خود کار ڈرافٹ 87

حکمرانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد میدان چھوڑنا گناہ کبیرہ ہے، فضل الرحمان

پشاور: سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کےخلاف اعلان جنگ کرچکےہیں اور میدان جنگ سے واپس جانا گناہ کبیرہ ہے۔

پشاور میں حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پی ڈٰ ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کا جلسہ حکومت کے خلاف خیبر پختون خوا کے عوام نے ریفرنڈم کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کرنےوالےکوبھی جانتےہیں۔ فوج کا ادارہ دفاع کے کام سے کام رکھے۔ آپ دھاندلی کریں وہ جرم نہیں ہم بات کریں توآپ خفاہوں؟ ہم آپ کو مہلت دیتے ہیں کہ اس حکومت کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔
سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھ اکہ دوسال کے عرصے میں حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ جب ملک کی معیشت مستحکم نہیں رہتی تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ چند روز پہلے ہی اسٹیٹ بینک نے بیان جاری کیا ہے کہ 1951 کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی شرح نمو اعشاریہ چار فیصد پر آگئی ہے۔ اس پر کہتے ہیں کہ معیشت کی بہتری کے اشارے مل رہے ہیں میں پوچھتا ہوں یہ اشارے کہاں سے مل رہےہیں؟

انہوں نے کہا کہپی ڈی ایم کےجلسوں سےحکمران اور ان کے پشتی بان بوکھلائے ہوئےہیں۔ ان کو یہاں سے ذلت و رسوائی کے ساتھ نکالنا ہے۔ ہم اعلان جنگ کرچکے ہیں اور اب میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی وجہ سے پاکستان تنہا ہوچکا ہے۔ آج دنیاکاکوئی ملک ہم سے تعلق رکھنے کوتیارنہیں۔ ایک وقت تھا کہ بھارتی وزیراعظم واجپائی نے لاہور آکر کر پاکستان کو بطور حقیقت تسلیم کیا۔ صرف اس لیے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط تھی اور وہ ہم سے تجارت چاہتے تھے۔ افغانستان آج آپ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار ن ہیں اورا ایران پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی لابی میں چلاگیاہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چین کے ساتھ ہماری ستر سالہ دوستی ہے لیکن آج ہم نے پاکستان میں ا کی 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو برباد کردیا۔ امریکا کے اشارے پر اور ایک ٹرمپ کے کہنے پر دوسرے ٹرمپ نے سی پیک کو ناکام بنایا۔ امریکیوں نے ٹرمپ کومستردکیا،پاکستان کے عوام اس ٹرمپ کومستردکریں گے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ تم اپنے قوم کی نظر میں بھی ناقابل اعتبار ہو اور دنیا کی نظر میں بھی ناقابل اعتبار ہو۔ یہ قوم جانوروں کی قوم نہیں جس پر تم جیسے حکمرانوں کو اقتدار جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کی باتیں کہاں ہیں۔ آج بلوچ، سندھی، پختون اور پنجابی رو رہا ہے۔ اقتدار میں آنے سےپہلے کیا انہوں نے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش نہیں کیا تھا؟ عمران خان نےمودی کےوزیراعظم بننےکی دعائیں کیں۔ عمران خان نےکہامودی کامیاب ہوگیاتوکشمیرکامسئلہ حل ہوجائےگا۔ انہوں نےکشمیریوں کی قربانیوں کامذاق اڑایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں