فرض نمازوں کے پانچ ہونے کی حکمت 73

فرض نمازوں کے پانچ ہونے کی حکمت

نمازیں ہم پر پانچ ہی فرض کیوں ہوئی ہیں، اس میں کیا حکمت ہے، جواب میں کہا گیا ہے ترجمہ: دانا کا فعل دانائی سے خالی نہیں ہوتا، پانچ نمازوں کی بھی چند حکمتیں ہیں۔ جب نبی کریم ۖ معراج کے لئے تشریف لے گئے تو اللہ تعالی نے امت محمدیہ ۖ کے لئے پچاس نمازوں کا تحفہ عطا فرمایا، پھر نبی کریم ۖ کی بار بار شفاعت پر پینتالیس نمازیں معاف کر دی گئی۔ مگر اصول بنا دیا گیا (ترجمہ) سورة الانعام آیت ١٦ جو ایک نیکی لایا۔ اسے دس گنا اجر دیا جائے گا۔ اللہ رب العزت کی شان رحمت کااندازہ لگائیے کہ امت پانچ نمازیں پڑھے گی۔ مگر اجر وثواب پچاس نمازوں کا پائے گی۔ سبحان اللہ، عربی زبان میں صفر کو نکتہ کی مانند لکھتے ہیں۔ پروردگار عالم نے اپنی رحمت سے نکتہ کو ہٹا دیا ہے۔ اور امت کے لئے آسانی فرما دی ہے

قیامت کے دن رب کریم کی نکتہ نوازی کا ظہور ہو گا۔ رحمت کا نکتہ شامل کر کے پانچ کے بجائے پچاس نمازوں کا ثواب ہو گا۔ اردو زبان میں سختی کی سخاوت بیان کرنے کے لئے نکتہ نوازی کا محاورہ شاید اسی واقعہ سے مشہور ہوا ہے۔ اگر پچاس نمازیں ہوتیں تو ہزاروں میںایک نمازی ہوتا۔ پانچ نمازوں کیوجہ سے کمزوروں کے لئے بھی آسانی پیدا کر دی ہے۔ ہزاروں لوگ نمازی بن گئے ہیں ۔بڑابوجھ گردنوں سے اٹھ گیا ہے۔ دوسری حکمت میں کہا گیا ہے کہ انسان کے جسم میںحواس خمسہ موجود ہیں، دیکھنے کی حس، سننے کی حس، سونگھنے کی حس، چکھنے کی حس، چھونے کی حس، اللہ تعالی نے پانچ حواس کے بدلے پانچ نمازیں عطا فرمائیں تاکہ ہر حس عطاہونے پر اللہ تعالی کاش کر ادا کیا جا سکے، تیسری حکمت میں کہا گیا ہے انسانی زندگی کی پانچ نعمتیں نمایاں ہیں۔ کھانا پینا، لباس، مکان، بیوی بچے، سواری، جان کا شکریہ ایمان لانا، لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنا ہے، جبکہ پانچ نعمتوں کے شکرانے کے طور پر پانچ نمازیں عطا کر دی گئیں جو شخص پانچ نمازیں باقاعدگی سے ادا کرتا ہے،

وہ شخص اللہ تعالی کے شکر گزار بندوں میں سے ہیں۔ روایت ہے کہ ایک شخص طواف کے دوران دعا مانگ رہا تھا، اے اللہ! مجھے قلیل لوگوں میں سے بنا دے، کسی نے پوچھا کہ قلیل لوگوں میں سے کا کیا مطلب ہے، اس نے جواب دیا کہ فرمان باری تعالی ہے ترجمہ: میرے بندوں میں سے تھوڑے میرے شکر گزار ہیں۔ چوتھی حکمت میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت علی فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص کو پانچ نعمتیں مل گئیں وہ سمجھ لے کہ مجھے دنیا کی سب نعمتیں مل گئیں۔ شکر کرنے والی زبان، ذکر کرنے والا دل، مشقت اٹھانے والا بدن، نیک بیوی، سہولت کی روزی پانچ نمازیں، ان پانچوں نعمتوں کاش کریہ ادا کرنے کے لئے کافی ہیں۔ پانچویں حکمت میں فرمایا گیا ہے: انسانی زندگی میں پانچ حالتیں ممکن ہیں۔ کھڑا ہونا، بیٹھنا، لیٹنا،جاگنا، اور سونا ان پانچ حالتوں میں انسان پر اللہ تعالی کی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہو رہی ہوتی ہے،

اگر انسان ہر نعمت کا حق ادا کرنا چاہے تو وہ حق ادا کر ہی نہیں سکتا، سوچنے کی بات ہے کہ جب ہم نعمتوں کو گن ہی نہیں سکتے، توان شکر کیسے ادا کر سکتے ہیں۔ انسان کے لئے اللہ تعالی کی نعمتوں کاش کر ادا کرنا طاہر آنا ممکن نظر آتا ہے، پروردگار عالم نے احسان فرمایا کہ انسان پر پانچ نمازیں فرض فرما دیں۔ پس جو شخص اہتمام کے ساتھ پانچ نمازیں ادا کرے گا، وہ زندگی کی ہر حالت میں ہونے والی اللہ تعالی کی ہر نعمت کاشکر ادا کرنے والا بن جائے گا۔ حکمت نمبر چھ میں فرمایا گیا ہے،

شریعت محمدیہ میں نجاست سے پاکی حاصل کرنے والے غسل بھی پانچ ہیں۔ ان پانچ ہیں، جنابت کا غسل، حیض کا غسل، نفاس کا غسل، اسلام لانے کا غسل،میت کا غسل، یہ پانچ غسل ہر قسم کی حقیقی نجاستوں اور حکمی نجاستوں کو دور کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اللہ تعالی نے ہر انسان پر پانچ نماز میں فرض فرما دیں تاکہ جو شخص پانچ نمازیں باقاعدگی سے ادا کر لے، وہ ہر قسم کی باطنی نجاستوں سے پاک ہوجائے، بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ۖ نے ارشاد فرمایا، پانچ نمازوں کی مثال ایک نہر کی مانند ہے،جو مومن کے گھر کے سامنے جاری ہو، پھر وہ مومن اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے، کیا اس کے جسم میں میل کچیل باقی رہ سکتا ہے، صحابہ کرام نے کہا: ہرگز نہیں، آپ ۖ نے فرمایا اسی طرح جوش خص پانچ نمازیں ادا کر لیتا ہے، اس کے ذمہ گناہوں کا میل کچیل بھی نہیں رہ سکتا، ارشاد باری تعالی ہے (سورة ہود آیت ١١٤) ترجمہ: بے شک نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں