روز محشر کی رسوائی کا خیال ،ناقدری کا انجام 63

روز محشر کی رسوائی کا خیال ،ناقدری کا انجام

ایک نوجوان ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا، کہنے لگا حضرت آپ فرماتے ہیں بدنگاہی سے پرہیز کرو، نوجوان ہوں، بازار سے گزرتے میری نگاہ قابو میں نہیں رہتی کیا کروں، میں اپنی نگاہ کو کیسے کنٹرول (قابو) کروں، انہوں نے کہا میں یہ راز سمجھاؤں گا، شرط یہ ہے کہ میرا کوئی کام کر دو، اس نے کہا جی حضرت فرمائیں، کرنے کو تیار ہوں، فرمایا فلاں جگہ ایک بزرگ بازار کی طرف رہتے ہیں، ان کو یہ دودھ کا پیالہ پہنچا کر آؤ، اس نے کہا، میں پہنچا دیتا ہوں، ایک بات اور بھی ہے کہ دودھ گرنے نہ پائے، اس نے کہا، آپ فکر نہ کریں، دودھ کا ایک قطرہ بھی گرنے نہیں دوں گا، انہوں نے کہا، اچھا ایک بندے کو ساتھ بھیجوں گا،

اگر دودھ گر گیا تو پھر میرا بندہ تمہیں دو تھپڑ وہیں لگائے گا، اس نے کہا حضرت مجھے منظور ہے، بزرگ نے پیالہ دودھ سے بھانپ بھر دیا، اور ایک مضبوط انسان کو بھی ساتھ کر دیا کہ جہاں دودھ کا کوئی قطرہ گرے بھرے بازار میں دو جوتے اس کو لگا دینا، اب یہ صاحب ذرا سنبھل گئے، پیالہ ہاتھ میں لیا، بڑے احتیاط سے چلتے ہوئے، بچتے بچاتے ہوئے بالآخر منزل پر پہنچ گئے۔ اور خوشی کے ساتھ واپس آئے کہ حضرت میں نے دودھ اس بزرگ تک پہنچا دیا ہے۔ آپ اب مجھے نظر کی حفاظت کا طریقہ بتائیں، انہوں نے فرمایا: دودھ تو آپ نے پہنچا دیا مگر یہ بتاؤ کہ آج بازار میں راستہ پر کتنی شکلوں کو دیکھا کہنے لگا، حضرت ادھر دھیان ہی تھا کیوں دھیان ہی نہیں تھا، عرض کیا حضرت دل میں یہ خوف تھا کہ اگر دودھ کا پیالہ چھلک گیا تو ساتھ چلنے والا آدمی بھرے بازار میں جوتے لگائے گا میری رسوائی ہو گی،

فرمانے لگہ، اللہ والوں کا یہی حال ہوتا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر گناہ کے ذریعہ یا اللہ تعالی کی نافرمانی کے ذریعے دل کا پیالہ چھلک گیا تو قیامت کے دن پروردگار کے روبرو رسوائی ہو گی، اس لئے ان کی نگاہ کبھی بھی ادھر ادھر نہیں اٹھتی، جب اللہ رب العزت روٹھ جاتے ہیں تو دن بدلتے دیر نہیں لگتی، جو پروردگار نعمتیں دینا جانتا ہے وہ پروردگار نعمتیں لینا بھی جانتا ہے اللہ سے ہر وقت ڈرتے رہیں، کہ اللہ ہم سے نعمتیں چھین نہ لیں۔ ہم ناقدرے ہیں، ہم نے قدر نہ کی ، ناقدری کا انجام کس قدر خطرناک ہوتا ہے اس کی ایک مثال دیکھئے یہ مغل بادشاہ کے شہزادے نے قدر نہیں کی توانجام کیا ہوا، بہادر شاہ ظفر وقت کا بادشاہ ہے اس کے پاس محل ہے، پری چہرہ بیویاں ہیں۔ خدام ہیں۔ جدھر جاتے ہیں خادمائیں سلامی کرتی ہیں پھر زندگی میں کیا وقت آیا ہتھکڑی لگی ہے گیارہ بیٹوں کے سروں کو کاٹ کر ان کے سامنے رکھ دیا گیا، گیارہ بیٹوں کے سروں کو دیکھ کر دل پر کیا گزری ہو گی، مجبور ہو کر کہہ دیا۔

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں
نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آسکے
میں وہ ایک مثت غبار ہوں
کوئی مجھ پہ پھول چڑائے کیوں
کوئی مجھ پہ آنسو بہائے کیوں
کوئی مجھ پہ دیا جلائے کیوں
میں وہ کسی کا مزار ہوں
میرا رنگ، روپ بدل گیا
میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
جو چمن خزاں سے اجڑ گیا
میں اسی کی فصل بہار ہوں
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں
نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

دوستو، بزرگو بہادر شاہ ظفر ایک شاعر بھی تھا اور مغل خاندان کا ہندوستان میں آخری بادشاہ تھا جب اللہ پاک ناراض ہوئے تو اپنی سب نعمتیں چھین لیں، پھر اس کا یہ انجام ہوا جو بہادر شاہ ظفر یک اپنی ہی غزل میں آپ نے پڑھا، ہماری اوقات ہی کیا ہے ہمیں اللہ پاک نے جن نعمتوں سے نوازا ہے، اس پر صبر شکر نہ کریں، نعمتوں کی بے قدری کریں، جو اللہ کی نعمتوں کی بے قدری کرتے ہیں، میرا کالم میں آپ نے پڑھ لیا ہو گا اب بھی وقت ہے کہ سنبھل جائیں اللہ پاک دی ہو گی نعمتوں پر صبر، شکر کے ساتھ زندگی گزاریں اور پروردگار کی نافرمانی نہ کریں۔ ورنہ یاد رکھو اللہ تعالی بے نیاز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں