پولیس نے امن و امان تباہ کردیا، ریپ ہورہے ہیں اشتہاری گھوم رہے ہیں، لاہور ہائیکورٹ 58

پولیس نے امن و امان تباہ کردیا، ریپ ہورہے ہیں اشتہاری گھوم رہے ہیں، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ریپ ہورہے ہیں اشتہاری گھوم رہے ہیں، امن و امان پولیس نے تباہ کردیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمین پر پولیس قبضے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

متروکہ وقف املاک بورڈ نے جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ 2003 میں پولیس سے قبضہ چھوڑنے کا معاہدہ ہوا لیکن اس نے اب تک قبضہ نہیں دیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ پولیس والے اس ملک میں قبضہ گروپ کا کام کررہے ہیں، اگر پولیس قبضہ گروپ بن جائے گی تو کوئی پرسان حال نہیں، آئی جی پنجاب حلف نامہ جمع کرائیں۔

آئی جی پنجاب عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ہم نے آج تک کبھی انہیں قبضہ نہیں دیا، وفاقی یا صوبائی حکومت کی زمین کو ہم ٹرانسفر کرنے کے مجاز نہیں، ایک سب انسپکٹر اس کام کا مجاز نہیں ہے۔

عدالت نے آئی جی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں 72 کنال زمین فوری واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ اسپیشل برانچ والے درخواست گزاروں کو تنگ کررہے ہیں، سڑکیں آپ سے سنبھالی نہیں جاتیں، ریپ ہورہے ہیں، اشتہاری گھوم رہے ہیں، اس ملک کا کیا بنے گا، امن و امان پولیس نے تباہ کردیا، آپ کے 30 فیصد افسر مافیا کے ساتھ مل کر پلاٹوں کا کام کررہے ہیں اور اب پولیس محکمہ نے بھی یہ کام شروع کردیا، اس ملک میں پولیس کی اندھیرنگری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس قبضہ گروپ بن جائے تو موٹروے جیسے واقعات ہوتے رہیں گے، لاہور ہائیکورٹ

آئی جی نے کہا کہ یہ وفاقی حکومت کی نہیں بلکہ ٹرسٹ کی زمین ہے۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں کہ پولیس نے قبضہ کس طرح کیا ہے، میں وردیاں شردیاں اتروا کر بھیجوں گا۔

عدالت نے اس کیس کو آئی جی پنجاب تعیناتی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست گزار وکیل سے کہا کہ شکر کریں پولیس نے آپ کو خفیہ جیل میں نہیں ڈالا، عابد ملہی ان سے پکڑا نہیں جاتا، جب پکڑا جاتا ہے تو پچاس لاکھ انعام کا اعلان کردیتے ہیں، یہ حکومت تو پولیس کی آلہ کار بن سکتی ہے عدالتیں نہیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں