جسمانی اور پٹھوں کی صحت اور دماغی صحت کے درمیان مضبوط تعلق کا انکشاف 51

جسمانی اور پٹھوں کی صحت اور دماغی صحت کے درمیان مضبوط تعلق کا انکشاف

لندن: وسیع پیمانے پر کئے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر دل، پٹھوں، عضلات اور جسم کی فٹنیس کا تعلق براہِ راست دماغی صحت سے ہوتا ہے۔ اگر انسان فٹ نہ ہو تو اس کی دماغی صحت بھی شدید متاثرہوسکتی ہے۔

دوسری جانب جسمانی طور پر فٹ نہ ہونے سے خود نفسیاتی اور دماغی عوارض مثلاً ڈپریشن اور انزائٹی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس تحقیق میں 150,000 افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ آخری نتائج کے مطابق اگر قلب و سانس کی کیفیت بہتر ہے، انسانی پٹھے (مسلز) مضبوط ہیں تو پھر دماغی صحت بھی اتنی ہی اچھی ہوگی اور اگر جسمانی کیفیت کمزور ہوں گی تو اس کا اثر دماغی صحت پر بھی پڑے گا۔

طب میں اکثر کہا جاتا ہے کہ صحت مند جسم ہی صحتمند دماغ کو جنم دیتا ہے۔ اب لاکھوں افراد پر کئی گئی یہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں جسمانی تندرستی اور دماغی صحت کے درمیان تعلق تو دریافت ہوا ہے لیکن مزید کئی سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں جسمانی سرگرمی، تندرستی اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا ایک وسیع ڈیٹا بیس کئی برس تک دیکھا گیا ہے۔ پورا ڈیٹا بایوبینک سے لیا گیا ہے۔ اس میں 40 سے 69 سال تک کے برطانوی، اسکاٹ لینڈؑ اور ویلز کے باشندوں کی قلبی اور سانس (کارڈیو ریسپائریٹری) صحت اور ذہنی صحت کے ڈیٹا پر غور کیا گیا۔ مطالعے سے پہلے اور بعد میں انہیں چھ منٹ تک جامد ورزشی سائیکل پر بٹھا کر ان کے سانس اور دل کی کیفیت معلوم کی گئی۔

اس کے علاوہ ان کے ہاتھوں کی گرفت پر بھی تحقیق کی گئی۔ سات سال بعد شرکا سے دوبارہ رابطہ کیا گیا اور ان سے سوالنامے پوچھے گئے جو ڈپریشن اور اینزائٹی کے متعلق تھے۔ اس طرح معلوم ہوا کہ جن شرکا کی جسمانی صحت خراب تھی ان میں ڈپریشن، اداسی اور مایوسی کا عنصر اسی تناسب سے زیادہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں