15

ابھی دودھ کا دودھ، پانی کا پانی نہیں ہو سکا

آئی جی کراچی کے اغواء اور مرضی کا فیصلہ کرانے سے متعلق پاک فوج کی رپورٹ تو آگئی ذمہ داروں کا تعین بھی کر دیا گیا۔ انہیں عہدوں سے ہٹا کر مزید کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا گیا، مگر یہ کافی اس لئے نہیں کہ یہ پتہ کرنا ضروری ہے کہ ان پر عوام کا دباؤ تو ممکن ہی نہیں، البتہ کسی اہم عہدے پر فائز شخصیات کا دباؤ یقینی ہے، سپہ سالار افواج جنرل قمر جاوید باجوہ کا فیصلہ اور اقدام حوصلہ افزاء ہے۔ پی پی پی نے اس کا خیر مقدم بھی کیا ہے تاہم مسلم لیگ (ن) مطمئن نہیں ہے کیونکہ اس کے خیال میں صدر ومملکت وزیراعظم گورنر سندھ اور ان کے کئی ساتھی ملوث ہیں لہذا کوئی ایسا راستہ نکالنا ہو گا کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے۔

نئے پاکستان کے نئے خان نے جو دھمکی دی تھی اس کا یہ نتیجہ ہو سکتا ہے کوئی اور ہاتھ نہیں آیا تو صفدر اعوان کو ہی ہدف بنا لیا گیا صوبہ سندھ میں اسلئے کہ پی پی پی کو بد نام کر کے پی ڈی ایم میں ذراڑبھی ڈالی جا سکے لیکن ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش نا کام ہو گئی حقائق سے پردہ ہٹانا اور صداقت منظر عام پر لانا گریز ہے۔

یہ واقعہ پی ڈی ایم بالخصوص میاں محمد نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے بیانئے بکو تقویت دے گیا کہ ریاست کے اوپر بھی ریاست ہے اور جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا انہوں نے فوج واپوزیشن کو باہم متصادم کرنے کی ناپاک جسارت کی جبکہ مقتدر لوگوں نے بھیانک اقدام کی مذمت کرنے کی بجائے اسے جائز گردانا صرف اسلئے کہ مسلم لیگ (ن) سے صفدر اعوان و مریم نواز سے عداوت و حسد ہے وزیر اعظم نے اسے صوبہ سندھ کی فوج کے خلاف اور حکومت وفوج کو لڑانے کی سازش قرار دیا مگر فوج کی تحقیقاتی کمیٹی نے حکمرانوں کی حقیقت کھول کر رکھ دی حیرت ہے کہ اہل اقتدار شرمندگی وخفت اور سب کی محسوس کرتے الٹا بیباکی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ڈھپٹ پن کی انتہاء اور ہٹ دھرمی کی حد ہے صورتحال ملا حظہ فرمائیے ۔

وزیر اعظم اقتصادی اعشاریوں کے اوپر جانے اور مہنگائی نہ ہونے کا دعوی کر رہے ہیں جبکہ وفاقی شماریتی بیورو کی رپورٹ کے مطابق گرانی پڑی ہے۔

حتی کہ خبر یہ ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے سبب کاروباریوں کے صدارب روپے ڈوب چکے ہیں وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مریم نواز سماجی طور پر خواتین کے احترام کا نا جائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔

اور دو دن بعد وفاقی وزیر امور گلگت و بلتستان علی امین گنڈہ پور مریم نواز کے خلاف نے لب کشائی کر دی جسے بیحد ناپسند کیا گیا، حکمرانوں کی حکمرانی کا طریقہ کار اپنی نوعیت کی منفرد انداز فکر وسوچ کا شاہکار ہے۔ سیاسی آداب خوب دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں جمہوری اقدار کا جنازہ نکالاجا رہا ہے۔

سماجی روایات کو روندا جا رہا ہے جو منہ میں آئے بیان کر دیا جاتا ہے جو دل میں آئے اسے باہر انڈیل دیا جاتا ہے جو دماغ میں آجائے اسے اگل دیا جاتا ہے۔ سوچنا سمجھنا، ناپنا، تولنا اور پھر بولنا سب سے عاری ہیں۔پس ایک ہی دھن سوار ہے کہ اپوزیشن کے بخئے ادھیڑنے ہیں۔

اس کا گریبان چاک کرنا ہے اس کے کپڑے پھاڑنے ہیں اسے برہنہ کرنا ہے چنانچہ اپنی حیاء ہی اتار کر رکھ دی گئی ہے۔ احساس کو بے موت مار دیا ہے۔

سنجیدگی کا دور دور تک نام نہیں۔ شرمساری سے بیزاری ہے۔ خداجانے وزیر اعظم کو کیسے خیال آگیا کہ وزیر داخلہ کو وزیر دفاع کے ہمراہ خان عبد الغفار خان مرحوم کے در پر معافی مانگنے بھیج دیا ورنہ گردن میں موجود سریا نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا، پہلوں نے تو کرپشن کی اور بربادی کر دی مگر موجودہ کی کارکردگی اس سے زیادہ نہیں کہ سابقین کو نیچا دکھائیں۔ جیلوں میں ڈالیں، عدالتوں کے چکر لگوائیں۔ باغی، غدار اور بدعنوان قرار دیں، ان کے کئے کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔ دولت لوٹی کس نے اور سزا کسے دی جا رہی ہے؟ پس یہی تبدیلی، نیا پاکستان اور نیا خان ہے۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں