مساجد سے محبت 16

مساجد سے محبت

مساجد جنت کے باغ ہیں
مساجد بیت اللہ کی شاخیں ہیں (سبحان اللہ)

ارشاد باری تعالی ہے: یہ مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں، نہ تم پکارو، اللہ کے ساتھ کسی کو، مساجد ان جگہوں کوکہاجاتاہے جہاں انسان اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوتاہے مساجد بیت اللہ شریف کی شاخیں ہیں قیامت کے دن تمام مساجد کو بیت اللہ شریف کے ساتھ ملا کر جنت کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ مسجد اللہ تعالی کا گھر ہوتی ہیں۔ اس پر خرچ کرنا، اسے پاک صاف رکھنا، اس میں جا کر عبادت کرنا، اور اس سے محبت رکھنا اللہ تعالی سے محبت رکھنے کی دلیل ہے ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ: بے شک وہی آباد کرتا ہے اللہ تعالی کی مسجدیں جو اللہ پر یقین رکھتا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جوشخص مسجد سے الفت رکھے، اللہ تعالی اس سے الفت رکھتے ہیں،

انسانی فطرت ہے کہ اسے جس جگہ سے محبت ہو، اس کا دل چاہتا ہے کہ اس کا زیادہ وقت زیادہ وہاں گزرے۔ مومن مسجد میں آکر اس طرح پرسکون ہو جاتا ہے جیسے بچہ ماں کی گود میں آکر پرسکون ہو جاتا ہے، نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: مومن مسجد میں ایسے ہی ہے جیسے مچھلی پانی میں، اردو زبان میں ماہی بے آب کا فقرہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے مچھلی پانی سے جدا ہو کر جس طرح تڑپتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، جبکہ چھلی ساری عمر پانی میں رہے، تب بھی اس کا دل نہ بھرے، یہی حال حقیقت میں مومن کا ہوتا ہے کہ وہ مسجد میں رہ کر پرسکون ہوتا ہے اور مسجد سے جدا ہو کر مضطرب ہوتاہے، مومن باوضو ہو کر مسجد کی طرف چلتا ہے تو اس کے قدموں کے نشان پر نیکیاں لکھی جاتی ہیں

۔ اور اس کا دل اس طرح خوش ہوتا ہے کہ وہ مسجد میں رہ کر پر سکون ہوتا ہے اور مسجد سے جدا ہو کر مضطرب ہو تا ہے مومن با وضو ہو کر مسجد کی طرف چلتا ہے تو اس کے قدموں کے نشان پر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کا دل اس طرح خوش ہوتا ہے جس طرح دولہا اپنی بارات کے ساتھ خوش دلی کے ساتھ چلتا ہے دولہا کو اپنی زوجہ سے جسمانی ملاپ نصیب ہونے پر خوشی ہوتی ہے جبکہ مومن کو مسجد میں نماز ادا کر کے اپنے پروردگار اسے روحانی ملاپ ہونے پر خوشی ہوتی ہے اسی لئے تو نبی علیہ السلام فرماتے تھے اے بلال ہمیں راحت و اور نماز کے متعلق فرمایا کرتے

.ترجمہ. میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے دنیاداری کا نفسانی تعلق رکھنے والے عشاق (عاشق) کے لئے محبوب کی گلی سے گزرنا، اس کے مسکانکی طرف دیکھنا اور اس کے مکان کے گرد چکر لگانا باعث طمانیت ہوتا ہے مومن بھی مسجد کی طرف چلنا اور مسجد میں وقت گزارنے کو دلی سکون کا باعث محسوس کرتے ہیں۔ نبی علیہ السلامنے اندھیرے میں چل کر مسجد میں جانے والوں کو خوش خبری بھی سنائین حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا اندھیروں میں مسجدوں کی طرف چلنے والوں کو قیامت کے دن کے کامل نور کی خوش خبری دی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے حق سات آدمی اللہ تعالی کی رحمت کے سائے میں ہوں گے۔

ان میں ایک وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا ہو گا، مشقت کے وقت وضو کرنا اور مسجد کی طرف قدم اٹھانا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں (مسجد میں) بیٹھے رہنا، گناہوں کو دھودیتا ہے ایک اورحدیث میں ہے کہ مسجدیں جنت کے باغ ہیں حدیث بمارکہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی فرمائیں گے کہ میرے پڑوسی کہاں ہیں فرشتے پوچھیں گے کہ آپ کے پڑوسی کون ہیں۔ ارشاد ہو گا کہ مسجدوںکو آباد کرنے والے، حدیث مبارکہ ہے کہ جب آسمان سے کوئی بلا نازل ہوتی ہے تو مسجد کے آباد کرنے والوں سے ہٹا لی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں