59

وزیر اعظم کا اعتراف

اپوزیشن کی تحریک ابھی شروع نہیں ہوئی مگر حکمرانوں کے ایوانوں میں ہلچل اچھی خاصی مچی ہوئی ہے، وزیر ومشیر اپوزیشن راہنماؤں کی کردار کشی کا حق کچھ اس طرح ادا کر رہے ہیں کہ بھارت بھارت کا ورد کر ے پاک افواج کے دفاع میںمخالفین کو بدنام اور اپنی کارکردگی وکردار کی بنیاد پر اپوزیشن مقابلہ کرنے کی بجائے جنرلوں کی شان میں قصیدہ خوانی کر رہے ہیں۔ حد ہو گئی کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی قومی امور اور عوامی فلاح وبہبود پر بات کرنے سے گریزاں رہے بلکہ لاعلمی کا مظاہرہ ڈھٹائی کے ساتھ کرتے رہے اور اب حکومت کے دفاع میں میڈیا کو انٹرویو دے رہے ہیں

وزیراعظم تو ماشاء اللہ بیباکی کے ساتھ بغیر لکھی گفتگو کرتے ہوئے ایسے بہکتے ہیں کہ جگ ہنسائی ہوتی ہے، جبکہ برجستہ بات چیت کرتے ہوئے بعض حقائق بھی طشت ازبام کر دیتے ہیں حالیہ انٹرویو میںموصوف نیجوش خطابت میں آخرکار یہ بھی تسلیم کر لیا کہ فوج اپوزیشن راہنماؤں کی کرپشن پکڑتی ہے اس لئے وہ اس کے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کو کوئی بتائے کہ حضرت اپوزیشن والے غلط تو نہیں کہہ رہے جو آپ فرما رہے ہیں وہ وہی تو کہہ رہے ہیں کہ احتساب حکمران اور نیب نہیں کر رہا، فیصلے عدالتیں نہیں دے رہیں بلکہ سب کچھ کے پیچھے نادیدہ قوتیں ہیں اس لئے حزب اختلاف کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنا کر انہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن حکمران جماعت اور اتحادیوں کی بدعنوانیوں پر پردہ ڈالا جا رہا ہے، آٹا چینی چوروں کو نہیں پکڑاجا رہا، ذخیرہ اندوزوں وگرانفروشوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے،

خیبر پختونخوا میں بی آر ٹی پراجیکٹ میں کی گئیں بدعنیاں، بے قاعدگیاں، بے ضابطگیاں، بے اعتدالیاں نظر نہیں آرہیں، معدنیات کیس دکھائی نہیں دے رہا، وزیراعظم صاحب آپ اپوزیشن کے الزامات کی تائید اور اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ فوج سیاسی معاملات میں دخل دے رہی ہے، سیاستدانوں کو انتقام کانشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کاتعاقب کیا جاتا ہے، ان کی سرگرمیاں نوٹ کی جا رہی ہیں۔ ان کے اثاثوں کی چھان بین کی جا رہی ہے، ان کیخلاف مواد اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر نیب کے ذریعے مقدمات قائم کئے جاتے ہیں انہیں عدالتوں میں گھسیٹا جاتا ہے مگر سویلین نہیں یہ سب کچھ دفاعی ادارے کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب آپ نے خود ہی منکشف کر دیا ہے کہ اپوزیشن ٹھیک ہی کہہ رہی ہے

کہ حکومت آپ نہیں آپ کے سرپرست چلا رہے ہیں۔ ایک صفحے پر ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپوزیشن کو مرعوب رکھنے ارو دیوار سے لگانے کی خاطر دفاعی ادارے استعمال ہوں۔ آپ تو کارگل جنگ بارے دعوی کر رہے ہیں کہ میں ہوتا وزیراعظم کو بے خبر رکھنے پر جواب طلبی کرتا اور کس کی جرات ہے کہ آپ سے استعفی مانگے؟ محترم آپ کیا جواب طلبی کریں گے اور آپ سے استعفی کون مانگے گا؟ جب آپ کااختیار ہی نہیں آپ مقتدر ہی نہیں آپ تو اقتدار میں آنے سے پہلے ہی سرنڈر کر چکے تھے اس لئے وزارت عظمی کی کرسی مل گئی۔ جب فیصلے کرنے والے ہی فیصلے کر رہے ہیں، پارلیمنٹ ربڑ اسٹیمپ بنا دی گئی ہے، تمنائیں، آرزوئیں، خواہشیں اور چاہتیں من وعن پوری ہو رہی ہیں تو کسی کو آپ سے کیا گلہ، کیا شکوہ، کون آپ کو بے خبر رکھ کر کچھ کرے گا اور کیوں آپ سے استعفی مانگے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں