امریکی  پیشقدمی اور پسپائی 55

امریکی پیشقدمی اور پسپائی

دنیا کی طاقتور ترین قوم نے پیچیدہ انتخابی معرکہ کے ذریعے اٹھہتّرسالہ مسٹر جوبائیڈن کو امریکہ کا چھیالیسواں صدر چن لیا ہے،ڈیموکریٹ امیدوارکی کامیابی کو دنیا بھر میں محدود ہوتی بنیادی آزادیوں اور تیزی سے پسپا ہوتے جمہوری تمدن کی تجدید نو کی علامت طور پہ لیا گیا ہے لیکن خود امریکہ کے اندر اس ایشو پہ ایسا سنجیدہ اختلاف رائے نشو و نما پاتا رہے گا جسے نمٹانا دشوار ہو گا، یہ بھی عین ممکن ہے کہ نومنتخب صدر کا امریکہ سمیت دنیا بھر میں جمہوری آزدیوں کی تجدید کا عزم خود ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ادارہ جاتی ڈھانچہ کو ان مہلک جھٹکوں سے بچانے کی تدابیر کا حصہ ہو جو سرمایا دارانہ نظام اور جمہوری کلچر سے نجات کی کوششوں کے وبال کی صورت میں مملکت کو نقصان پہنچا سکتے تھے،بظاہر تو یہی لگتا ہے

کہ جس طرح صدر ٹرمپ نے انسانی اقدار کو پس پشت ڈال کے بلاجھجھک نشنل ازم اور استبدادیت کی جانب دو قدم آگے بڑھائے اسی طرح جوبائیدن ایک قدم پیچھے ہٹ کے اس ذہنی ہجرت کے مضمرات کو سمبھالنے کی کوشش کریں گے جس سے عالمی سطح پہ طاقت کے توازن میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو سکتی تھیں تاہم نومنتخب امریکی صدر کے لئے اس وسیع اور ہمہ گیر پیشقدمی کو پوری طرح لپیٹ لینا آسان نہیں ہو گا جسے امریکی مقتدرہ نے خود پچھلے چار سالوں کے دوران نہایت بے رحمی کے ساتھ فروغ دیا اور جسے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں یوں بیان کیا کہ”جنوری دوہزار اکیس کے صدر کو بکھرے ہوئے

جمہوری تمدن کی کرچیاں چن کے دوبار جوڑنا پڑیں گی”۔بہرحال،عہد جدید کا فن حکمرانی جو متضاد قوتوں کے تال میل اورفکر و خیال کے متنوع دھاروں میں ارتقائی توازن قائم رکھنے کا آرٹ سمجھا جاتاتھا،اب بدلتے ہوئے حالات اور پیراڈائم شفٹ کے دوران وہ اپنے ناکافی مفاہیم کے لئے نئے معنی اور نئی اصطلاحات کا متلاشی دیکھائی دیتا ہے۔اس حقیقت سے اغماض ممکن نہیں کہ خود مغربی دنیا کے لئے بوجوہ سرمایادرانہ نظام کی افادیت بتدریج کم ہوئی اور اِس پھلتے پھولتے جمہوری تمدن میں اب اہل یوروپ کے لئے کوئی کشش باقی نہیں رہی جو بلاد مغرب میں سیاہ فام اور رنگدار لوگوں کا استقبال کرتا دیکھائی دیتا ہے۔اس وقت امریکہ سمیت پوری مغربی دنیا میں ایشیائی لوگوں کی پھیلتی ہوئی آبادیاںسفید فام نسلوں کے تیزی سے مٹ جانے کے خوف میں مبتلا کر رہی ہیں،

مغرب کے اہل دانش سمجھتے ہیں اگر یہاں پاپولر جمہوریت اور اوپن مارکیٹ اکنانومی کے نظام کو مزید پچاس سالوں تک قائم رکھا گیا تو بہت جلد دوسرے براعظموں سے نقل مکانی کر کے آنے والے باشندے مملکت کے اقتدار اعلی پہ فائز اور ملٹی نشنل کمپنیاں یوروپ و امریکہ کے قومی وسائل پہ کامل تسلط پا کر انکی تہذیبی اور سیاسی برتری کا خاتمہ کر دیں گی،کچھ عرصہ قبل سیاہ فام صدر بارک اوباما اور اب انڈین اوریجن کی کاملا حارث کی بطور نائب صدر کامیابی اسی رجحان کی غماضی کرتی ہے۔55 سالہ کاملا حارث کی ماں ہندو اور والد پروٹسٹنٹ عیسائی تھا،اس نے 2014 میں ایک یہودی سے شادی کی تھی۔فطرت کے ہاتھوں مٹ جانے کے اسی خوف نے امریکہ مقتدرہ کے اندر جمہوری آزادیوں،بنیادی انسانی حقوق اور مارکیٹ اکنامی سسٹم سے نجات کی جس سوچ کو پروان چڑھایا،پچھلے چار سالوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسی سوچ کی ترجمانی کرتا

دیکھائی دیا ۔امریکہ جسے دنیا پہ حکمرانی کا موقعہ ملا، خود کو عقلی قومیت کا نقیب اورگلوبل ہیومین سوسائٹی کے قیام کا علمبردار سمجھتا تھا، حالات کے جبر نے اسے انسانیت کی حامل ہمہ گیر گلوبل سوچ کو ترک کر کے امریکی نشنل ازم کے تنگ دائروں،نسل پرستی کے عمیق تعصب اوراستبدادی طرز حکمرانی کی حرکیات میں پناہ تلاش کرنے پہ مجبور کر دیا،اسی مقصد کے حصول کی خاطر صدرٹرمپ نے دنیا کے سرمایا اور ذرائع ابلاغ پہ کامل تصرف رکھنے والے یہودیوں کی مدد حاصل کرنے کی خاطر اسرائیلی مفادات کو آگے بڑھانے کیلئے کھلے عام مسلمانوں کی حق تلفی پہ اتر آئے تھے، اسلامی تہذیب کو پیچھے دھکیلنے کی خاطر انہوں نے دنیا بھر میں چُن چُن کے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں اور لیڈرز کو دہشتگردی کا لیبل دیکر ٹھکانے لگایا،تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی صدر نے غیرجانبداری کو پش پشت ڈال کے مظلوم فلسطینیوں کی دلجوئی کی خاطر تراشے گئے ”دو ریاستی نظریہ”کو پامال کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ کو یروشلم منتقل کر کے عیسائیت،یہودیت اور اسلام کی مشترکہ میراث کو اسرائیل کی جھولی میں ڈال دیا،

اسی صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاوس نے دباو ڈال کے متحدہ عرب امارت اور لیبیا سے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرانے کے علاوہ سعودی عرب جیسی لیڈنگ مسلم مملکت اور صیہونی ریاست کے مابین غیر معمولی قربتوں کی راہ ہموار بنائی۔حیرت انگیز طور پہ گزشتہ دس سالوں کے دوران امریکی دانشوروں کے ذریعے جمہوریت اور سرمایا دارانہ نظام سے نجات کی خاطر مغربی معاشروں میں چین کے استبدادی نظام کو آئیڈیلآئز بنانے کی مہم شروع کرائی گئی،جس سے دنیا بھر کی مہیب آمریتوں اور استبدادی حکومتوں کو توانائی ملی،صدر ٹرمپ کی اِسی پالیسی کی بدولت آمرانہ حکومتیں جمہوریت کے متلاشی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباو سے نکل کے ہر جگہ گروہی کشمکش کی شدت کو بڑھانے لگیں۔

چین کی تلویث سے دنیا بھر میں انسانی آزادیوں کو محدود کرنے کی خاطر وبائی امراض کے خوف کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا،جس کی تصدیق امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کرتے ہوئے بتایاکہ ” آج ،جمہوریت 1930 کی دہائی کے مقابلے میں زیادہ دباؤ میں ہے۔ فریڈم ہاؤس کی رپوٹ کے مطابق 1985 سے 2005 تک مستقل طور پر ”آزاد” درجہ بندی کرنے والے 41 ممالک میں سے 22 ملکوں میں گذشتہ پانچ سالوں کے دوران سیاسی آزادی میں خالص کمی ریکارڈ کی گئی۔ہانگ کانگ سے لیکر سوڈان تک اور چلّی سے لیکر لبنان تک شہری ایک بار پھر ہمیں ایماندارانہ طرز حکمرانی کے فروغ اور بدعنوانی سے نجات کی مشترکہ تڑپ کی یادہانی کرا رہے ہیں۔

ایک جعلی وبائی مرض(کورونا) کی لہر بدعنوانی اور ظلم کو ہوا دیکر انسانی وقار کو مجروح کرنے کا وسیلہ بن رہی ہے اور یہی جعلی وبا(کورونا) بے رحم آمریتیوں کو پوری دنیا میں جمہوری قوتوں کو منقسیم اورسماج کو کمزور بنانے کے لئے طاقتور سے آراستہ کررہی ہے۔چنانچہ ایک بار پھر دنیا کی جمہوری ریاستیں اقوام متحدہ بن کے کھڑے ہونے کے لئے امریکہ کی طرف دیکھنا چاہتی ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ ”پہلے سال کے دوران ، ریاستہائے متحدہ اپنی میزبانی میں دنیا کی آزاد اقوام کے جذبے اور مشترکہ مقصد کی تجدید کے لئے عالمی سمٹ برائے ڈیموکریسی کا انعقاد کرائے گی۔جس کے ذریعے اپنے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے علاوہ ایمانداری سے پسماندگی کا شکار اقوام کو مدد دینے کے مشترکہ ایجنڈے کی تشکیل کے لئے دنیا بھر کی جمہوری قوتوںکو اکٹھا کیا جائے گا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ تین شعبوںکی تعمیر نو کو اپنی اولین ترجیح بنائے گی جن میں،

بدعنوانی کے خلاف جنگ، آمریت کے خلاف جمہوری آزادیوں کا دفاع اور اپنی اقوام میں انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہو گا اور میں عالمی مالیاتی نظام میں شفافیت لانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر کوششوں کی رہنمائی کے علاوہ ناجائز ٹیکس کے خاتمہ اور پناہ گزینوں کے حقوق کی خود پیروی کروں گا”۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ”جمہوریت کے فروغ کے لئے ہونے والے اجلاسوں میں دنیا بھر سے سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی شامل ہوں گی جو جمہوریت کے دفاع میں ہر محاذ پر کھڑی نظر آتی ہیں،سمٹ کے ممبران نجی شعبہ کی ان کمپنیوں کو ریگو لیٹ کرنے پہ بحث کریں گے،جس میں ٹیکنالوجی اورسوشل میڈیا کی کمپنیاں شامل ہیں

،جن کو جمہوری معاشروں میںآزادی اظہار کے تحفظ کی خاطر اپنی دلچسپی اور ذمہ داریوں کو قبول کرنا چاہئے تاکہ کوئی بدنیتی پر مبنی جھوٹ کو پھیلانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کمپنیوں کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ان کے ٹولز اور پلیٹ فارمز کہیں شہریوں کی نگرانی کے لئے ریاست کا ہتھیار اورشخصی رازداری کو متاثر تو نہیں کر رہے؟چین اور دوسری جگہوں پر جبر کی سہولت تو نہیں دیتے، نفرت اور غلط اطلاع پھیلانے والے لوگوں کو تشدد کی طرف راغب تو نہیں کررہے ، یا کسی دوسرے غلط استعمال کی شکار تو نہیں ہیں۔

ریاستہائے متحدہ کی جمہوری بنیاد کو تقویت پہنچانے کے لئے ان ضروری اقدامات کے بعد میں دنیا بھر کے اپنے ساتھی جمہوری رہنماؤں کو جمہوریت کی مضبوطی کو عالمی ایجنڈے میں شامل کرنے کی دعوت دوں گا”۔تاہم نو منتخب صدر جوبائیڈن کے ان خوبصورت ارشادات کے باوجود حقیقت واقعہ میں کسی جوہری تبدیلی کے آثار دیکھائی نہیں دیں گے کیونکہ جس طرح دوہزار سولہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب کرانے کے لئے روسی مداخلت کے الزامات سامنے آئے تھے،بالکل اسی طرح اس دنیا کی مثالی جمہوریت پہ ہارنے والے سابق صدر ٹرمپ نے انتخابی عمل پہ نہیں بلکہ پہلی بار اپنی ملکی اسٹبلشمنٹ پہ دشمن ملک روس اور چین کے ساتھ ملکر انہیں شکست سے دوچار کرانے کے الزامات لگاکے جمہوریت کی ساکھ کو برباد کر ڈالا،پاکستان جیسے ممالک،جہاں ہر الیکشن میں دھاندلی کی گونج سنائی دیتی ہے،

وہاں بھی ہارنے والی پارٹی نے کبھی ملکی مقتدرہ پہ دشمن ملکوں سے ملکر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد نہیں ہوئے لیکن امریکہ میں اب ریاستی مقتدرہ پر دشمن ممالک کے ساے سازباز کر کے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کو نہایت سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں