میرے بھائی صاحب: 50

میرے بھائی صاحب:اویس توحید

میں لگ بھگ دو برس کا تھا تو میرے والد کا انتقال ہو گیا تھا لیکن یتیم ہو نے کا احساس اپنے بڑے بھائی کی موت کے روز ہوا۔ نام نجیب، میرے نانا ”بابو جی“ جو خود ایک لٹریری شخصیت تھے انھوں نے مصر کے معروف لکھاری نجیب محفوظ سے متاثر ہو کر رکھا۔ گھر میں بڑے پیار سے انجم پکارتے اور ہم چھوٹوں کے لیے ”بھائی صاحب۔“

ننھیال میں نئی نسل کی پہلی اولاد تو ان کی پرورش ناز نخروں کے ساتھ ہوئی۔ لیکن بچپن سے نوجوانی کے میرے سارے نخرے یا یوں کہیے آوارہ گردی والے سارے شوق بھی انھوں نے میری محبت میں پورے کیے یا پھر برداشت کیے۔

والد کے جلدی انتقال سے جہاں ہمارے خاندان سے مالی آسودگی نے بے رخی اختیار کی وہاں بھائی صاحب کے نوجوان کاندھوں پر ہم سب کی ذمہ داری آن پڑی۔ میڈیکل کالج میں داخلہ سے انکار کیا، انیس بیس برس کی عمر میں اسکول ٹیچنگ کو ترجیح دی۔ والد لاڑکانہ کے ایک معروف استاد تھے اور خاندان کا اثر رسوخ بھی تو ابتدائی ملازمت حاصل کرنے میں دشواری نہ ہوئی۔ سائنس کے مضامین کو ترک کیا اور انگریزی میں ماسٹرز کر کے خاندان کی مالی حالت اور مستقبل کی بہتری کے لیے باہر جانے کی ٹھانی۔

تیونس جو لگ بھگ دو دہائیوں قبل فرانس سے آزادی حاصل کر چکا تھا۔ ستر کی دہائی میں حبیب بو رقیبہ کا دور تھا، بھائی صاحب نے کئی سال وہیں پڑھایا۔ واپسی پر ہماری والدہ ”ممی“ کو فون کیا کہ کچھ رقم بچائی ہے لے آؤں یا دوستوں کے ساتھ گاڑی میں یورپ گھوم پھر لوں۔ ہماری ممی نے کہا دنیا دیکھ لو پھر موقعہ ملے نہ ملے۔ اپنے خاندان میں بھائی صاحب اور میں نے اپنی والدہ سے آج کے لیے بھی زندہ رہنا سیکھا۔ میری والدہ اور والد مستقبل مستحکم کرنے کی وجہ سے شاید اپنے حال میں وہ خوشیاں سمیٹ نہ سکے جن کی خواہش رکھتے تھے۔

خیر بھائی صاحب پچیس چھبیس سال کی عمر میں آدھی دنیا گھوم کر واپس لاڑکانہ لوٹے۔

مجھے یاد ہے۔ خوشی کے آنسو اپنی والدہ کی آنکھوں میں۔ محلے والوں سے گھر بھر ہوا تھا۔ پڑوس کی نوجوان لڑکیاں بھائی صاحب کے گرد گھیرا ڈالے ہوئی تھیں۔ انگریزی موسیقی گونج رہی تھی۔ بھائی صاحب کے بڑے بڑے بال، جینز اور اس وقت کے فیشن کے طرز کی جسم سے چپکنے والی شرٹ، حلیہ ستر کی دہائی کے انقلاب سے متاثر زدہ لگ رہا تھا۔

انکے سامان سے تحائف زیادہ نہ نکل سکے، بہانہ بنایا کہ سامان اٹلی کے ٹھگوں کی نذر ہو گیا۔ جس پر ہم ہمیشہ بھائی صاحب کو مذاق کا نشانہ بناتے تھے۔ مگر ”معجزہ“ دیکھیے میرے تحائف محفوظ رہے۔

زندگی کا پہلا کیلکولیٹر، پہلی جینز اور ایک پاکٹ ریڈیو۔ بچپن سے نوجوانی تک کی آسائشوں کا سہرا محبت میں اور غالباً میری بگڑی ہوئی عادتوں کو نامعلوم منزل کی طرف جانے سے روکنے کی خاطر بھائی صاحب کو ہی جاتا ہے۔

سب یاد ہے۔

مجھے ہمیشہ سے اچھے برانڈز کے کپڑے، اور اسپورٹس ویئر کا مہنگا شوق تھا۔ اگر پہچان ہو جیب میں پیسے بھی نہ ہوں تو لنڈا بازار سے بہتر جگہ کوئی نہی۔ کپڑوں کو ڈرائی کلین کرانا اور جوتوں کو سرف اور برش سے دھونا۔ بھائی صاحب جب اپنی نیوی کی ملازمت میں تین سال کے لئے باہر گئے اور پہلی مرتبہ واپس آئے تو وہ سارے برانڈز ساتھ تھے جنھیں میں صاف ستھرا کر کے استعمال کرتا تھا۔

میرے پسندیدہ مہنگے ترین برانڈز اور وہ بھی نئے پہلی مرتبہ۔

بچپن میں میرے لئے کہانیوں کی کتابیں لا کر دینا، اسکول میں پہلی سائیکل کے لئے مجھے بازار لے کر جانا۔ جوانی میں دن رات سڑکوں پر دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی اور کرکٹ کے جنون کے دنوں میں موٹر سائیکل دلانا اور پھر یونیورسٹی میں کار لے کر دینا۔ میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ سگریٹ بھی انھی کی جیب سے نکال کر پی۔

میرے خاندان میں سارے کزنز کی ڈاکٹر، انجینئر، بیوروکریٹ بننے کی تیاریاں، پڑھائیاں اور دوسری طرف میں جسے صرف کہانیوں کی کتابیں، تاریخ کا مطالعہ اور آوارہ گردی سے لگاؤ تھا۔ بس اپنے من سے زندگی جینے کی لگن تھی۔

خاندان والوں کو میرا حال اور مستقبل دونوں ہی ڈگمگاتا ہوا نظر آتا تھا۔ قصہ مختصر کہ شادی اور ملازمت سے قبل میں نے بیشتر وقت دوستوں کی آوارہ گرد سنگت یا بھائی صاحب، بھابھی ندرت اور بچوں حارث اور حبا کے ساتھ ہی گزارہ ہے۔ حبا اور حارث تو اب خود بچوں والے ہو گئے ہیں۔

بھائی صاحب میرے دوستوں کے ساتھ خوب گپ شپ لگاتے۔ اخبار دی نیوز میں جب پہلی ملازمت کی تو رتجگے زیادہ ہو گئے۔ اخبار کو پرنٹنگ پریس رخصت کرنے کے ساتھ ہی دوستوں کی محافل کا ایک ٹھکانہ بھائی صاحب کے گھر میں میرا کارنر والا کمرہ ہوتا تھا۔

مہینے کے ابتدائی دنوں میں لگژری ہوٹل کی لابی، مہینے کے وسط میں برنس روڈ کے وحید کے کباب اور نہاری اور آخری دنوں میں گھر میں بھابھی کے ہاتھوں کا بنا ہوا سالن روٹی۔

صحافت میں آمد سے میرے دوستوں کا دائرہ وسیع ہوا۔ وسعت اللہ، عباس ناصر، احمد شاہ، محمد حنیف ہوں یا قطرینہ حسین یا کمال صدیقی، مظہر عباس، حسن مجتبیٰ، جاوید سومرو یا ناز سہتو یا جگری یار منان سب سے بھائی صاحب کا اپنا ایک تعلق بنا۔ میرے سندھی بولنے والے دوستوں کے ساتھ خوب کچہری لگاتے اور سندھی زبان پر اپنی لٹریری دسترس کی تعریف سن کر محظوظ ہوتے۔

میری طرح انہیں اپنے آبائی شہر لاڑکانہ سے تعلق پر ہمیشہ فخر محسوس رہا۔ آنجہانی کامریڈ سوبھو گیان چندانی، بھٹو صاحب، کھوڑو صاحب کے سیاسی قصہ کہانیاں اور لاڑکانہ شہر کے پرانے زمانے کی یادوں کا ذکر اکثر اپنی گفتگو اور تحریروں میں کرتے۔

بھائی صاحب کو کتابیں پڑھنے اور انھیں اپنی لائبریری کے شیلف میں سجانے کا جنون تھا۔ اصول تھا کمائی کا دس سے پندرہ فیصد کتابوں کی خریداری میں جانا ہے۔ پبلشنگ ہاؤسز سے ڈسکاونٹ لینا اور ہر کتاب پر دستخط اور تاریخ لکھنا ضروری عمل ہوتا۔ ان کی لائبریری میں کچھ کتابیں مجھے محسوس ہوا کہ میری ہیں لیکن اس پر بھائی صاحب کے دستخط موجود۔ تو جس کا نام کتاب پر، کتاب بھی اسی کی ہوئی بھائی صاحب کا اصول۔

میری ہر تحریر کی اشاعت اور ٹی وی پر پروگرام یا تجزیے کے بعد فون پر بات ہوتی۔ چند برس پہلے جب مجھے بیماری نے آن گھیرا، گھنٹوں میرے ساتھ گزارتے۔ ہم سب گھر والوں نے فیصلہ کیا تھا کہ انھیں سب اچھا کی رپورٹ دینی ہے ورنہ انھیں کون سنبھالتا۔

جب میں کراچی آتا تو ہر اتوار کو ان کے ساتھ ناشتہ ہوتا۔ نیوی میں پچیس برس سروس کی عادت، صبح ہی تیار ہو جاتے اور ساڑھے نو بجے سے انتظار شروع۔ خاندان کے افراد کو اکٹھا کرنا ان کو اچھا لگتا تھا۔ نازش اور مجھ سے گرما گرم بحث ہوتی جس میں ایک موضوع جنرل مشرف کا ہوتا جن کے ساتھ سروس کے دوران ان کی کئی ملاقاتیں رہی تھیں۔ مشرف کی لبرل پروگریسو پالیسیوں کے شیدائی تھے اور معاشرے کے بگاڑ کے لیے ”ملاؤں“ کو مورد الزام ٹھہراتے۔

بھائی صاحب کے خاندان کا ایک حصہ نیوی میں موجود ان کے شاگرد تھے جنھیں انھوں نے نیول اکیڈمی میں پڑھایا تھا۔

پروموشن لیفٹننٹ کمانڈر کے عہدہ کی ہو یا ایڈمرل، شادی بیاہ ہو یا ان کی اولاد کی بیرون ملک تعلیم کا معاملہ، شاگردوں کے ساتھ بہت قریبی تعلق اور رشتہ رکھتے۔ میں نے اپنے شاگرد کہیں یا جونیئر ساتھی ان کے کے ساتھ زندگی بھر کا تعلق رکھنا اور اپنی بساط کے مطابق ان کی ہر لمحے رہنمائی کرنا بھائی صاحب سے ہی سیکھا۔

اتوار کا ہی دن تھا، آخری ملاقات ہوئی۔ چند دن بعد معمولی سی طبعیت خراب ہوئی۔ اور چند گھنٹوں میں ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ کراچی کے نیوی کا قبرستان، کتبہ پر کمانڈر نجیب انجم کی تختی، ہماری سسکیوں میں ان کے شاگردوں کی بھی سسکیوں کی آوازیں شامل۔ سال بیت گیا، ہر اتوار سوچتا ہوں اس اتوار کو کاش چند گھنٹے اور گزار لیتا۔
ختم شد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں