درخت لگائیں زندگی بچائیں :تحریر: آصف محمود بلوچ 33

درخت لگائیں زندگی بچائیں :تحریر: آصف محمود بلوچ

تحریر: آصف محمود بلوچ

بوہڑ کادرخت ،اُس کے نیچے پڑا بڑا سا ماچا(بڑی چارپائی)اور ایک سرہانہ ، قریب ہی ٹھنڈے یخ پانی کا مٹکا ، سونے پہ سہاگہ اگرکوئی حقہ پینے کا شوقین ہوتا، تو وہ بھی میّسر تھا باتوں کے دور بھی چلتے اور اوپر درخت پر مختلف پرندوں کی بولیاں بھی فضاء کو پُرمسرت بناتیں، یہ تھے ڈیرہ اسماعیل خان کی خوب صورت ثقافت کے عمدہ رنگ۔ ویسے تو ہر علاقے کی تہذیب و ثقافت جُدا جُداہے، مگر ڈیرہ اسماعیل خا ن ا ور علاقہء دامان کے ساتھ ساتھ پو رے سرائیکی خطے کی ثقافت درختوں سے عیاں ہوتی ہے۔ یہاں پہ تصّوف کے رنگ بزرگانِ دین اور اولیائے کرام کے مزارات پر بھی درختوں سے ہی جھلکتے نظر آتے ہیں، جال کا درخت ہمیں کسی بزرگ یا ولی کے دربار کا پتہ بتاتا ہے۔ اس درخت پہ خاص قسم کا ایک پھل اُگتا ہے ، جِسے مقامی زبان میں پیلہوں کہا جاتا ہے جِس کا ذکر مشہورو معروف سرائیکی شاعر اور بزرگ حضرت خواجہ غلام فریدنے اپنے کلام میں کچھ اس طرح کیا۔

پیلہوں پکیا ں نِی پکیاں نِی آچُڑوں رل یار

اِسی طرح شِیشم کا درخت جِسے مقامی زبان میں ٹاہلی کا کہا جاتا ہے ، نہ صرِ ف گھروں بلکہ کھیت کھلیانوں میں بھی اُگتا ہے، جہاں پرندوں کے بھی مسکن ہوتے ہیں، اس کا ذکر ایک مقامی شاعر جمیل بیتاب نے اپنے کلام میں کچھ یوں کیا۔

چِڑیاں دا شور ھ پئیاں بولین لالیاں میڈے ماہیئے دے ویڑھے لگے اَم تے ٹاہلیاں

اِس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ درخت سے نہ صرف اِنسانی بلکہ چرند، پرند کی بھی زندگی جُڑی ہوئی ہے، اِس کے علائوہ ہمارے علاقوں کے ثقافتی پہلو بھی ان درختوں کے اندر پائے جاتے ہیں، جب ہم ان کو کاٹنے پہ تلے ہوتے ہیں تو گویا ہم درخت نہیں بلکہ اُس سے وابستہ چرند پرند کی زندگیوں کا گلہ گھونٹنے کا سوچ رہے ہوتے ہیں۔

ہمارے زمانہء طالب علمی میں ٹانک روڈ، چشمہ روڈ اور چشمہ رائٹ بینک کنال(CRBC)کے اِردگِرد درختوں کے گھنے جنگلات ہوا کرتے تھے، مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج سارے درخت ٹالوں یا پھر آگ کی نظر ہوگئے۔
پاکستان تحریکِ انصاف جب 2014میں صوبہ خیبرپختُون خوا کی حکومتی جماعت تھی تو بیلین ٹری سونامی پلا نٹیشن جیسامنصوبہ خود پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان نے شروع کیا،جس کا مقصدعالمی سطح پر بڑھتے درجہء حرارت جیسے سنگین مسئلے کو قابو میں کرنا تھا۔

اِ س مقصد کے حصول کے لئے 350000 ہیکڑ بنجر زمین پر جنگلات لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اِ س ضمن میں وسطی۔ جنوبی جنگلات کے علاقہ جا ت میں ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل تھا۔ اُس وقت جب عمران خان ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تو اُن سے بنیادی سوال ٹمبر مافیا کے خلاف کاروائی ہی کے حوالے سے کیا گیا، جس کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ اِس حوالے سے ایک فورس بنائی جا رہی ہے جوکہ ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کاروائی کرے گی، مگر ابھی تک اس پہ کوئی عملدرآمد نہ ہوسکا۔

سیکرٹری جنگلات صوبہ خیبر پختون خوا سید نذر حسین شاہ جب 2015میں بلین ٹری سونامی پلانٹیشن کا جائزہ لینے ڈیرہ اسماعیل خان آئے تو اُس وقت بھی اُن سے میں نے کہا کہ درخت تو زندگی ہے اِس کی بقاء کے لئے کیا حکمت ِ عملی ترتیب دی جا رہی ہے؟ تو اُنہوں نے بھی کہا تھا کہ ٹمبر مافیا کے خلاف ایک فورس قائم کی جا رہی ہے ، جو کہ محکمہء جنگلات کے ساتھ مل کر کاروائی کرے گی، اُنہوں نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی
کرتے ہوئے کہا کہ آج کل آبادیاں ذیادہ ہوتی جا رہی ہیں نِت نئی کالونیاں بننے سے درخت ختم ہوتے جا رہے ہیں ،اِس لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے ، کہ بنجر زمینوں پہ درخت لگائے جائیں گے۔

اَب کاشت کاروں اور زمین داروںکی بھی ذمہ داری ہے کہ اگر حکومت ان کو مفت درخت فراہم کر رہی ہے، تو وہ اپنی بنجر زمین پر درخت اُگا کر حکومت کا ساتھ دیں۔وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈہ پور کہتے ہیں کہ درخت لگانے سے ہم کئی زندگیاںبچا سکتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ درخت جہاں ہماری تہذیب وثقافت کے علمبردار ہیں ،وہیں اِن کی حفاظت ہم سب کا اہم فریضہ ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ 05 سالوں میں ملک بھر میں جو 10ارب درخت لگانے کا منصوبہ وزیراعظم عمران خان نے پلانٹ فار پاکستان کے نام سے شروع کیا ہے، اس سلسلے میں وہ مختلف سڑکوں کے اردگرد اور خصوصاًچائینہ پاکستان اکنامک کوریڈور(CPEC) روٹ کے ساتھ اس منصوبے کی تکمیل ہوگی۔حال ہی میں محکمہ ء جنگلات ڈیرہ اسماعیل خان کے تعاون سے ڈیرہ اسماعیل خان تا ہکلہ موٹروے پر تحصیل پہاڑ پور سے ملحقہ 100 کلو میٹر تک ایک لاکھ پودے لگائے جا چکے ہیں۔

لیکن مسئلہ ابھی بھی وہی ہے کہ کیا ہم نے اِن کی دیکھ بھال کے لئے بھی کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟ یا ایک دفعہ پھر ہماری تہذیب وثقافت اور ہماری زندگیوں کے اہم جُزو یہ ماحول دوست جانوروں کی خوراک بن جائیں گے؟ بحثیت ِ شہری ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم درختوں کی حفاظت کریں، تاکہ اِن سے جڑی بھولی بسری یادیں بھی تازہ رہیں اور ساتھ ساتھ ماحول بھی صاف ستھرا رہے۔
ہمارے دامانی بنجر علاقوں میں کِیکر، پراسوں، کریٹا ، جنڈی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ جب کہ جہاں پانی مُیّسر ہے وہاں بھی کِیکر ہوتا ہے ،اور اِس کے علائوہ شہتوت(تُوت)سَفیدہ وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ہمارے علاقائی اور قومی گلوکاروں نے نہایت ہی خوبصورت آواز کے ساتھ اِن کا ذکر اپنے گیتوں میں بھی کیا ہے۔جیسا کہ مشہور گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے کہا ہے۔
اَپڑاں گِراںہووے تُوتاں دی چھاں ہووے
وانڑ دی منجھی ہووے سر تَلے بانہہ ہووے

ایک اورخوب صورت گیت ہماری معروف قومی گلوکارہ نازیہ حسن نے گایا ہے جس میں ایک درخت شِیشم (ٹاہلی )کا ذکر ہے۔

ٹاہلی تے تلے بہہ کے ہاں بہہ کے
کریئیے پیار دیاں گَلھاں

اِن تمام چیزوں سے یہ بات عیاںہوتی ہے کہ درخت ہمارے معاشرے میں پیار ، محبت کی علامت ہیں جن کے سائے میں بیٹھ کر ہم سب اتفاق و یگانگت کے چراغ روشن کر سکتے ہیں، نفرتیں مٹا سکتے ہیں اور ایک نئی زندگی کی شروعات کر سکتے ہیں، اور ہم اُن درختوں پہ اپنا مسکن بنانے والے معصوم پرندوں جوکہ اپنا گھر ختم ہونے کو آنکھوں سے دیکھ تو سکتے ہیں مگر احتجاج نہیں کر سکتے دھرنا نہیں دے سکتے آئیں ہم سب مل کر اِن معصوموں کی آواز بنیں، درخت کاٹنے والوں کو سزائیں دلوائیں ،اور کچھ نہیں آواز تو اُٹھا ہی سکتے ہیں۔
َ
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں