ڈی ایس پی ٹانک ہیڈ کواٹر کا حق تھا یا نہیں؟ 69

ڈی ایس پی ٹانک ہیڈ کواٹر کا حق تھا یا نہیں؟

ٹانک کے گرہ کوڑو سے حذیفہ اغواء ہوا جسے اپنے ہی قریبی رشتہ دار قیضار نے تاوان وصول کرنے کی خاطر دو لوگوں کے سپرد کر کے موٹر سائیکل پر بٹھایا ار بچے سے کہا کہ یہ لوگ اسے اس کے والد کے پاس دکان پر پہنچا دیں گے، بچہ بھولا بھالا ہے اس لئے رشتہ دار کی چال میں آگیا اور اغواء کار اسے قریشی موڑ ڈیرہ اسماعیل خان لے آئے۔ بچہ رویا نہ پیٹا، اسے تیسرے شخص کے حوالے کر دیا گیا، وہاں سے بھکر لے جا کر چوتھے شخص کے سپرد کر دیا گیا۔ ٹانک میں احتجاج کا آغاز ہو گیا، بچے کی تلاش شروع کر دی گئی، اغواء کی منصوبہ بندی کرنے والا قیضار بھی ڈھونڈنے اور احتجاج کرنے میں پیش پیش تھا، پولیس کو ڈیڈ لائن دے دی گئی،

آس پاس کے مشتبہ افراد ک حراست میں لیا گیا تو ایک نوجوان نے تفتیش کے دوران سرا پکڑا دیا کہ وہ تو خود ملوث نہیں مگر اغواء بارے علم رکھتا ہے چنانچہ اس نے قیضار کی نشاندہی کر دی، جب اسے حراست میں لیا گیا تو رشتہ داری آڑے آئی لیکن پولیس خاطر میں نہیں لائی کیونکہ قیضار کی گرفتاری اور تفتیش میں شمولیت کے بغیر مقدمہ آگے نہیں بڑھ سکتا تھا، قیضار پر سختی کی گئی اور اس کی ریکارڈ گفتگو سنوائی گئی تو سارا مسئلہ ہی سمجھ میں آگیا، پوری داستان طشت ازبام ہو گئی، پولیس اپنا کام کر رہی تھی اور اغواء کاروں نے ورثاء کو فون کر کے تاوان طلب کر لیا، بچے کے لواحقین نے تیس لاکھ رپے

پر بچے کی بازیابی کا سودا کر لیا پولیس نے اپنی حکمت عملی طے کر کے اور منصوبہ بندی کر لی۔ ایک روز قت اور مقام بتا کر اغواء کار آئے مگر واپسی کا پیغام دے دیا۔ بچے کے لواحقین بھکر کے ہوٹل میں ہی ٹھہر گئے اور پولیس نے بھی واپسی نہیں کی۔ دوسرے روز اغواء کاروں نے قت اور جگہ کا تعین کر کے بلا لیا مگر پیسے لے کر بچہ دے کر ، اس لئے بچ نکلے کہ پولیس نے بچے کو کسی ممکنہ خطرے سے بچانے کے لئے انتہائی احتیاط کی جبکہ اغواء کاروں نے لواحقین سے سب سے پہلے موبائل سیٹ لے کر اپنے قبضے میں کر لیا تاکہ وہ رابطہ کر کے کسی کو ان کے راستے کا پتہ نہ بتا سکیں اور کوئی ان کا تعاقب نہ کرے۔ بہرحال بچہ بحفاظت مل گیا اور پیسے چلے گئے تاہم پولیس نے اپنی ذمہ داری اور فرض سے جان نہیں چھڑائی،

لوگ خوش ہو گئے اطمینان پھیل گیا، پولیس کوکوسنے والے خراج تحسین پیش کرنے لگے، ہار پہنائے گئے، پگڑیاں باندھی گئیں لیکن تاوان کی رقم چلے جانا اور اغواء کاروں کا بچ جانا پولیس کو برداشت نہ ہوا لہذا قریشی مڑ کے ملزم کو پکڑنے کی منصوبہ بندی کی گئی اور کامیابی مل گئی، اس کے ذریعے بھکر کے ملزم کو پکڑا گیا اور پھر آخری ملزم تک پہنچ کر اسے گرفتار کیا گیا بھکر پولیس کو رپورٹ کر کے ملزمان کو منتقل کیا گیا اور ہر ایک ملزم سے تقسیم شدہ رقم بھی وصول کر کے مالک کے حوالہ کر دی گئی۔ وزیر اعلی محمود خان ٹانک کے دورے پر آئے تو ڈی ایس پی ٹانک ہیڈ کوارٹر محمد اقبال بلوچ کو اعزاز سے نوازا،

جس پر سوال اٹھایا گیا کہ اہلکاروں کونظر انداز اور افسر کو یاد رکھا گیا، بلاشبہ این ایچ او اور سپاہیوں کو بھی مدد ونصرت کا پھل ملنا چاہئے مگر اس میں ڈی ایس پی کا کوئی قصور نہیں، بچے کے اغواء کے بعد گرفتاریاں، تفتیش وتحقیق، حقائق سے آگاہی، ملزمان تک رسائی، ایک ایک کر کے حراست میں لینا، پیسہ وصول کرنا اور بچے کی بخیریت بازیابی ڈی ایس پی اقبال بلوچ کی ذاتی حکمت عملی، منصوبہ بندی اور جہد مسلسل کا نتیجہ تھی، ڈی پی او سجاد کو آگاہ رکھا اور آگے بڑھتے رہے اس لئے انہیں جو اعزاز ملا وہ افسران کی سفارش سے ہی ملا ہو گا وزیر اعلی سے ان کا کوئی تعلق، قربت، رشتہ، دوستی ار آشنائی نہیں ہے کہ وہ آئے اور نواز دیا، یہ ان کا حق تھا جو دیا گیا البتہ حقیقی اعزاز وہی ہے جو عوام نے ڈی ایس پی کو بھی دیا، ایس ایچ او کوبھی دیا اور اہلکاروں کو بھی دیا جس کے نتیجے میں محکمہ پولیس کی نیک نامی ہوئی۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں