سندھ کنارے کا ترابی 82

سندھ کنارے کا ترابی

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو آج پچاسی 85 برس بعد بھی اس تحریک سے حدت لے رہے ہیں اور اس حدت سے سماج کے لہو کو بھی گرمانا چاہتے ہیں جس کا نام انجمن ترقی پسند مصنفین ہے۔ اس کے صوبائی صدر ایڈووکیٹ ثنا اللہ شمیم صاحب نے انجمن ترقی پسند مصنفین کو ڈیرہ کی سطح پر جس طریقے سے منظم اور جس طریقے سے ڈھانچہ تشکیل دیا ہے، قابل ستائش ہے۔ اس انجمن میں سرائیکی، پشتوکے شاعر اور ادیب بھی وہی عزت و تکریم رکھتے ہیں جو اردو والے رکھتے ہیں، اس لحاظ سے انہوں نے تنظیم کو کسی ایک زبان کا فرقہ نہیں بنا ئے رکھا اور نہ ہی وہ اسے ایسی متعصبانہ تنگ نظری سے چلانا چاہتے ہیں۔

دوسری دلچسپ بات جو مجھے انجمن ترقی پسند مصنفین ڈیرہ اسماعیل خان والوں میں اچھوتی اور اچھی لگی کہ وہ اسے فقط ادبی تنظیم تک ہی محدود نہیں رکھ رہے
بلکہ فنونِ لطیفہ کی ہر شاخ کو سنوارنے اور سجانے کا کام کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے ضلعی سرپرست جناب حفیظ اللہ گیلانی، صدر سید ارشاد حسین شاہ و دیگر عہدیداران موسی کلیم دوتانی، احسان بلوچ، زبیر بلوچ اور معروف ادیب و قلمکار عنایت عادل نے ڈیرہ اسمعیل خان کے سپوت جو نہ صرف ممتازسینئر صحافی، کالم نگار ادیب، دانش ور ہی نہیں بلکہ محقق، سماجی کا رکن اور انسان دوست شخصیت جناب ابوالمعظم ترابی صاحب کی خدمات کی ستائش، ان کے قلمی سفر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیئے ان کے اعزاز میں ایک بہت ہی شاندار، منفر داور تاریخی نشست کا اہتمام کر کے مثال قائم کی اور اس بات کا ثبوت دیا ہے

کہ ڈیرے وال اپنے محسنوں کو یاد رکھتے ہیں۔ علامہ اقبال یونیورسٹی کے کشادہ کانفرنس ہال میں سامعین اور ان کے چاہنے والوں کی بھرپور شرکت ببانگ دہل یہ اعلان کر رہی تھی کہ ابوالمعظم ترابی ایک بے حد اہم اور ایسے معبتر صحافی ہیں جنہوں نے اردو صحافت کو ایک اعلی معیار اور وقار بخشا ہے۔ جنہوں نے صحافت کو کبھی تجارت نہیں سمجھا، بلکہ عبادت، ریاضت اور مشن کے طور پر قبول کیا۔ ابوالمعظم ترابی ایک ایسے زیرک صحافی، قلمکار اور ادیب ہیں جو سیاسی، سماجی، تعلیمی، معاشرتی، اقتصادی ادبی اور لسانی مسائل کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔عشروں سے شہر ِ ڈیرہ میں جو ظلم و ستم، جور و جبر، استحصال و استبداد، زمینداری، تعلقداری اور جاگیرداری کے نفرت انگیز حادثات اور واقعات دیکھتے چلے آ رہے ہیں،

ان سب نے مل کر ان کے دل و دماغ اور قلم میں شعلے بھر دئے اور جب جب ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ان کے سامنے ہوتا ہے، ان کے اندر کا شعلہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ اپنے قلم کو شمشیر برہنہ کی طرح لے کر ان کے خلاف نبردآزما ہوجاتے ہیں اور ماہر سرجن کی طرح اس ناسور کو اپنی قلم کی دھار سے کاٹ ڈالتے ہیں۔ مصلحت پسندی، مفاد پرستی اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر اور ظلم و استبداد کے خلاف بھڑکنے والی اپنے اندر کی آگ کی اور اپنے داخلی اور خارجی احساسات و جذبات کی اس انداز سے وہ اپنے کالموں میں ترجمانی کرتے ہیں کہ قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان کے دل کی آواز ہے۔ ابوالمعظم ترابی ہمیشہ غربت، افلاس، سیاسی و سماجی نا ہمواری اور استحصال کے خلاف لکھتے ہیں، مصلحت پسندی سے کبھی کام نہیں لیا، اپنے قلم کا کبھی سودا نہیں کیا۔ ہمیشہ حکمران وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کیں، کبھی کسی سے خوف ذدہ نہیں ہوئے، دھمکیوں سے بے پرواہ ،ہمیشہ سچ بولتے اور لکھتے ہیں۔

آپ کی لازوال فنی، صحافتی، ادبی و سماجی خدمات کی صرف انجمن ترقی پسند مصنفین یاایک زمانہ ہی معترف نہیں ہے بلکہ آنے والے نونہالانِ قوم بھی اسے یاد رکھیں گے۔ ابوالمعظم ترابی ایسے کالم نگار ہیں جن کی تحریریں وقت کے ساتھ بوڑھی نہیں ہو رہیں، یہ ایسے لکھاری ہیں جو حالات حاضرہ کے موضوع پر بھی لکھیں تو ادب کا تڑکا لگا کر لکھتے ہیں جس سے کئی برس بعد بھی اِن کے کالم کی تازگی برقرار رہتی ہے۔ اِن کی تحریروں میں ایسی روانی ہوتی ہے کہ بندہ بے اختیار پڑھتا چلا جاتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے اپنی تحریر کے جادو سے انہوں نے قاری کو جکڑلیا ہو۔ کیونکہ یہی سچ ہے

کہ سچا اور سچاکالم نگار طاقتور کے خلاف لکھنے کی ہمت کرتا ہو، کوئی بھی کالم نگار چاہے وہ صاحب اسلوب ہی کیوں نہ ہواورکتنی ہی خوبصورت نثر کیوں نہ لکھتا ہو، اگر طاقتور کے خلاف نہیں لکھتا بلکہ الٹا طاقتور کے ایما پر ظاہری حکمرانوں کو ٹھاپیں لگا کر مرد مجاہد بنا پھرتا ہے تو دراصل وہ ہوا میں تلوار چلاتا ہے، اس کی تحریریں اٹھا کر دریائے سندھ میں پھینک دینی چاہییں۔ابو المعظم ترابی نے اپنے کالموں، تحریروں، سماجی کاموں سے پوری ایک نسل کو متاثر کیا اور ان سے فیضیاب ہونے والے صحافی آج مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ ابوالمعظم ترابی صاحب خوش خلق ہیں، بردبار و متحمل طبع شخص ہیں، صلحِ کل اور باغ و بہار طبیعت کے مالک ہیں۔ ان کے مزاح میں بھی ایک نتیجہ ہوتا ہے، چوٹ ہوتی ہے۔ ایک دن کہنے لگے یار عمرانی! لگتا ہے

جیسے جیسے میری عمر بڑھتی جا رہی ہے، ویسے ویسے میری طاقت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ میں نے حیران ہو کر کہا وہ کیسے؟ کہنے لگے آج سے چند سال پہلے میں سو روپے کی چینی بڑی مشکل سے اٹھا پاتا تھا، پر آجکل میں آسانی سے اٹھا لیتا ہوں۔ ان کی عام باتوں میں بھی مدیرانہ، ادیبانہ اور نقادانہ رنگ جھلکتا ہے۔ ایک دفعہ کھانا کھا رہے تھے۔ گلزار احمد صاحب نے شکایت کی کہ یار عمرانی! سالن میں سے بٹن نکلا ہے۔ ابوالمعظم ترابی صاحب نے پلیٹ کی طرف دیکھ کر کہنے لگے، گلزار صاحب کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ یہ بٹن نہیں مٹن ہوگا۔مجھ نا تواں پر ان کی عنایات اور التفات میرے استحقاق سے بھی بڑھ کر ہیں۔ ان کے ہاتھوں مجھے ہمیشہ اپنائیت کی نوید ملی ہے۔ وہ اس قدر خوش خصال ہیں کہ ان کی صحبت میں گزرنے والے طویل لمحات بھی پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں