پاکستان کی ہر آٹھ میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر سے متاثر 59

پاکستان کی ہر آٹھ میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر سے متاثر

کراچی: ماہرینِ صحت نے کہا ہے کہ پاکستان کی ہر آٹھ عورتوں میں سے ایک عورت بریسٹ کینسر سے متاثر ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیرِ اہتمام بریسٹ کینسر کی عوامی آگاہی کیلیے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور پنک ربن یوتھ اویرنیس پروگرام کے اشتراک سے منعقدہ ویبینار سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک اس مہلک مرض کا علاج 80 فیصد تک کامیابی سے کیا جا رہا ہے۔

متوسط آمدن والے ممالک میں بریسٹ کینسر کا علاج 60 فیصد تک ہورہا ہے لیکن پاکستان جیسے کم آمدنی والے ملک میں اس مرض کا صرف 40 فیصد تک علاج ممکن ہو پا رہا ہے اور کم شرح سے اسکے علاج کی بنیادی وجہ ہمارے یہاں آگہی کی کمی ہے۔ ماہرین نے پاکستان میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر قابلِ علاج مرض ہے، اس کی بروقت تشخیص سے نہ صرف اس کا علاج ممکن اور آسان ہوجاتا ہے، دنیا بھر میں بریسٹ کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے، پاکستان میں صحتِ عامہ کے بہت سے مسائل ہیں، خواتین میں بریسٹ کینسر خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

ہیڈ آف بریسٹ کینسر یونٹ سول اسپتال کراچی پروفیسر فرحت جلیل نے کہا کہ خواتین میں چھاتی کا کینسر سب سے زیادہ پایا جانے والا کینسر ہے۔بریسٹ کینسر کی صورت میں اس کا طریقہ علاج آپریشن، کیموتھراپی یا ہارمونل تھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ جلد تشخیص سے مریض کو نقصان کم سے کم اور علاج آسان ہوتا ہے۔ 20 سال کی عمر سے ہی خواتین کو ماہانہ ازخود معائنہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے چالیس سال سے زائد عمر کی خواتین کو میموگرافی کرانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ازخود معائنہ کرنے میں کوئی علامت گٹھلی یا گلٹی محسوس ہو تو فوری ماہر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے، حتمی تشخیص کیلیے ڈاکٹر نیڈل بایوپسی کریں گے۔ خواتین میں دیر سے تشخیص سے پیچیدگیوں کے باعث کبھی آدھی چھاتی کو نکالنا پڑسکتا ہے، بریسٹ کینسر سے 40 ہزار سے زائد خواتین سالانہ موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عمیمہ سلیم نے کہا کہ دنیا میں سالانہ 21 لاکھ خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کینسر کے مختلف اقسام کا 15 فیصد اموات کا تعلق بھی بریسٹ کینسر سے ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس مرض کی شرح افغانستان اور انڈیا سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان میں ہر ایک لاکھ میں سے 23.2 خواتین اس مرض کا شکار ہوجاتی ہیں، جبکہ افغانستان میں 18 اور انڈیا میں یہ تعداد 13.4 ہے۔

ویبینار میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی کی ہدایت کی روشنی میں سول اسپتال کراچی میں بریسٹ کینسر کے مریض کے لیے تمام سہولتیں مہیا کی گئی ہیں، جس میں سندھ گورنمنٹ کی بھرپور مدد شامل ہے۔ جس کی وجہ سے یہ مہنگا علاج کسی بھی مریض کے لیے بغیر رقم خرچ کیے ممکن ہے، مریض کو صرف اپنا CNIC کارڈ، 2 تصاویر اور کبھی کبھی بے فارم جمع کراکے اپنا علاج کرایا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں