jamshed-Alvi column

خواب

تحریر: جمشید علوی

شدت خواہش خواب کا سبب ہے ۔ جو ہم سوچتے ہیں حالت بیداری میں وہ خیال ہے جو حالت نیند میں ذہن افعال سرانجام دیتا ہے جس میں ارادہ کو کم دخل ہوتا ہے وہ خواب ہے ۔جب تک خوا ہشات ہیں خواب بھی رہیں گے ۔

کچھ لوگ خواب کو محض ذہنی فعل سمجھ کر رد کر دیتے ہیں جب کہ کچھ لوگ ان کو مستقبل میں ہونے والے کسی واقعہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔بہت سے لوگ ایسا دعوا بھی کرتے ہیں کہ جو خواب انہوں نے دیکھا وہ حقیقت بن کر ان کے سامنے آیا ۔لہذا وہ خوابوں کی تعبیر پر مکمل یقین رکھتے ہیں ۔شائد ہی کوئی انسان ایسا ہو جس نے کبھی خواب نا دیکھا ہو لیکن جو انسان۔ خواہش رکھتا ہے جو سب ہی

رکھتے ہیں وہ خواب دیکھتے ہیں
ان کا حقیقت سے کیا تعلق ہے ؟

کیا یہ ذہن کی ایسی داخلی کیفیت ہے جس کا معروض سے کوئی تعلق نہیں ؟

یا ماحول میں پیش آنے والے واقعات خواب بن کر نظر اتے ہیں ۔

مذہبی لوگوں کو خواب میں اکثر ان کی کوئی مقدس ہستی نظر آتی ہے جو ان کو ہدایات بھی دیتی ہے اور خواب دیکھنے والا اس حقیقت کو یقینی سمجھتا ہوا اس پر عمل پیرا ہونا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ ایک بات ایسے کلچر میں عام ہو جاتی ہے کہ جب انسان سوتا ہے تو روح جسم سے علیحدہ ہو کر گھومنے نکل جاتی ہے اس لیے اکثر یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ سویے ہوۓ شخص کو ایک دم یکا یک بیدار نہیں کرنا چاہیے کیوں روح کو ایک وقت چاہے جسم تک پلٹنے میں ۔

عورتوں کے خواب مرد کی نسبت اکثر ڈراؤنے ہوتے ہیں اور بہت سے مرد خواب میں خوبصورت عورتوں کو دیکھتے ہیں ۔اکثر مردہ شخص بھی خواب میں نظر آتا ہے جو خوف کی علامت ہے ۔خود کو مردہ بھی دیکھا جاتا ہے جس مراد ہوتی ہے کہ زندگی لمبی ہے ۔یھنی یہ اصول خواب پر منطبق رہتا ہے کہ جو دیکھا اس کا الٹ ہونے والا ہے ۔کسی پہاڑ سے خود کو گرتا دیکھیں تو کہا جاتا ہے ترقی ملنے والی ہے ۔پانی میں ڈوبتا ہوا دیکھا جائے تو تو مطلب علم کی کمی ہےوغیرہم ۔۔۔ خواب کی تعبیر بتانے والے خواب کے وقت کو بہت اہم سمجھتے ہیں ۔نانی اکثر سختی سے کہتی تھی کہ دن کو مت سوو ،کیوں کہ دن کو خواب دیکھنے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں ۔

عینیت پرست خواب کو دنیا کی حقیقت سے انکار پر بطور دلیل پیش کرتے ہیں ۔وہ کہتے یہ دنیا بھی اس طرح دھوکہ ہے جیسا کہ آپ کو خواب میں نظر آتا ہے جب کہ حقیقت میں ہوتا نہیں ۔کوئی آپ کو خواب میں یہ بتایے کہ آپ حالت خواب میں ہیں تو آپ یقین نہیں کریں گے تا وقت کہ آپ کی آنکھ کھل جائے اور آپ جان جایئں کہ وہ حالت خواب تھی ۔اس طرح جب موت تم پر طاری ہو گی تب تم کو معلوم ہو گا کہ دنیا تو محض خواب تھی ۔یھنی آنکھ بند ہو گی تو حقیقی آنکھ نمودار ہو گی ۔وغیرہ وغیرہ

آپ کا خواب کا تجربہ کیا کہتا ہے کیا وہم ہے یا اس کی کچھ حقیقت بھی ہے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں