آنتوں میں دوا پہنچانے والا مقناطیسی مائیکروبوٹ 54

آنتوں میں دوا پہنچانے والا مقناطیسی مائیکروبوٹ

نیویارک: دنیا بھر میں دوا کو اس کے حقیقی مقام تک پہنچانے کی سر توڑ کوششیں ہورہی ہے اور اب اس ضمن میں ایک مقناطیسی مائیکروبوٹ بنایا گیا ہے جو آنتوں کے اندر لڑھکتا چلاجاتا ہے اور حسبِ خواہش مقام پر اپنی دوا خارج کرتا ہے۔

پرڈو یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا تیارکردہ بہت چھوٹا مقناطیسی روبوٹ جو آنتوں کے اندر لڑھکتا رہتا ہے اور اسے جسم کے باہر مقناطیس سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس روبوٹ سے دوا کو بروقت اپنے درست مقام پر پہنچایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ دوا کو کامیابی سے خارج کرسکتا ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی اور بہت سے امراض کا علاج ممکن ہوجائے گا۔

اس سے قبل سائنسداں رینگنے والے، تیرنے والے اور پیچ کس کی طرح خلیات میں گھسنے والے روبوٹ بناچکے ہیں۔ لیکن اس روبوٹ پر 2018 سے کام شروع کیا گیا۔ اس خردبینی روبوٹ کے پیشِ نظر ٹیڑھی میڑھی آنتوں کے اندر کے غیرہموار راستے ہیں اور اسی وجہ سے یہ لڑھکتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو بہتر بناکر پہلی مرتبہ اس کی آزمائش حیاتیاتی خلیات پر کی گئی ہے۔

اس کے بعد ایک چوہے کو بے ہوش کرکے اس کی آنتوں میں یہ چھوٹا سا روبوٹ داخل کیا گیا اور اسے مقعد کے ذریعے اندر پہنچایا گیا۔ یہ روبوٹ پولیمر اور دھات سے بنایا گیا ہے جس میں کسی بیٹری کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ جسم سے باہر مقناطیس سے کنٹرول ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ چوہوں پر تجربات کا اطلاق انسانوں پر بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ چوہوں اور انسانی نظام میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد خنزیروں پر بھی روبوٹ کی آزمائش کی گئی ہے۔

اس کے موجد پروفیسر لوئی سولوریو کہتے ہیں کہ ہم جسم سے باہر رہتے ہوئے روبوٹ کو کسی بھی مقام پر لے جاکر چھوڑ سکتے ہیں اور پھر دوا دھیرے دھیرے باہر خارج ہوتی رہتی ہے۔ پولیمر بند ہونے کی وجہ سے دوا وقت سے پہلے باہر نہیں آتی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ روبوٹ کو جسم میں مختلف امراض کی شناخت کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں