اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنا ہی غداری ٹھہری 66

اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنا ہی غداری ٹھہری

وطن عزیز میں اگر اقبال کا خواب شرمندہ تعبیرنہیںہو سکا انکے افکار عملی جامہ نہیں پہن سکے، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات، فکر وسوچ کو نفاذ کا روپ نہ مل سکا اور جمہوریت نہیں ن؟؟؟سکی تو اس میں سویلین وملٹری بیورو کریس کے ساتھ ساتھ غیر جمہوری وچور راستے سے کرسی اقتدار تک پہنچنے والے نام نہاد سیاستدانوں اور ان کی چاپلوسی وخوشامد کر کے مفادات حاصل کرنے والے قلم فروشوںکا ہاتھ ہے، گورنر جنرل غلام محمد اسی قماش کے بندے تھے، سکندر مرزا اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جنرل ایوب خان اسی سلسلے کی کڑی تھے، ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی صفوں سے نکل عوامی جمہوری حکومت کا نعرہ لگایا تو پھانسی چڑھ گئے۔

مارشل لاء کو جائز اور بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے کاے احکامات جاری کرنے والے جسٹس منیر اور جسٹس مولوی مشتاق سمیت ان کے ساتھی ججز اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹس تھے۔ جنرل محمد ضیاء الحق بھی اسی طبقے سے برآمد ہوئے تھے، انہیں جمہوری راہ پر گامزن ہونے والا بھٹو ناپسند تھا اور جنرل ایوب خان کو بھی بھٹو برا لگنے لگا تھا مگر افسوس کہ بھٹو نے ایوب خان کا ساتھی ہونے کے ناطے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ناپسندیدہ شخصیت تصور کیاکیونکہ وہ آمریت وغیر جمہوری اقتدار کی مخالف تھیں، اسٹیبلشمنٹ نے انہیں بھی بھارت کی ایجنٹ قرار دیا تھا، مارشلاؤں کو افسر شاہی، عدلیہ اور میڈیا کے بعض لوگوں نے تو مدد ومعاونت فراہم کی مگر سیاستدان پیش پیش رہے،

آمریتوں کے دوران چور دروازوں سے کرسی اقتدار پر قابض ہونے والے سیاسی لوگوں نے اپنے کندھوں پر بندوقیں رکھوا کر جمہوری جدوجہد کرنے والے سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کی خاطر سہولت کاری کا ناپاک فریضہ ادا کیا، شیخ مجیب الرحمن کو بنگلہ دیش بنانے کی جانب دھکیلا گیا جو تحریک پاکستان کے سپاہی رہے تھے، بنگالیوں کو علیحدگی پر مجبور کیا گیا جنہوں نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھ کر مسلمانوں کے لئے علیحدہ آزاد ملک کا تصور پیش کیا۔ 1958 ء سے 1988 آمریتوں کا کھیل کھیلا لیا۔ 1988ء سے 1999 تک انتخابات ہوتے رہے مگر حزب اقتدار وحزب اختلاف دست وگریباں رہیںحتی کہایک دوسرے کو کرپٹ،

ملک دشمن اور سیکورٹی رسک قرار دیا گیا۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے پاک وطن طالع آزماؤں کے بوٹوں تلے روندا گیا اور 2008 تک جنرل پرویز مشرف مقتدر رہے۔ 2008 سے 2018 تک سیاستدانو ںنے عام انتخابات کے نتیجے میں اقتدار سنبھالا یا اپوزیشن کاکردار ادا کیا تاہم باہم رنجشیں اور اختلافات کو ایسے پالا کہ غیر جمہوری قوتوں کو کٹھ پتلیاں مل گئیں۔ ڈوریں ان کے ہاتھوں میں تھیں، پس ڈوریں ہلائی جا رہی تھیں اور کٹھ پپلیاں ناچ رہی تھیں اور برسراقتدار آکر بھی اشاروں پر رقصاں ہیں، خان عبد الغفار خان، خان عبد الولی خان، اسفند یار ولی،

عطاء اللہ خان مری، عطاء اللہ خان مینگل، اکبر خان بگٹی، جی ایم سید، ممتاز بھٹو، الطاف حسین، محترمہ بے نظیر بھٹو، اور شیخ مجیب الرحمن کو کبھی وفادار اور کبھی غدار بنانے اور کہنے والے آجکل پھر متحرک وفعال ہیں، اسٹیبلشمنٹ کو مستحکم ومضبوط دیکھنے اور اس کی پناہ میں خود کو محفوظ سمجھنے والے ایک مرتبہ پھر ملک دشمن اور غداری کے ایوارڈز تقسیم کر رہے ہیں اسٹیبلشمنٹ کسے چمچے کرچھے عوامی تائید وحمایت کے بغیر عہدوں پر فائز ہو رک اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے والے میاں محمد نواز شریف کو بھی باغی، وغداری کیالزامات سے نواز رہے ہیں۔ آصف علی زرداری،

مولانا فضل الرحمن اور ان کے اتحادیوں، ساتھیوں کو بھی بغاوت وغداری کے اعزازات عطا کر رہے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ یہ سارے داغ دھبے دھل جائیں گے مگر ماضی کے آمروں، طالع آزماؤں اور غداری کے تغمے بانٹنے والے اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹس تاریخ میں بدنام ہو جائیں گے۔ جنہیں باغی وغدار کہہ رہے ہیں وہ محبان وطن ووفادار اور مجاہدین جمہوریت کہلائیں گے جبکہ موجودہ حکمران وان کے پشتی بان، جمہوریت دشمن اور ملکی تباہی وبربادی کے ذمہ دار گردانے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں