Abulmuazzam turabi coulmn

رازوں سے پردہ اٹھانے والوں کے مقاصد؟

کالم۔۔۔۔۔سندھ کنارے: ابو المعظم ترابی

جب کسی سیاسی جماعت،اس کے قائد یا رہ نماوں کے راز افشا ہوتے ہیں تو دوسرے تالیاں،ڈھول،خوشی کے شادیانے بجا تے اور جشن مناتے ہیں۔چند دن قبل مسلم لیگ ن کے قائدین کی آڈیو منظر عام پر آئی تو پی ٹی آئی والوں نے بھنگڑے ڈالنا شروع کر دیے اور اب پی ٹی آئی کے قائد و ساتھیوں کی آڈیو منظر عام پر آنے کی خوشی میں مسلم لیگ ن والے پھولے نہیں سما رہے۔

رازوں سے پردہ اٹھانے والے کون ہیں،انہوں نے خود ہی ریکارڈنگ کی ہے یا خریدی ہے؟ بہرحال ایسے لوگوں کے مقاصد،عزائم،ارادے اور خیالات اچھے معلوم نہیں ہو رہے۔وہ ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں۔انہیں پاکستان میں بحرانی کیفیت چاہیے۔وہ وطن عزیز کو کسی بھی لحاظ سے مستحکم و مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے۔وہ پاکسان میں کمزور معیشت،غیر مستحکم جمہوری نظام،سیاست کی بنیاد پر عداوتوں اور قومی انتشار و افتراق کے باعث ملکی بقا اور قومی سالمیت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔خیبر پختون خوا میں فوج و پولیس دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔آئے روز حملے ہو رہے ہیں۔

سیلاب نے سوا تین کروڑ پاکستانیوں کو بےگھر کر دیا۔ان کی مدد و معاونت اور بحالی کٹھن اور صبر آزما عمل ہے۔متاثرین بھوک اور بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منھ میں جا سکتے ہیں۔اقتصادی بحران سے دوچار سرزمین روز بروز تنزلی کی جانب سفر طے کر رہی ہے۔حکمران بےبس و بےکس نظر آ رہے ہیں۔مہنگائی،کساد بازاری،توانائی کے فقدان اور مفلسی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ایسے میں سیاست دانوں کے راز منکشف کرنے کا سلسلہ شر سے خالی نہیں۔مقتدر شخصیات کی گفت گو سے پتہ چلا کہ انہیں قومی و ملکی مفاد کتنا عزیز ہے اور عمران خان و ساتھیوں کی بات چیت سے واضح ہوا کہ وہ اقتدار کی خاطر کس حد تک جا سکتے ہیں؟

رازوں سے پردہ اٹھانے والے سیاست دانوں کو قوم کے سامنے بےنقاب تو کر رہے ہیں مگر یہ بھی چاہ رہے ہیں کہ سیاست دان اتنے بدنام ہو جائیں کہ عوام جمہوریت سے بے زار ہو کر آمریت کو اپنی مدد کے لیے پکارنے لگیں۔اور سیاست دان و سیاسی کارکنان خوش ہیں کہ مخالفین کے راز کھولے جا رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں،سیاست دان اور سیاسی کارکنان پہلے ہی بے پناہ بدنام ہو چکے ہیں۔ان کا کردار اور کارکردگی قوم کے سامنے ہے۔آپس میں اختلافات کو تنازعات میں بدل کر تصادم کرنا اور قومی و ملکی مفاد پس پشت ڈال کر کرسی اقتدار حاصل کرنے کی خاطر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا ان کا طرہ امتیاز ہے۔

عمران خان اور ساتھیوں کی گفت گو نے یہی کچھ ثابت بھی کر دیا ہےکہ کس طرح پاکستانی سفیر کے بھیجے گئے مراسلے کو پی ٹی آئی حکومت گرانے کی امریکی سازش میں بدل کر قوم کو بےوقوف بنانے کی ناکام کوشش کی گئی اور پھر اسی بنیاد پر عدلیہ ،فوج اور مخالف سیاست دانوں کو سازش میں شریک قرار دے دیا گویا امریکا کو تو دوش دیا مگر اپنے کارکنان کے قلوب و اذہان میں فوج و عدلیہ کے خلاف بھی زہر بھر دیا کیوں کہ دونوں اداروں نے عمران خان کی وزارت عظمی بچانے کے لیے بےبنیاد الزام کی تحقیق و تفتیش اور ثبوت و شواہد کے بغیر تائید و حمایت نہیں کی۔

بہرحال ایک سازش وہ تھی جو امریکا اور فوج و عدلیہ نے نہیں کی البتہ عمران خان نے کی جس کا پول فوج و عدلیہ نے بروقت کھول دیا تھا۔اور اب ان کی گفت گو آشکار ہونے سے ثبوت بھی دست یاب ہو چکا ہے لیکن ایسی وڈیوز کا انکشاف بھی کسی سازش سے کم نہیں اور یہ سازش سیاست دانوں کے خلاف تو ہے ہی مگر حقیقت میں پاکستان کے خلاف ہے لہزا سیاسی جماعتوں اور انکی قیادت بالخصوص عمران خان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور کرسی کی بجائے قومی و ملکی مفادات پیش نظر رکھ کر ہی سیاسی فیصلے کرنے چاہئیں ورنہ کچھ نہیں بچے گا اور جب کچھ نہیں بچے گا تو سیاست ہو سکے گی نہ اقتدار مل سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں