نماز کے اسرار ورموز ، مشاہدات ومکاشفات 64

نماز کے اسرار ورموز ، مشاہدات ومکاشفات

بزرگ فرماتے ہیں کہ نماز کے خشوع میں بھی اکثر جمیعت رونما ہوتی ہے اکثر اوقات جب اپنے آپ میں مقید ہ وجاتا ہوں ت آفتاب وماہتاب کے شعلہ کی طرح نظر آتا ہے حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی اس کے ادراک ہو جاتا ہوں، آپ جان لیں کہ جو حالت نماز میں حاصل ہتی ہے بہت عمدہ ہے اور یہ جو آپ خود ک آفتاب کا شعلہ پاتے ہیں ہو سکتا ہے بقاء کے آثار ہوں، اور یہ نورحیات کا ہو جو کہ موت پر مترتب ہوتی ہے جیسا کہ آیت کریمہ ہے ترجمہ: کیا ایسا نہیں ہے کہ جو شخص مردہ تھا، پھر ہم نے اس ک زندہ کر دیا اور اس کے لئے ہم نے نور بنا دیا، اس کی خبر دینے والی ہے آپ نے لکھا تھا کہ بعض نمازوں میں ایسی حالت پیش آتی ہے

کہ گویا فقیر اس طرح کلام کرتا ہے کہ کوئی حجاب وپردہ درمیان میں نہیں رہا ہے اور مست وبے خود ہو جاتا ہے کہ نماز کو بھول جاتا ہے اسی اثناء میں خوود پر قابو پا کر ہوش میں آتا ہے اچانک رقت وعاجزی غالب آجاتی ہے ۔ اے سعادت آثار، یہ کیفیت جو آپ کو پیش آتی ہے ایک اعلی کنیت اور مبارک حالت ہے، (ایسا) یوں نہ ہو ہ نماز مومن کی معراج ہے جو کیف وذوق کہ نماز سے پیدا ہوتا ہے، وہ تمام اذواق وکیفیات سے ممتاز ہے، اور چونکہ نماز میں قرآن مجید کی تلاوت بھی شامل ہے اور حدیث شریف میں فرمایا گیا ترجمہ (جو شخص یہ چأہے کہ اپنے رب سے کلام کرے تو اس کو چاہئے کہ قرآن مجید پڑھے) کے مطابق قرآن مجید کی تلاوت کرنا (گویا) اپنے پروردگار کے ساتھ بات کرنا ہے خاص طور پر جو تلاوت کہ نماز میں واقع ہو وہ اور ہی درجہ رکھتی ہے اور بہتر ثمرہ لاتی ہے ۔

نیز اگر نماز میں حجاب کا رفع ہونا محسوس کرے تو مناسب ہے اور حدیث پأک میں وارد ہوا ہے کہ نماز میں وہ حجاب اٹھا لیا جاتا ہے جو بندہ اور پرودرگار کے درمیان ہے نماز ایک دلربا محبوب ہے، جب نماز کے باطن پر اس کے جمال باکمال کا پر تو پڑتا ہے اور اس کے حسن وخوبی کا ظہور ہوتا ہے تو قریب ہے کہ اس (نمازی) کو مست وبے خود کر دے۔ ارو اس کو از خود رفتہ بنا دے، اور جب اس کے انوار سے متصف اور اس کے زیور سے آراستہ ہو جاتا ہے تو اپنے آپ کو نور پاتا ہے گویا تمام اشیاء میں عارف جلوہ گر ہے ۔

حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نماز میں تھے کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور جب ہوش میں آئے تو ان سے دریافت کیا گیا انہوں نے فرمایا کہ میں قرآن مجید کی ایک آیت کو بار بار پڑھ رہا تھا یہاں تک کہ میں نے اس آیت کو اس ے متکلم (اللہ تعالی) سے سنا (مکتوبات معصومیہ دختر سوم مکتوب ٩٣، ص ١٦٠) آپ نے لکھا تھا کہ اکثر اقات فرض ونفل نماز میں قسم قسم کے انوار اور طرح طرح فیوض اس حد تک ظاہر ہوتے ہیں کہ (یہ عاجز نماز کے ارکان میں سے) جس رکن میں پہنچتا ہے اسی میں محو ہو جاتا ہے۔ اور تمام حرکات وسکنات کو نماز وغیرہ میں دیکھنے والا (راقم) اپنی طرف منصوب نہیں پاتا، اور لفظ انا کسی وقت خیال میں نہیں آتا، میرے مخدوم، یہ تمام احوال سنجیدہ اور کیفیات پسندیدہ ہیں اللہ تعالی ترقیات کے دروازوں ہمیشہ کھلا رہے،

اور یہ جو آپ نے اس کے بعد لکھا ہے کہ بعض واردات جو پیش آتی ہے تقریر وتحریر میں نہیں سماتیں کہ یہ واردات مرتبہ مقدسہ غیب ذات سے پیدا ہوئی ہے کہ اس مرتبہ حصہ جہل وعدم تمیز ہے، کیونکہ جس جگہ علم وتمیز کی گفتگو ہے وہ صفات شیون واعتبارات سے پیدا ہوتی ہے جب معاملہ غیب الغیب سے پڑتا ہے اور اصول وشیون کی تمیز نہیں رہتی تو جہل وحیرت بڑھ جاتی ہے ترجمہ (جس نے اللہ تعالی کو پہچان لیا اس کی زبان گونگی ہو گئی) مقولہ اس مقام کے حال کی خبر دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں