وزیر اعظم صاحب اب اپنے گریبان میں جھانکئے 61

وزیر اعظم صاحب اب اپنے گریبان میں جھانکئے

علماء کرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اپنا گھسا پٹا جملہ دہرایا ہے کہ وزیر اعظم ووزراء چور ہوں تو ملک تباہ ہو جاتا ہے، وزیر اعظم صاحب کو اب دوسروں پر انگلیاں اٹھا کر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے، مذکورہ جملہ کسی اور پر ہی نہیں اب تو ان پر ہی صادق آرہا ہے ملک تباہ ہے، لوگ پریشان ہیں۔ بلا تفریق احتساب ہو سکا نہ چوروں سے لوٹی ہوئی قومی دولت واپس ہو سکی اور نہ ہی کرپشن کا خاتمہ یقینی ہو سکا مگر پھر بھی دوسروں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی اور ان کا میڈیا ٹرائل روزوں پر ہے۔

اپنے خطاب میں مخالفین کو ہی کوسا، ان کے خوب لتے لئے ریاست مدینہ اور فاطمہ نامی خاتون کی چوری اور آقائے دو جہان کے عدل کا واقعہ بھی دہرایا مگر جہانگیر ترین سمیت دیگر معاونین کی چوریوں پر ان کے ہاتھ کاٹنا تو درکنار بال بیکا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کر دیئے، وعدہ خلافیوں کی قطاریں بنا دیں، عہد شکنیوں کے مینار قائم کر دیئے مگر خود کو پھر بھی سچا، کھرا اور عہد وفا نبھانے والا باور کرانے کی سعی ناکام کر رہا ہے۔ فوج کے ترجمان نے اپوزیشن کا نام لے کر نہیں کہا کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے مگر حکمران بیان کو اسی طرف پھیر کر اپوزیشن کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوج سے رابطے اور ملاقاتیں کرنے کے انکشافات حکومتی شخصیات ہی کرتی ہیں

تو انہیں بھی فوج کے ترجمان کا بیان یکطرفہ نہیں دو طرفہ سمجھنے کی ضرورت ہے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی چاہئے کہ واضح کر دے کہ دونوں اطراف سے کئے جانے والے دعووں میں سچائی نہیں فوج کے موقف کو مقتدر قیادت اپنے حق میں استعمال کرے تو یہ بھی قومی ادارے کو سیاست میں ملوث اور بدنام کرنے کی حرکت ہے۔ سینٹ الیکشن کے حوالے سے عدالت عظمٰی کو بے قاعدہ انداز میں شریک کر کے عدلیہ کو بھی اپوزیشن کے نشانے پر رکھنے کی کاوش کی گئی ہے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو غیر جانبدار رہنے کی بجائے حکومتی پارٹی کا اسپیکر بنا دیا گیا ہے، وزیر اعظم کی انا پرستی کے باعث اسپیکر بھی حزب اختلاف کے تیروں کا ہدف بن رہے ہیں۔ غریبوں کو ٹیکسوں سے بچانے میں مخلص ہیں تو یوٹیلٹی بلز میں سے فاضل ٹیکسز ختم کر دیں۔

پٹرول اور پٹرولیم مصنوعات پر لاگو زائد محصولات کا خاتمہ کر دیجئے۔ اشیاء وخورد ونوش اور دیگر اشیاء صرف نافذ جنرل سیلزٹیکس واپس لے لیجئے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا سد باب کیجئے۔ آپ تیل، بجلی، گیس کے نرخ اور ٹیکسز بڑھاتے جائیں اور پھر امید دلائیں کہ مہنگائی سے نجات دلائیں گے یہ قطعا ممکن نہیں۔ رشوت وسفارش کے بغیر کام نہ ہو۔ انصاف نہ ملے۔ روزگار کے لئے لوگ مارے مارے پھریں اور کوئی سبیل نہ ہو، کچھ بھی تو ٹھیک نہیں۔ بنیادی ضروریات سے ہی لوگ محروم ہو رہے ہیں، پناگاہیں صرف رہائش تک محدود ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھکاریوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ پیشہ ور تو تھے ہی مگر تعداد میں بے تحاشا اضافہ اس حقیقت کا عکاس بھی ہے کہ مہنگائی، گرانفروشی، اور بے روزگاری نے کھاتے کماتے لوگوں کو بھی دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔

بیمار ہونے کی صورت میں ادویات کی خریداری پہلے ہی بیحد مشکل تھی لیکن اب تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ گرانی نے حکیموں کا علاج بھی عام لوگوں کے لئے
مہنگا کر دیا ہے، وزیر اعظم کب تک خود فریبی میں مبتلاء رہیں گے اور عوام کو کتنے تک سبز باغ دکھاتے رہیں گے؟ قانون سازی سخت کرنے سے تو اغواء کاری، تاوان کی طلبی، بھتوں کی وصولی، عورتوں اور بچوں کے ساتھ جبری جنسی زیادتی نہیں رک سکی۔ پھانسی دیجئے۔ جیل کے اندر یا سرعام مگر قانون کے عملی نفاذ سے خوف پیدا ہو سکتا ہے امریکہ ویورپ اپنی ریاستوں کے دشمنوں اور اپنے سماج ک یدرندوں کو تو سزائے موت دینے میں عار محسوس کرتے ہیں نہ دیر لگاتے ہیں اور پاکستان پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ پھانسی غیر انسانی عمل ہے جبکہ غازی ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد پر خوش ہوتے ہیں ہزاروں مجرمین منتظر ہیں کہ انہیں سزائے موت کا مزا چکھایا جائے مگر مغرب کا ڈر ہے کہ پابندیاں عائد کر دے گا۔ اگر عمران خان بھی ڈرتے، جھکتے اور دبتے ہیں تو ان کے پیشرووں کا ہی کیا قصور تھا؟ ملکی آزادی اور قومی مختاری تو آج بھی امریکہ، یورپ اور آئی ایم ایف کے پاس رہن رکھی ہوئی ہے۔ کوئی کیسے مان لے کہ تبدیلی آچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں