جولائی تا دسمبر: تجارتی خسارہ 15 ارب ڈالر ریکارڈ 65

جولائی تا دسمبر: تجارتی خسارہ 15 ارب ڈالر ریکارڈ

کراچی: رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ تقریباً 15 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 8 فیصد زائد ہے۔

گذشتہ روز پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا جنوری تجارتی خسارہ 14.96 ارب ڈالر رہا جو مالی سال 2019-20 کی اسی مدت کے مقابلے میں8 فیصد زائد ہے۔ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 13.82 ارب ڈالر تھا۔

ادارہ شماریات کے مطابق جنوری 2021ء میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 2.60 ارب ڈالر رہا۔ جنوری کے مہینے میں درآمدات اور برآمدات کے مابین فرق یعنی تجارتی خسارہ 21 فیصد اضافے سے 2.60 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ اس کی اہم وجہ صنعتی اور زرعی سرگرمیوں کے لیے درآمدات میں اضافہ تھا۔

ادارہ شماریات کے مطابق جنوری میں درآمداتی حجم4.73 ارب ڈالر رہا جو گذشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں15 فیصد زیادہ ہے۔ اگرچہ گذشتہ ماہ کے دوران برآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا مگر یہ درآمدات کی نسبت کم تھا۔ جنوری میں برآمدات گذشتہ ماہ کی اسی مدت کے مقابلے میں 8 فیصد اضافے سے 2.13 ارب ڈالر رہیں۔ جنوری 2020ء میں 1.97 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئی تھیں۔

اس سلسلے میں ’’ ایکسپریس ٹریبیون‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اﷲ طارق نے کہا کہ رواں مالی سال کے باقی 5مہینوں میں تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے، کیوں کہ ترقی پذیر ممالک میں معاشی بحالی کا سلسلہ بتدریج زور پکڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صنعتی منصوبوں کے لیے رعایتی قرضوں کی وجہ سے مشینری کی درآمدات میں اضافہ ہوگا۔ بینک مارچ 2020سے اب تک 3 کھرب روپے کی فنانسنگ کی منظوری دے چکے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت گندم اور چینی کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے ان اجناس کی درآمد کا سلسلہ بھی جاری رکھے گی۔

سمیع اﷲطارق کے مطابق فروری مارچ کے بعد برآمدات میں گراوٹ کی توقع ہے، کیوں کہ دھاگہ جو ٹیکسٹائل کا خام مال ہے وہ مہنگا ہوچکا ہے۔

دوسری جانب انڈیا اور بنگلادیش میں بھی صنعتی سرگرمیاں شروع ہورہی ہیں۔ ان دو عوامل کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات پر اثر پڑسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں