اک چراغ اور بجھا

پاکستان کی سفارتی تنہائی کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے ۔

تحریر : بلند اقبال بلوچ
شنگھائی تعاون تنظیم کا حالیہ اجلاس منعقدہ سمرقند پاکستان کے لئے انتہائی اہم اجلاس تھا۔ اس اجلاس کے انعقاد سے پاکستان پر خارجی اور داخلی سیاسی حوالے سے دور رس اثرات مرتب ہوئے۔کیونکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سے اپنی بے دخلی کو اپنے دورہ روس کے ساتھ جوڑدیا تھا۔ انہوں نے روس سے دوستی بڑھانے کے رد عمل میں بطور سزا امریکہ پر سازش کا الزام عائد کیا تھا۔

ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو امریکی سازش میں سہولت کار کہا تھا۔ حالانکہ اہل فکر دانش نے اسی وقت اس امریکی سازش تھیوری کو فرضی داستان کہہ دیا ۔ بعد ازاں سمرقند حالیہ میٹنگ نے اسے خود ساختہ کہانی ثابت کر دیا۔ نئی عالمی کشمکش ،صف بندی اورکھینچا تانی کے ہنگام دنیا بھر کی نظریں سمرقند سمٹ پر لگی تھیں۔ عالمی میڈیا نے سمرقند سمٹ کی لمحہ لمحہ کورج کو ممکن بنایا۔ کیونکہ سمرقند سمٹ میں کرہ ارض کی تین عالمی طاقتوں کے سربراہان بہ نفسِ نفیس شریک تھے۔

یورپ ایشیا کے آٹھ ملکوں کی ساڑھے چار ارب انسانی آبادی کے نمائندہ سربراہان جس اجلاس میں شریک ہوں اس اجلاس سے صرف نظر کیونکر ممکن ہے؟ لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ ایس، سی، او کے حالیہ اہم اجلاس کو پاکستانی میڈیا اور تجزیہ کار رائیٹرز نے مکمل نظر انداز کیا۔ ایسے محسوس ہوا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس شہباز گل کی ضمانت اور جیل سے رہائی کے واقعہ سے بھی کم نوعیت کا سیاسی واقعہ ہے۔ ہمارے میڈیا بقر اطوں کی عالمی سیاست کے فارن افیئر میں زیادہ دلچسپی کبھی نہیں رہی۔ ہمارے فہم کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ان کی عالمی سیاست بار ے کم فہمی ہے۔ البتہ سوشل میڈیا نے کسی حد تک تبصرہ آرائی ضرور کی۔ روسی صدر پوٹین اور پاکستانی وزیر اعظم کے مابین ون ٹو ون ملاقات کے بعد پریس بریفنگ میں جب پاکستانی وزیر اعظم اپنے کان میں مائیکروفون لگانے میں ناکام ہوئے اور انہوں نے کہا ”کوئی ہے جو میری مدد کرے”۔

اس موقع پر صدرپوٹین بھی کچھ کہتے ہوئے پائے گئے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر از راہ مذاق یہ تبصرہ ارائی آئی۔ صدر پویٹن کہہ رہے تھے، پاکستانی ہمیشہ خوب تحفے بھیجتے ہیں ۔مشترکہ پریس بریفنگ میں صدر پوٹین کے اظہار خیال میں پاکستان کے لئے نہایت مثبت پیغامات تھے انہوں نے کہا ”پاکستان روس سے سستی گیس خریدنا چأہتا ہے تو روس اس کے لئے بخوشی تیار ہے۔ بلکہ اس کے لئے روس سے سنٹرل ایشیا تک گیس پائپ لائن کا انفا سٹکچر بھی تیار ہے۔ ان کے بقول اسی انفا سٹکچر کو افغانستان اور پاکستانی سرحد کے اندر لے جانے کا مختصر کام باقی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کام کوئی بھاری اور مشکل کام نہیں ہے۔ مگر اس کے لئے بنیادی شرط افغان سرزمین کا امن عمل ہے۔جس کے لئے خطے کے تمام ممالک کو سنجیدگی سے کام کرنا پڑے گا۔

پریس بریفینگ میں وزیر اعظم پاکستان کااظہار خیال بھی پرمغز تھا۔ انہوں نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کا ذکر کیا۔ انہوں نے موجودہ کانفرنس میں شریک ان ممالک کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں میں پاکستان کی مدد کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی پریس بریفنگ میں اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے سمرقند میٹنگ میں شریک ممالک سے سیلاب سے پھیلی تباہی کے لئے کوئی مدد اوربھیک نہ مانگی بلکہ سیلابوں سے بچاؤ اور انفا سٹکچر سازی کے لئے مدد کی اپیل کی اس اپیل کے جواب میں روس چین اور ترکی نے جوابی طور پر مدد کی یقین دہانی کروائی۔ چینی صدر شی جن پنگ اور پاکستای وزیر اعظم کی ملاقات میں دونوں ممالک میں صنعت وزراعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی بہود کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔


اس طرح وسط ایشیائی اہم ممالک ازبکستان تاجکستان اور قزاقستان کے سربراہان سے بھی مفید ملاقاتیں قابل ذکر تھیں۔ بھارتی وزیر اعظم سے وزیر اعظم شہباز شریف کی متوقع ملاقات عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔ جبکہ دونوں وزرائے اعظم نے اپنی اپنی تقاریر کے دوران پاک بھارت متنازعہ ایشوز پر بات سے گریز کیا۔ یہ رویہ اس لئے مثبت تھا کیونکہ پاک بھارت متنازعہ اور اختلافی ایشوز پر بحث مباحثے سے سمرقند سمٹ بدمزگی کا شکار ہو سکتی تھی۔ لہٰذا دونوں ممالک کا طرز عمل سمرقند سمٹ کو بدمزگی سے بچانا تھا۔ روس اور چین کے سربراہان کی ملاقات کی پریس بریفنگ میں دونوں عالمی بڑوں کی تقاریر اور اظہار خیال کا ایک ایک لفظ قابل غوراور بامعنی تھا۔ ان کے الفاظ سے روس اور چین کے مشترکہ ایجنڈے اور حکمت عملی سے یک رنگی جھلکی تھی۔

روس چین کے سربراہان کا موقف تھا کہ دنیا کا پرانا مالیاتی نظام جدید دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے دنیا کو نئے مالیاتی سسٹم اور نیو ورلڈ آرڈر کی ضرورت ہے۔ روس، چین کے صدور کے خیالات اور تقاریر سے دونوں کے اس مشترکہ عزم کی جھلک نظرآئی کہ وہ امریکی حلقہ اثر کے آگے بندباندھنے کا مصمم ارادہ باندھ چکے ہیں۔ اس کانفرنس میں پاکستان کو خطے کی بگ پاورز اور عالمی طاقتوں روس، چین اور بھارت کے مساوی پروٹوکول اور عزت تکریم دی گئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف دوران کانفرنس پرجوش، حد درجہ متحرک اور چاک وچوبند دکھائی دیئے۔ چینی صدر شی جن پنگ جنھیں عالمی سیاسی مدیر مانا جاتا ہے۔ نے پریس بریفنگ میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو عملیت پسند سرگرم ومتحرک سربراہ مملکت کا خطاب دیا میاں شہباز شریف کا سیاسی قد اس کانفرنس میں شرکت کر کے مزید دراز ہوا۔

سمرقند کانفرنس میں پاکستان کی بھرپور شرکت سے سابق وزیر اعظم عمران خان کے امریکی سازش والے بیانیے کو دھچکا لگا۔ اور اس فرضی بیانیے کی ہوا خارج ہو گئی۔ اس کانفرنس سے پاکستان کی طویل مدتی سفارتی تنہائی دم توڑ گئی۔ خطے کے علاقائی ملکوں کے فورم پر پاکستان کی بڑی عالمی قوتوں کے برابر پذیرائی دراصل اس کی غیر معمولی جغرافیائی اہمیت کا برملاعلان تھا۔ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں پرجوش قدر ومنزلت اور پذیرائی امریکی اور یورپی حلقوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ کیونکہ کچھ عرصہ سے امریکہ اور اس کے زیر اثر عالمی مالیاتی اداروں کا رویہ پاکستان کے ساتھ ناپسندیدہ ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں نئی عالمی صف بندی کے نقوش و خد وخال واضح انداز میں دکھائی دیئے۔شنگھائی تعاون تنظیم مستقبل میں” یورو ایشیا” کے ایجنڈے کو پروان چڑھا کر، ون بیلٹ، ون روڈ، اورون کرنسی کے مقاصد کا حصول چاہتی ہے۔ قارئین کرام خطہ براعظم ایشیا دو عالمی طاقتوں روس اور چین کے توسط سے ترقی وتعاون کے حصول کے لئے پرواز بھرنے کو تیار ہے۔ کیا خطے کے ممالک کے اس نیک مقصد قافلے میں پاکستان واقعی شامل ہو گا؟ امریکہ کے طابع فرمان عالمی مالیاتی اداروں کاپاکستان بارے عمومی رویہ اسے روس، چین کے نئے قافلے میں دھکیلنے میں اہم رول ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے، خطے کے علاقاتی ملکوں سے مل کرشنگھائی تعاون تنظیم کی شکل میں پاکستان کے لئے ترقی وخوشحالی کے ،بیش بہا امکانات کا سمندر موجزن ہے۔ ان امکانات کو بروے کار لانے کے لئے ، آئیے دیکھیں ہمارے فیصلہ ساز کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں