک اور تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم ہائوس کے گھیرائو اور دھرنے کی بجائے موجودہ وزیراعظم کو اقتدار میں لانے والوں کا گھیرائو کریں گے ۔ مولانا فضل الرحمان کی یہ جرات اور بہادری دیگر سیاستدانوں کیلئے قابل رشک ہے ۔

وطن عزیز کے ہر شہری کو معلوم ہے کہ جب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن ) زیر عتاب آئی ہے انواع اقسام کے مقدمات میں گھسیٹی جا رہی ہے ۔ جبکہ دوسری بڑی مخالف سیاسی جماعت پی پی پی جب بھی اقتدار سے باہر ہوتی ہے اسکے قائدین ایک عدالت سے دوسری عدالت میں دھکے کھاتے نظر آتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کی کامیابی کو مولانا فضل الرحمان یہودیوں اور قادیانیوں کی کامیابی قرار دیتے ہیں ۔ آزادی مارچ کے ناکام دھرنے میں مولانا فضل الرحمان کی کوشش تھی کہ یہودیوں اور قادیانیوں کے اسلام دشمن ایشو کو حکومت مخالف مذاحمتی ایجنڈے سے جوڑا جائے ۔ اور موجودہ پی ٹی آئی حکومت پر یہودیوں اور قادیانیوں کے آلہ کار کا رنگ چڑھایا جائے ۔ لیکن دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پی پی پی اور پی ایم ایل (این ) نے مولانا فضل الرحمان کو مذہبی ‘دینی ایشو کو سیاسی ایشو میں گڈ مڈ کرنے سے اعتراز کا مشورہ دیا جسے مولانا نے قبول کر لیا مولانا فضل الرحمان ایک زیرک اور کہنہ مشق سیاستدان ہونے

کی حیثیت سے اپنی طاقت اور قوت کو خوب سمجھتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی قوت کا راز عوام کی دین و مذہب و عقائد سے گہری وابستگی میں پوشیدہ ہے ۔ اسطرح ہمارے دائمی مقتدر پالیسی ساز اداروں کو بھی اس بات کا بخوبی علم ہے کہ جے یو آئی سمیت تمام دینی جماعتیں سیاسی جماعتوں سے زیادہ عوامی اثر نفوذ کی مالک ہیں ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ماضی میں ہمارے مقتدر پالیسی ساز ادارے کئی دہائیوں تلک خطیر فنڈز کی سرمایہ کاری سے افغان جنگ کی بابت جہادی فکری ذہن سازی کیلئے کوشاں رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کو دیو بندی مکتب سے وابستہ ہزاروں دینی مدارس کے لاکھوں اساتذہ کرام اور دینی طالب علموں کی کمک دستیاب رہتی ہے جبکہ دیو بندی مکتب سے وابستہ جے یو آئی کے کارکنوں اور ووٹرز کی کروڑوں پر مشتمل آبادی بھی مولانا کی ہمنوا ہے ۔

وقتاً فوقتاً اور خاص کر پی ٹی آئی کے حالیہ دور حکومت میں لاکھوں لوگوں کی شرکت سے بھر پور جلسے’ جلوس اور ریلیاں مولانا فضل الرحمان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کو 20 ستمبر کی آل پارٹی کانفرنس کے بعد ”نیب ” کا بلاوا آیا تو اسکے جواب میں مولانا کا کہنا تھاکہ ”نیب ” نے جواب طلبی کیلئے بلایا تو جواب دینے کیلئے 30 لاکھ کارکنوں کے ہمراہ ”نیب ” میں حاضری دونگا۔ اس بیان کے بعد حکومت اور ”نیب ” کا بیانیہ پسپائی اور بد حواسی کا عکاس دکھائی دیا ۔ ”نیب ” کے مطابق کسی شخص کی شکایتی درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے ”نیب ” نے مولانا فضل الرحمان سے اپنا موقف طلب کیا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ نیب آئندہ ایام میں مولانا کو اپنا تحریری موقف داخل کرانے کا کہے اور پہلو بدل کر مزید لچک کا مظاہرہ کرے ۔ مولانا فضل الرحمان کو بھروسہ اور اعتماد ہے کہ حکومت مخالف تحریک میں یہودیوں اور قادیانیوں کے اسلام دشمن ایجنڈے کو جوڑ کر بطور حکومت مخالف سیاسی ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ مولانا اور مقتدرہ دونوں کو عوام میں موجود دینی اسلامی حساسیت کا اندازہ ہے ۔ اس لیئے مولانا یہودی ‘ قادیانی سازشی حساس ایشو کو عوامی غم و غصہ کا سبب بنانا چاہتے ہیں ۔ جبکہ حکمران اور پالیسی ساز مقتدرہ بھی مولانا کی جانب سے دینی مذہبی ایشوز کو کامیابی سے عوامی جذبات سے کھلواڑ کا بڑا میدان تصور کرتی ہے ۔

کیونکہ 1970ء کی دہائی میں وزیراعظم بھٹو کیخلاف چلائی جانے والی تحریک اسی مذہبی ‘ دینی ایجنڈے پر مشتمل تھی جو کہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور پھر سوویت یونین کی افغانستان میں فوج کشی کیخلاف مزاحمت بھی اسلامی دینی رنگ میں رنگی تھی جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔ بعد ازاں دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس بات کی با خبری ہوئی کہ ان دونوں ایشوز کا پشت بان امریکہ تھا ۔ آج پالیسی ساز مقتدرہ کو اس بات کا علم ہے کہ مولانا فضل الرحمان مذہبی ایشوز کو اٹھا کر حکمرانوں کیلئے مشکلات کھڑی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی سیاسی کمک کی بدولت مولانا فضل الرحمان سیاسی کرشمہ ساز بن سکتے ہیں ہمارے فہم کے مطابق دینی مذہبی عقائد سے کشید کردہ سیاسی حکومت مخالف تحریک دوسری بڑی پارلیمانی جماعت پی پی پی کیلئے قا بل قبول نہیں ہوگی ۔ جبکہ ماضی گواہ ہے کہ مسلم لیگ (ن ) دینی ‘ مذہبی اور سیاسی زائقوں سے مزئین و آراستہ حکومت مخالف تحریک کا ہر اول دستہ بننے سے ہرگز گریز نہیں کرے گی ۔ کیونکہ لوہا گرم ہے

معاشی بحران سے روز افزئوں بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری نے موجودہ حکمرانوں کیخلاف ماحول ساز گار بنا دیا ہے ۔ ہمارے فہم کے مطابق مولانا فضل الرحمان دیو بندی مکتب میں اپنے سیاسی دینی اثر نفوذ کی بدولت اور مسلم لیگ ن کی پشت بانی سے حکومت مخالف بڑی تحریک اٹھانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ لیکن اس تحریک کی کامیابی کے امکانات روشن نہیں ہیں کیونکہ اس حکومت مخالف تحریک کے ردعمل میں ملکی رائے عامہ میں فکری تقسیم کا عمل تیز ہو جائے گا ۔ یہ تقسیم دو فکری مراکز کو جنم دے گی ۔ فی الحال اعتدال پسند اور آزاد خیال مکتبہ فکر کمزور دکھائی دیتا ہے ۔ لیکن انتہا پسند فکری مکتب کی پیشقدمی اعتدال پسند قوتوں کے وسیع تر متحدہ محاذ کی تشکیل کرے گی ۔ دراصل انتہا پسند فکری عناصر کی آبیاری اور سہولت کاری کا عمل فوجی آمر جنرل ضیاء کے دور سے شروع ہوا جو تا حال جاری ہے ۔

انتہا پسند عناصر کی ابیاری اور سہولت کاری نے ان عناصر کو فکری اور عددی کثرت و قوت بخش دی ہے ۔ سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کے بعد پاکستانی پالیسی سازوں کیلئے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ سوویت یونین کی توسیع پسندی کیخلا ف مزاحمت کی حوصلہ افزائی کریں ۔ اس لیے جہادی ‘ مذہبی دینی انتہاء پسند قوتیں مضبوط ہوئیں ۔بعد ازاں انتہا پسندی کے جن نے بوتل سے باہر آنے کے بعد بوتل میں واپس جانے سے انکار کر دیا ۔ اس دوران پالیسی سازوں نے آزاد خیال اور اعتدال پسند قوتوں سے صرف نظر کیا اور انکی حوصلہ شکنی کی گئی جسکی بدولت اعتدال پسند اور آزاد خیال قوتیں بتدریج کمزور ہوتی گئیں اور اب تووطن عزیز پاکستان میں اعتدال پسند و ترقی پسند سوچ فکر کا قحط الرجال شروع ہو چکا ہے ۔ گذشتہ 4 دہائیوں سے مقتدر پالیسی ساز اداروں نے جن انتہا پسند قوتوں کی آبیاری کرکے نشوونما کی تھی آج ہیت مقتدرہ اور پالیسی ساز اداروں کو ان انتہا پسند قوتوں کی جانب سے خطرات اور چیلنجز درپیش ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں