لگڑبگوں کے غول نے سوتے شخص کو گھسیٹ کر ہلاک کرڈالا 81

لگڑبگوں کے غول نے سوتے شخص کو گھسیٹ کر ہلاک کرڈالا

مبابوے: لگڑ بگوں کے خونخوار غول نے اپنی جھونپڑی میں سوئے ہوئے شخص کو 1000 فٹ تک گھسیٹا اور اسے بھنبھوڑ کر مارڈالا۔

یہ خوفناک واقعہ زمبابوے کے ایک گاؤں میں رونما ہوا جہاں 87 سالہ ٹینڈائی ماسیکا گارے اور گھاس سے بنی جھونپڑی میں سورہا تھا۔ آدھی رات کو لگڑبگوں نے اسے بستر سے کھینچا اور کئی سو فٹ دور لے گئے اور وہاں اس پر تیزدانتوں سے حملہ کرکے اسے ہلاک کردیا۔

کچھ دیر بعد گاؤں والے شور سے بیدار ہوئے اور انہوں نے اسے تلاش کیا تو گھر سے کئی سو میٹر دور اس کی لاش ملی جس کا اوپری نصف حصہ غائب تھا۔ زمبابوے کے وسط میں واقع دیہی علاقے چیرومانزو میں رونما ہونے والے اس واقعے کے بعد محکمہ جنگلی حیات نے جانوروں کی تلاش شروع کردی ہے تاکہ انہیں ختم کیا جاسکے۔

زمبابوے کی وائلڈ لائف اتھارٹٰی کے ترجمان تیناشے فاراوو نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیرومانزو میں ستاسی سالہ بزرگ کو لگڑ بگوں نے حملہ کرکے مارڈالا ہے۔ وہ اپنی جھونپڑی میں سورہے تھے کہ یہ دلخراش واقعہ رونما ہوا اور جانوروں نے 300 میٹر تک انہیں گھسیٹا۔ جسم کو گھسیٹنے اور خود چوپایوں کے نشانات سے ظاہر ہے کہ انہیں گھر سے دور لے جایا گیا تھا۔

اس علاقے میں بکریوں اور مویشیوں پر حملے بڑھ گئے ہیں اور لگڑ بگوں کو ان کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ٹینڈائی ماسیکا کی تدفین کے بعد انتظامیہ نے لوگوں کو گھروں کے دروازے بند رکھنےاور رات کے وقت ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے۔ جنگلی حیات کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں بصورتِ دیگر انہیں آبادیوں سے دور منتقل کرنے پر ایک عرصے سے غور ہورہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سال خشک سالی کا راج ہے اور اسی بنا پر خونخوار جانور اب آبادیوں میں گھس آئے ہیں۔ محتاط اندازے کے بعد بوڑھے شخص پر کم ازکم چھ لگڑ بگوں نے حملہ کیا تھا۔ اس سال پورے زمبابوے میں ہاتھیوں نے 30 افراد مارڈالے ہیں۔ تین افراد شیر کے شکار ہوئے ہیں اور ایک واقعے میں میاں بیوی بھی لگڑبگوں کا نوالہ بنے چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں